بچیوں میں قبل از وقت بلوغت کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ

28 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

خاندان کے مسائل بچیوں میں قبل از وقت بلوغت کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریددے جرنل بی ایم سی پیڈیا ٹرکس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی بچیاں جو پیدائش سے 2 سال کی عمر تک والد اور والدہ کے ساتھ نہیں رہ پاتیں، ان میں والدین کے ہمراہ رہنے والی بچیوں کے مقابلے میں جلد بلوغت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ بچپن میں تناؤ بلوغت کے عمل پر اثرانداز ہوتا ہے، جس سے ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پیدائش سے 2 سال کی عمر تک دونوں والدین کے ساتھ نہ رہ پانے والی بچیوں میں 12 سال کی عمر سے قبل بلوغت کا خطرہ 38 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح 2 سے 6 سال کی عمر تک والد اور والدہ کے ہمراہ نہ رہ پانے والی بچیوں میں یہ خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ 2 سال کی عمر سے پہلے تناؤ کا سامنا بلوغت کے عمل پر لڑکپن میں تناؤ کا سامنا کرنے والی بچیوں پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قبل از وقت بلوغت سے لڑکپن اور جوانی میں ذہنی اور جذباتی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ دیگر بیماریوں جیسے امراض قلب اور بریسٹ کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس تحقیق کا مقصد ماں باپ یا کسی ایک کے ساتھ کے رہنے سے کم عمر بچیوں پر تناؤ کے اثرات کا تجزیہ کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ایسی بچیوں کی شناخت اور مدد کرنے میں مدد مل سکے گی جو قبل از وقت بلوغت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اس تحقیق کے لیے 2003 سے 2010 کے دوران پیدا ہونے والی 26 ہزار سے زائد بچیوں کے الیکٹرونک ریکارڈ کا تجزیہ کیا گیا۔

ان میں سے 2 ہزار سے زائد 2 سال سے کم عمر بچیاں ماں یا باپ یعنی کسی ایک کے پاس رہ رہی تھیں جبکہ 2 سے 6 سال کی 21 سو سے زائد بچیاں ماں یا باپ کے پاس پرورش پارہی تھیں۔

محققین کے مطابق سنگل پیرنٹ والی بچوں میں جسمانی وزن قبل از وقت بلوغت کا باعث نہیں تھا بلکہ دیگر عناصر یسے سماجی و معاشی حیثیت، تناؤ یا بچپن میں پیش آنے والے برے واقعات اس کے عناصر ضرور ہوسکتے ہیں۔

محققین کے خیال میں ایسی بچیوں کا اپنے والدین سے تعلق کی کمزوری قبل از وقت بلوغت میں کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ وہ ذہنی طورپر خود کو غیرمحفوظ سمجھتی ہیں۔

کچھ عرصے پہلے ڈنمارک میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دوران حمل خواتین کی جانب سے دردکش ادویات کا استعمال ان کی بیٹیوں کی قبل از وقت بلوغت کا باعث بن سکتا ہے۔

آراہوس یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر دوران حمل ماﺅں کی جانب سے دردکش ادویات کا استعمال کیا جائے تو ان کی بیٹیوں میں بلوغت کی علامات 10 یا 11 بلکہ اس سے بھی پہلے ظاہر ہوسکتی ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ کسی طبی تحقیق میں دوران حمل دردکش ادویات اور بچوں میں بلوغت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا اور اس کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف Epidemiology میں شائع ہوئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے دونوں کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے اور دوران حمل جتنے ہفتے دردکش ادویات کا استعمال ہوتا ہے، لڑکیوں میں بلوغت کی علامات جلد سامنے آنے کا امکان بڑھتا ہے، تاہم لڑکوں میں ایسا نہیں دیکھا گیا۔