وٹامن ڈی اور مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹ واقعی موثر؟

16 نومبر 2020

ای میل

یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا — شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ مچھلی کے تیل کے کیپسول یا وٹامن ڈی سپلیمنٹس اس توقع کے ساتھ کھاتے ہیں کہ اس سے دل کی صھت بہتر بنانے میں مدد ملے گی تو پیسے خرچ کرنے سے پہلے ایک بار پھر سوچ لیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس توقع کے ساتھ مچھلی کے تیل یا وٹامن ڈی سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں کہ متعدد امراض سے تحفظ مل سکے گا۔

مگر ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان سے دل کی دھڑکن کے ایک عام مرض atrial fibrillation سے کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا۔

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی والا یہ مرض مختلف پیچیدگیوں جیسے خون گاڑھا ہونے، فالج اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

امریکا کے سیڈرز سینائی میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق میں کہا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز یا وٹامن ڈی دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کی روک تھام میں مدد نہیں ملتی۔

تاہم نتائج سے یقین دہانی ضرور ہوئی کہ ان سپلیمنٹس نے اس بیماری کا مجموعی خطرہ نہیں بڑھتا اور ان مریضوں کے لیے محفوظ ہیں جن کو دیگر وجوہات کی بنا پر ان سپلیمنٹس کے استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔

محققین کے مطابق ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں وٹامن ڈی اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے استعمال کے دل کی دھڑکن کے اس عام عارضے کے حوالے فوائد یا نقصان کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا تھا۔

یہ تحقیق 5 سال تک جاری رہی جس میں 25 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمر 50 سال یا اس سے زیادہ تھی جبکہ ان میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کی کوئی تاریخ موجود نہیں تھی۔

انہیں وٹامن ڈی تھری سپلیمنٹس کی روزانہ 2000 آءی یو یا 840 ملی گرام اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال کراکے اس عارضے کے خطرے میں کمی کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق کے دوران 3.6 فیصد مریضوں میں atrial fibrillation کی تشخیص ہوئی، مگر سپلیمنٹس کے استعمال سے دیگر افراد میں اس بیماری کے خطرے میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔

اسٹیٹن آئئی لینڈ یونیورسٹی ہاسپٹل کے ڈاکٹر مچل وینبرگ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، کا کہنا تھا کہ نتائج کچھ حیران کن ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ متعدد افراد ان سپلیمنٹس کی طاقت پر کچھ زیادہ ہی یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہے مگر یہ دعویٰ کہ اس وٹامن کے سپلیمنٹ سے امراض قلب، کینسر اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے، وہ قاتل کرنے والا نہیں، جبکہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کے حوالے سے بھی شواہد موجود نہیں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ مریضوں کو صحت بخش غذا، ورزش کو معمول اور طبی ماہر سے رابطے میں رہنا چاہیے۔

خیال رہے کہ یہ نتائج ابھی طبی کانفرنس میں پیش کیے گئے ہیں اور کسی موقر جریدے میں شائع نہیں ہوئے۔

اس سے قبل مارچ 2020 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس ممکنہ طور پر صحت پر کوئی نمایاں مثبت اثرات مرتب نہیں کرتے، حالانکہ پہلے یہ دعوے سامنے آچکے ہیں کہ ان سے کینسر، امراض قلب اور ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

انگیلا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ یہ سپلیمنٹس فالج، کینسر اور دیگر امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں مگر ان کو روزانہ کھانے سے کسی فرد کی صحت پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

درحقیقت اومیگا تھری فیٹی ایسڈ والے ان سپلیمنٹس کی جگہ مچھلی کو کھانا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے دل اور مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ ایک سال تک لیا گیا جو اومیگا تھری فیٹس ایسڈز کا استعمال سپلیمنٹس یا مچھلی کے گوشت کی شکل میں کرتے تھے۔

محققین نے دریافت کیا کہ اگر ایک ہزار افراد مچھلی کے تیل کے کیپسولز کا استعمال 4 سال تک کرتے ہیں تو اس کے صحت پر اثرات (مثبت یا منفی) نہ ہونے کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق بہت اہم ہے کیونکہ ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ اومیگا تھری سپلیمنٹس اتنے کارآمد نہیں جتنے اشتہارات میں دکھائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پرانی تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ والے سپلیمنٹس بشمول مچھلی کے تیل کے کیپسولز ذہنی بے چینی، ڈپریشن، فالج، ذیابیطس یا دیگر امراض سے تحفظ فراہم نہیں کرتے، درحقیقت ہم نے دریافت کیا کہ ان سے شاید کینسر کا خطرہ معمولی بڑھ سکتا ہے خصوصاً مثانے کے کینسر کا۔

اس تحقیق کے لیے فنڈنگ عالمی ادارہ صحت نے کی تھی جس کا مقصد ان سپلیمنٹس کے فوائد کی جانچ پڑتال کرنا تھی۔