پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد بلوچستان میں کورونا کیسز میں 3 گنا اضافہ ہوا، لیاقت شاہوانی

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2020

ای میل

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں - فوٹو:ڈان نیوز
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں - فوٹو:ڈان نیوز

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ جس طرح عید الفطر کے بعد کورونا کیسز میں اچانک اضافہ دیکھا گیا تھا اسی طرح بلوچستان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد کیسز کی تعداد میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عید الفطر جس ہفتے آئی تھی اس میں 718 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ اس سے گزشتہ ہفتے 792 کیسز تھے تاہم جب انکیوبیشن پیریڈ شروع ہوا تو عید الفطر کے بعد کیسز میں 3 گنا اضافہ دیکھا گیا تھا اور اسی طرح اب بھی پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد 3 گنا اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حوالے سے فیصلہ 23 نومبر کو ہوگا تاہم کوشش ہے کہ 15 دسمبر تک تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے'۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا: پاکستان میں مزید 33 اموات، 2 ہزار 50 نئے کیسز بھی رپورٹ

انہوں نے کہا کہ 'تعلیمی اداروں میں 16 ہزار 550 ٹیسٹ کیے ہیں جس میں سے 5.1 فیصد کے نتائج مثبت آئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ریکوری کی شرح میں بھی کمی آرہی ہے اور کیسز بڑھ رہے ہیں، یہ ایک تشویشناک اشاریہ ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے قبل تک بلوچستان کے کسی بھی ہسپتال میں کوئی بھی کورونا کا مریض نہیں تھا تاہم اب 23 مریض آچکے ہیں اور اگر ایسے ہی صورتحال رہی تو صوبے میں کورونا کا پھیلاؤ تیز ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کی بنیاد پر ہمیں آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہے، عوام سے التجا ہے کہ اگر صورتحال خراب ہوئی تو اس کا منفی اثر حکومت پر، معیشت پر اور عوام پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ بہت پریشان کن صورتحال ہوگی، ماہرین بتارہے ہیں کہ دوسری لہر زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں'۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ٹھنڈے علاقوں میں شادیاں کھلی فضا میں نہیں ہوسکتیں تاہم بند کمروں میں ایس او پیز پر عمل در آمد بہت مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا کورونا وائرس ویکسین کی ایڈوانس بکنگ کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ شادی ہالز کے مالکان سے بات کر رہے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرائیں تاہم آگے جاکر انہیں بند کرنا بھی پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسٹورانٹس اور ہوٹلز کا بھی کاروبار متاثر کرنا نہیں چاہتے، گزارش ہے کہ ایس او پیز پر عمل در آمد کرائیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند روز سے دوسری لہر کے آنے کے بعد کیسز اور اموات میں پھر اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے 2 ہزار 50 کیسز اور 33 اموات کا اضافہ رپورٹ ہوا جبکہ 1010 مریض صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد 29 ہزار 55 تک پہنچ گئی۔