کووڈ پروٹوکولز کی خلاف ورزی، رضا حسن کو قائد اعظم ٹرافی سے نکال دیا گیا

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

رضا حسن رواں سیزن اب قائد اعظم ترافی نہیں کھیل سکیں گے— فائل فوٹو: اے ایف پی
رضا حسن رواں سیزن اب قائد اعظم ترافی نہیں کھیل سکیں گے— فائل فوٹو: اے ایف پی

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اسپنر رضا حسن کو کووڈ-19 پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر قائد اعظم ٹرافی سے باہر کرتے ہوئے گھر بھیج دیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بائیں ہاتھ کے 28 سالہ اسپنر نے بورڈ کے متعین کردہ کووڈ-19 کے پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے انہیں گھر بھیج دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: قومی کرکٹ ٹیم کے 6 اراکین کورونا کا شکار، دورہ نیوزی لینڈ کھٹائی میں پڑ گیا

اسپنر نے طبی ٹیم سے پیشگی اجازت لیے بغیر مقامی ہوٹل میں قائم بائیو سیکیور ببل سے باہر قدم رکھا جس کی وجہ سے انہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا۔

رضا حسن قائد اعظم ٹرافی میں نادرن کی سیکنڈ الیون کی نمائندگی کررہے تھے۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ کووڈ-19 پروٹوکولز کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں متعدد بار یاد دہانی اور ایجوکیشن پروگرامز کے باوجود رضا حسن نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا اور حدود سے تجاوز کیا۔

انہوں نے کہا کہ رضا حسن کو ٹورنامنٹ سے نکال دیا گیا ہے اور اب ان کو قائد اعظم ٹرافی کے جاری سیزن 21-2020 میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔

ندیم خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کووڈ-19 کے شدہ ضوابط پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا، یہ قواعد و ضوابط نہ صرف تمام شرکا کی صحت اور حفاظت کے لیے ضروری ہیں بلکہ دنیا پر یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ ہم تمام ڈومیسٹک مقابلوں کا انعقاد کامیابی سے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اسپنر رضا حسن کے نام پیغام میں کہا کہ رضا کو اپنے غیر ذمے دارانہ رویے کو محسوس کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی سے کرکٹ اور کھیل کو جو نقصان ہوا ہے، وہ اس کا ازالہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: مزید ایک خلاف ورزی پر ٹیم کو نیوزی لینڈ سے واپس بھیج دیا جائے گا، وسیم خان

رضا حسن کو 2012 کے ورلڈ ٹی 20 میں اس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے اپنی عمدہ باؤلنگ سے آسٹریلین بلے بازوں شین واٹسن اور گلین میکسویل کو آؤٹ کردیا تھا۔

البتہ اس کے بعد وہ اپنی کارکردگی کا معیار برقرار نہ رکھ سکے اور صرف 10 انٹرنیشنل ٹی 20 میچ کھیل سکے۔

2015 میں ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ گیا تھا جس کے سبب ان پر دو سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔