مداحوں کی محبت نے ڈیفا ایوارڈ کو میرے لیے خاص بنادیا، سجل علی

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020

ای میل

ڈیفا ایوارڈز کی تقریب دبئی میں 29 نومبر کی شب کو منعقد ہوئی تھی — فوٹو: انسٹاگرام
ڈیفا ایوارڈز کی تقریب دبئی میں 29 نومبر کی شب کو منعقد ہوئی تھی — فوٹو: انسٹاگرام

حال ہی میں معروف اداکارہ سجل علی نے ہر سال ہونے والا ڈسٹنکٹو انٹرنیشنل عرب فیسٹیول ایوارڈ (ڈیفا) جیتا ہے اور وہ یہ اعزاز جیتنے والی پہلی پاکستانی اداکارہ ہیں۔

ڈیفا ایوارڈ معروف عرب فلم فیسٹیول بیروت انٹرنیشنل فلم فیسٹیول منعقد کرنے والی تنظیم کی جانب سے دیا جاتا ہے جس میں عرب اداکاروں، فنکاروں، ماڈلز اور دیگر شوبز شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے، اور عرب دنیا میں مقبول دیگر اداکاروں کو بھی اس ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔

ڈیفا ایوارڈز کی تقریب دبئی میں 29 نومبر کی شب کو منعقد ہوئی تھی، جس میں سجل علی کو بھی ان کی شاندار اداکاری کے باعث ڈیفا ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اور وہ یہ ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی اداکارہ بن گئیں۔

مزید پڑھیں: سجل علی عرب ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

سجل علی نے ڈیفا ایوارڈ جیتنے کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے ایوارڈ کو نہ صرف اپنے لیے بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی اعزاز قرار دیا تھا۔

ڈیفا ایوارڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے سجل علی نے کہا کہ کبھی کبھی میرے مداح مجھ پر حاوی ہوجاتے ہیں، مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ کیا وہ واقعی ہوتا ہے۔

—فوٹو:انسٹاگرام
—فوٹو:انسٹاگرام

انہوں نے کہا کہ ڈیفا کے بعد میں نے سوشل میڈیا چیک کیا اور ہر طرف سے مداحوں کی جانب سے بہت زیادہ محبت کا اظہار کیا جارہا تھا۔

سجل علی نے کہا کہ مختلف جگہوں پر میرے ایوارڈ کے حوالے سے لکھا جارہا تھا لیکن کسی بھی چیز سے زیادہ میرے مداح اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے اس خبر کو میرے لیے ایک اور خاص اعزاز بنادیا۔

انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی سوشل میڈیا پر خاص طور پر پبلسٹی یا خبروں میں آنے کے لیے پی آر کے استعمال پر یقین نہیں رکھتی۔

سجل علی نے کہا کہ میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں کہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اچھے سے اپنا کام کروں اور اسے بہترین انداز میں سرانجام دوں اور اگر لوگ اسے پسند کریں گے تو کچھ کیے بغیر بھی مجھے آگے لے جائیں گے۔

اداکارہ نے کہا کہ یہ میرے لیے بہت خاص ہے کہ جب میں کسی بین الاقوامی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کرتی ہوں تو لوگ پرجوش ہوتے ہیں اور خبریں پھیلانا شروع کرتے ہیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ڈیفا میں شرکت کرنا سجل علی کے لیے دلچسپ تھا کیونکہ انہیں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پہچانا جارہا تھا۔

سجل علی نے کہا کہ 'سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کررہی تھی اور اس کی وجہ سے میں مزید کام کرنا، محنت کرنا اور پاکستان کے لیے فخر بننا چاہتی ہوں'۔

ایک سوال کے جواب میں سجل علی نے کہا کہ وہ تقریب میں نروس تھیں کیونکہ ان کے اہلخانہ ان کے ساتھ نہیں تھے۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ عام طور پر میں اکثر جلدی گھبرا جاتی ہوں۔

سجل علی نے کہا کہ میں اپنے کام کے بارے میں کتنی پراعتماد ہوں اس سے قطع نظر جب اسپاٹ لائٹ مجھ پر ہو اور میں اسٹیج پر قدم رکھنے والی ہوں تو میرا دل زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ یہاں تک کہ جب میری تعریف کی جاتی ہے تو میں کبھی کبھی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہوں یا اسے ناقابل یقین ہی سمجھتی ہوں۔

—فوٹو:انسٹاگرام
—فوٹو:انسٹاگرام

انہوں نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے جب میں اداکاری کر رہی ہوتی ہوں تو میں خوف اور گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتی۔

سجل علی کا کہنا تھا کہ میں اداکاری کے وقت اس کردار میں ڈھل جاتی ہوں جو میں ادا کررہی ہوتی ہوں۔

ڈیفا ایوارڈز میں لباس سے متعلق سجل علی کا کہنا تھا کہ ایسی تقریبات میں عام طور پر پہنے جانے والے گاؤنز کے بجائے میں نے سوٹ کا انتخاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہم سوشل میڈیا ایوارڈز‘ ، احد رضا میر اور سجل علی کی جوڑی مقبول ترین قرار

سجل علی کا کہنا تھا کہ 'یہ ڈریس میرا ذاتی انتخاب تھا اور یہ ڈیزائنر ویئر نہیں تھا'۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں نے کچھ سادہ پہننے کا فیصلہ کیا، جو میں بار بار پہن سکوں، رواں برس ہم سب کے لیے بہت عجیب رہا ہے اور مجھے یہ محسوس ہونا شروع ہوا کہ ہمیں مادی چیزوں جیسا کہ کپڑوں پر توجہ مرکوز کرنے میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

سجل علی نے کہا کہ ہمیں پائیداری کے بارے میں سوچنا شروع کرنے اور اپنی زندگی میں جو چیز اہم سمجھتے ہیں اسے ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔