اپوزیشن بات ہی نہیں کرتی صرف این آر او مانگتی ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2020

ای میل

عمران خان نے کہا کہ پبلک فنڈز چوری کرنے والا برطانیہ میں کوئی میڈیا اور پارلیمان میں نہیں جاسکتا — فوٹو: ڈان نیوز
عمران خان نے کہا کہ پبلک فنڈز چوری کرنے والا برطانیہ میں کوئی میڈیا اور پارلیمان میں نہیں جاسکتا — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو زیر بحث لانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان انہیں این آر او دے دے۔

نجی چینل ’ہم نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک معاشرہ چوروں اور عام لوگوں میں فرق نہیں کرے گا تب تک ترقی نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کو این آر او طرز کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، وزیراعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن والے بات ہی نہیں کرنے دیتے اور این آر او مانگتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا لیکن اپنی صفائی میں 9 مہینے عدالت میں صفائی دیتا رہا اور میں نے عدالت میں منی ٹریل دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر این آر او دینا ہے تو سب سے پہلے مجبوری کی حالت میں لاکھوں روپے کی چوری کرنے والے زیر حراست کمزور افراد کو دیا جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگر وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دوں گا لیکن این آر او نہیں دوں گا۔

'ایک میڈیا ہاؤس، کچھ صحافی نواز شریف کو بچانا چاہتے ہیں'

عمران خان نے میڈیا پر محتاط انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا ہاؤس اور کچھ صحافی ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور وہ عدالت میں چلے گئے اور استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم کو تقریر کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں نے اسے آزادی اظہار قرار دیا جبکہ عدالت نے نواز شریف کو سزا سنائی اور وہ مجرم ہیں جس کے لیے مخصوص میڈیا اپنی وفاداری ظاہر کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آرڈیننس کی شکل میں کلبھوشن یادیو کو این آر او دیا، بلاول بھٹو

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن صرف احتساب کرکے ختم نہیں کی جاسکتی، پورا معاشرہ کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور لندن میں رہائش پذیر اسحٰق ڈار سے متعلق کہا کہ آپ نے اسحٰق ڈار کو دیکھ لیا انہوں نے انٹرویو میں کیا باتیں کیں؟

ان کا کہنا تھا کہ پبلک فنڈز چوری کرنے والا برطانیہ میں کوئی میڈیا اور پارلیمان میں نہیں جاسکتا۔

'ہم اپوزیشن کو جلسے سے نہیں روکیں گے'

وزیر اعظم نے لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر جس کسی نے جلسے کے انتظامات میں حصہ لیا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی، لیکن ہم اپوزیشن کو جانے سے نہیں روکیں گے۔

انہوں نے کہا ہم نے بھی وبا کے باعث اپنے جلسے منسوخ کیے ہیں۔

'ملک میں ریپ جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے'

عمران خان نے کہا کہ ملک میں ریپ جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے، موبائل فون کے غلط استعمال سے معاشرے میں تباہی مچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بہت کم لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تعمیراتی صنعت کو ریلیف سے اصل فائدہ کس کو ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ ریپ کیسز میں ملوث ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دینے کے لیے آرڈیننس موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی لیکن لوگوں کو متبادل اور موثر نشریات دی جاسکتی ہے جس کے باعث معاشرے کی اصلاح ہو۔

'کراچی پیکج پر صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں'

وزیراعظم نے کہا کہ ہم جو کراچی پیکج لے کر آئے ہیں اس پر صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان، فاٹا، گلگت بلتستان پیچھے رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آل پارٹیز کانفرنس: جدوجہد عمران خان کے نہیں انہیں لانے والوں کیخلاف ہے، نواز شریف

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دے دی ہے اور انہیں مرکزی دھارے میں لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لیے فنڈز میں اضافہ کردیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں کبھی اتنا پیسہ خرچ نہیں ہوا جتنا ہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں اوپر اٹھے۔