عثمان بزدار کا 'غیر قانونی' ریلیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2020

ای میل

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ریلیوں کا انعقاد کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرے گی جن کے باعث کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ بیان اسے وقت پر سامنے آیا جب 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) 13 دسمبر کو لاہور میں حکومت مخالف مہم میں ریلی نکالے گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں کورونا وائرس سے اموات کا تناسب سندھ سے زیادہ

میڈیا سے بات کرتے ہوئے عثمان بزدار نے کہا کہ ’ہم سب عدالتوں اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے احکامات کے بارے میں جانتے ہیں، کوئی بھی اجتماع جس کے باعث کووڈ 19 پھیلنے کا خطرہ ہو وہ غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت خاص طور پر کسی کو نشانہ نہیں بنا رہی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’سرکاری اجتماعات میں تمام معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی سختی سے پیروی کی جاتی ہے‘۔

اس سے قبل سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم کو لاہور میں اپنا اگلا جلسہ کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کورونا وائرس دوبارہ سر اٹھانے لگا

انہوں نے کہا کہ ’تاہم اس غیر قانونی (اجتماع) کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، وبائی بیماری کی دوسری لہر انتہائی خطرناک ہے اور پی ڈی ایم کے جلسوں کی وجہ سے کیسز میں اضافہ لوگوں کی زندگی اور معیشت کو خطرے میں ڈال رہا ہے‘۔

ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم کو لاہور ریلی کے انعقاد سے نہیں روکا جائے گا بلکہ سب کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران کووڈ 19 کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مزید کہا کہ لاہور میں انفیکشن کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگئی ہے اور یہ صورتحال ’انتہائی تشویشناک‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے کیسز کی روشنی میں ’پنجاب بھر میں 2 ہزار سے زیادہ جبکہ صرف لاہور میں 625 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کا خطرہ، پنجاب کے 36 اضلاع میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو صوبائی حکومت کے پاس ’انتہائی سخت اقدامات‘ اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔