فواد عالم: جس نے اپنا ہی نہیں، کئی نوجوان کھلاڑیوں کا کیس بھی جیت لیا

01 جنوری 2021

ای میل

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ اگرچہ نیوزی لینڈ کی فتح پر اختتام پذیر ہوا لیکن اس نتیجے سے زیادہ فواد عالم کی اننگ ہر جگہ زیرِ بحث رہی۔

اس اننگ میں فواد عالم 11 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔ فواد عالم کی یہ سنچری ایسے وقت میں سامنے آئی جب فواد ایک اور ناکامی کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ جہاں فواد کے ناقدین ان کی ناکامیوں پر خوش تھے وہیں فواد کے چاہنے والے ان کی ایک اور ناکامی کے خوف میں مبتلا تھے۔ ایک ایسی ناکامی جس کے بعد فواد عالم کا کیریئر شاید ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا۔

فواد عالم کو شاید اس ٹیسٹ میچ میں بھی موقع نہیں مل پاتا اگر بابر اعظم یہ میچ کھیلنے کے لیے فٹ ہوتے۔ پہلی اننگ میں ناکامی کے بعد لگ رہا تھا کہ شاید یہ فواد عالم کا آخری ٹیسٹ ہے، اور یقیناً مزید ناکامی کے بعد ان کے ناقدین یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس بیٹنگ اسٹائل کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا ناممکن ہے، حالانکہ یہ لگ بھگ وہی اسٹائل ہے جس کے ساتھ شیونرائن چندرپال نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار سے زائد رنز بنائے۔

11 سال پہلے فواد عالم کو ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری بنانے کے باوجود صرف 3 ٹیسٹ میچوں میں ہی موقع مل سکا تھا۔ سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم کو بطور اوپنر میدان میں اتار دیا گیا تھا۔ فواد عالم نے دوسری اننگ میں میدان میں قدم رکھا تو سری لنکا کو 150 رنز کی برتری حاصل تھی لیکن فواد عالم نے خرم منظور اور پھر یونس خان کے ساتھ شراکت قائم کرکے پاکستان کو مشکلات سے نکال دیا۔

فواد عالم نے اس اننگ کے دوران 259 گیندوں کا سامنا کیا اور 15 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 168 رنز بنائے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں تمام بیٹنگ لائن ڈھیر ہوگئی اور پاکستان کو ایک مضبوط پوزیشن کے باوجود 7 وکٹوں کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

3 ٹیسٹ کھیلنے والے فواد عالم کو نیوزی لینڈ کے دورے پر ایک ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ یہ بات کبھی کسی نے کہی تو نہیں لیکن سننے میں یہی آتا ہے کہ فواد عالم کو ٹیم سے باہر کرنے کی بڑی وجہ ان کا بیٹنگ اسٹائل تھا۔ ایک ایسا بیٹنگ اسٹائل جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا گیا۔

فواد عالم اور اور محمد رضوان نے 165 رنز کی شراکت قائم کی— فوٹو: اے ایف پی
فواد عالم اور اور محمد رضوان نے 165 رنز کی شراکت قائم کی— فوٹو: اے ایف پی

فواد عالم کے اسی بیٹنگ اسٹائل پر تنقید کرنے والے تو بہت تھے لیکن اس بات پر غور کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں تھا کہ فواد اسی اسٹائل کے ساتھ تسلسل سے ڈومیسٹک کرکٹ میں اسکور بنا رہے ہیں۔ فواد عالم 2013ء میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ فرسٹ کلاس اوسط رکھنے والے بیٹسمین بن گئے اور یہ ریکارڈ آج بھی ان کے پاس ہے۔

لیکن سلیکٹرز، کوچز اور کپتانوں کے ذہن میں شاید یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ فواد عالم ایک ڈومیسٹک کھلاڑی ہے جس کا بین الاقوامی کرکٹ میں چلنا ناممکن ہے۔ شاید اسی لیے کسی نے یہ جاننا ضروری نہیں سمجھا کہ فواد 2015ء کے بعد سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں اور نہ ہی یہ کہ موجودہ کرکٹرز میں سے صرف آسٹریلیا کے اسٹیو اسمتھ اور بھارت کے ہنوما وہاری ہی فواد عالم سے زیادہ فرسٹ کلاس اوسط سے اسکور بنا رہے ہیں۔

فواد عالم ہر سال رنز بنا رہے تھے لیکن سلیکٹرز شاید انہیں ذہن سے بالکل نکال چکے تھے۔ فواد عالم کو ڈراپ کیے جانے کے بعد عمر اکمل، اظہر علی، عمر امین، اسد شفیق، محمد ایوب، ناصر جمشید، شان مسعود، احمد شہزاد، سمیع اسلم، افتخار احمد، بابر اعظم، شرجیل خان، حارث سہیل، امام الحق، عثمان صلاح الدین، فخر زمان اور عابد علی نے پاکستان کے لیے ڈیبیو کیا، محمد رضوان بطور بیٹسمین کھیل گئے، محمد نواز، شاداب خان اور فہیم اشرف کو بطور آل راؤنڈر کھلا دیا گیا لیکن فواد عالم کی واپسی نہ ہوسکی۔

ان میں سے کئی مستقل پاکستانی ٹیم کا حصہ بن گئے اور کئی ناکامی کا شکار ہوئے۔ جن کو عمدہ کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں شامل کرلیا گیا ان سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے والے فواد عالم موقع کے انتظار میں بیٹھے رہے۔ اب تو ایسا لگنے لگا تھا جیسے ٹیم کے اعلان پر ہونے والی پریس کانفرنس میں چیف سلیکٹرز فواد عالم کے نام سے ہی چڑنے لگے ہیں۔ بورڈ چیئرمین، چیف سلیکٹرز، کوچز، کپتان بدلتے رہے لیکن فواد عالم کی ڈومیسٹک میں عمدہ کارکردگی اور قومی ٹیم میں شمولیت کا سلسلہ نہ بدل سکا۔

فواد عالم کو سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا گیا لیکن انہیں موقع انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ہی مل سکا۔ حارث سہیل اس سیریز کے لیے تیار ہوتے تو شاید فواد عالم کو موقع کے لیے مزید انتظار کرنا پڑتا اور فواد کی ان 2 ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے خواہش یہی تھی کہ شاید یہی فواد کے لیے بہتر بھی ہوتا۔

فواد عالم کو انگلینڈ کے اس باؤلنگ اٹیک کا سامنا تھا جو ان حالات میں بہترین تھے۔ انگلینڈ کے دورے پر اس ناکامی کے بعد شاید فواد کو باہر کردیا جاتا لیکن اس دورے پر متعدد پاکستانی بیٹسمین ناکام رہے اور سبھی کو باہر کرنا ناممکن تھا۔

فواد کی ٹیسٹ میچ میں شمولیت میں جہاں بابر اعظم کی غیر موجودگی کا ہاتھ تھا وہیں نیوزی لینڈ اے کے خلاف فرسٹ کلاس میچ میں فواد کی بہترین سنچری بھی ایک اہم وجہ تھی۔

فواد عالم نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں مشکل حالات میں ایک نہایت غلط شاٹ کھیلا اور اس کا نتیجہ بھی انہیں بھگتنا پڑا، جبکہ دوسری اننگ میں جن حالات میں فواد نے کریز پر قدم رکھا، ان حالات میں فواد کی کامیابی کی امید بہت کم لوگوں کو تھی، لیکن یہ فواد کا دن تھا۔ وکٹ پانچویں دن کچھ سست ہوچکی تھی جہاں فواد عالم کے لیے اپنا قدرتی کھیل کھیلنا ممکن تھا۔

وکٹ بیٹنگ کے لیے کچھ سازگار ہوچکی تھی لیکن ٹم ساؤتھی اور ٹرینٹ بولٹ کی سوئنگ کے ساتھ ساتھ نیل ویگنر اور کائل جیمسن کے باؤنسرز کا سامنا کرنا آسان نہ تھا۔ گیند اونچی نیچی بھی رہ رہی تھی اور پچ پر دراڑیں بھی موجود تھیں لیکن فواد عالم نے اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد رضوان کے ساتھ ایسی شراکت قائم کردی کہ چائے کے وقفے تک پاکستان کی فتح کی امید قائم ہوچکی تھی۔

اپنی اس اننگ میں فواد عالم نے اپنے اسی غیر روایتی بیٹنگ اسٹائل کے ساتھ کچھ ایسے خوبصورت شاٹس کھیلے کہ کمنٹیٹرز کئی لمحوں تک داد دیتے رہے۔ فواد عالم ایک بہترین اننگ کھیلنے کی باوجود پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکے جس کا شائقین کے ساتھ فواد کو بھی افسوس ہوگا، لیکن اس اننگ کے ساتھ انہیں واپسی کا موقع مل گیا ہے اور امید یہی ہے کہ اب فواد عالم اگر کارکردگی دکھاتے رہے تو ایک لمبا عرصہ قومی ٹیم کے لیے کھیل سکتے ہیں، لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل کارکردگی دکھانے والے باقی کھلاڑیوں کو موقع کب ملے گا؟

فواد عالم کی یہ سنچری ایک سوال ہے، ان سلیکٹرز اور کوچز سے جو ڈومیسٹک کرکٹ میں تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو صرف اس وجہ سے موقع نہیں دے رہے کہ ان کھلاڑیوں کا بیٹنگ اسٹائل یا باؤلنگ اسپیڈ انہیں بین الاقوامی کرکٹ کے لیے موزوں نہیں لگتا۔ پاکستان سپر لیگ یا انڈر 19 میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو تو جلد موقع مل جاتا ہے لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ میں مسلسل کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی مواقع سے محروم ہی رہتے ہیں۔

محمد ایوب، عثمان صلاح الدین اور میر حمزہ جیسے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک میں کارکردگی پر ایک ٹیسٹ تو مل جاتا ہے لیکن اس کے بعد انہیں مسلسل عمدہ کارکردگی کے باوجود دوسرا موقع نہیں مل پاتا۔ صرف فواد عالم ہی نہیں، پاکستان سپر لیگ نہ کھیل پانے والے صدف حسین، کاشف بھٹی، تابش خان اور ناجانے کتنے کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھاتے کھیلنے کی عمر گزار چکے، لیکن انہیں کوئی موقع نہ مل سکا۔

عامر یامین، سعود شکیل، کامران غلام، ساجد خان، زاہد محمود، دانش عزیز اور سلمان علی آغا سمیت بے شمار کھلاڑی اس وقت بھی موقع کی تلاش میں ہیں۔ فواد کا کیس ان سب کے لیے ایک مضبوط ترین آواز بھی ہے کہ ٹیسٹ ٹیم منتخب کرنے کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو ٹی20 کرکٹ کھلانا تو ٹھیک ہے لیکن ٹیسٹ ٹیم میں شامل کردینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسا کرنا مستحق کھلاڑیوں کے ساتھ ہی نہیں، پاکستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ کھلائے جانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔