اقوام متحدہ پرتشدد قوم پرست گروہوں کو بھی کالعدم قرار دے، پاکستان

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

اجلاس میں منیر اکرم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا — فائل تصویر: اے پی پی
اجلاس میں منیر اکرم نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا — فائل تصویر: اے پی پی

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتہا پسند نیشنلسٹ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے نمٹنے کے لیے ایک عملی منصوبہ مرتب کیا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے واضح خطرہ بن چکی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے 'اے پی پی' کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ 'پرتشدد، انتہا پسند گروپوں' کو بھی دہشت گردوں کی دیگر تنظیموں کی طرح کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

منیر اکرم نے یو این ایس سی میں کہا کہ 'اس طرح کی پرتشدد، نسل پرست اور انتہا پسند دہشت گردی یقینی طور پر تشدد کو فروغ دے گی اور آئی ایس آئی ایس/ داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے بیانیہ کی توثیق کرے گی'۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی، ہندوتوا نظریہ کی پیروی کررہی ہے جس سے بھارت میں مسلم آبادی کو خطرہ ہے۔

پاکستانی مندوب نے پرتشدد قومیت کے عروج کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا اور مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کیے:

  • ریاستوں سے مطالبہ ہے کہ وہ متشدد قوم پرست گروہوں بشمول انتہا پسند اور دیگر نسلی اور لسانی شدت پسند گروہوں کو دہشت گرد قرار دے جس طرح دنیا نے القاعدہ / داعش اور ان سے وابستہ گروہوں کے معاملے میں کیا ہے۔

  • ان گروہوں کی بھرتی اور ان کی مالی امداد، تشدد پر مبنی نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر داخلی اقدامات کا آغاز کیا جائے۔

  • سیکریٹری جنرل سے درخواست ہے کہ وہ قوم پرست گروہوں کے انتہا پسندانہ نظریات اور اقدامات کا مقابلہ اور شکست دینے کے لیے عملی اقدامات کا لائحہ عمل پیش کریں۔

آر ایس ایس جیسے قوم پرست دہشت گرد گروہوں کو شامل کرنے کے لیے 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے مینڈیٹ میں توسیع کی جائے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کو پیچھے چھوڑ دیا

منیر اکرم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 'دہشت گردی کے کچھ نظر انداز ہونے والے پہلوؤں پر غور کیا جائے جس میں سے ایک ریاستی دہشت گردی بھی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے جانب سے جاری ہے، بھارتی فوج 'جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہی ہیں'۔

عالمی امن و سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا ہوتے ہیں منیر اکرم نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کی 'ہر شکل اور مظاہر کو شکست دینے' کے لیے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو بڑھانے کی ضرورت ہے'۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے متعدد مرتبہ اقوام متحدہ میں بھارتی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں بھارت کی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات سے بھی دنیا کو آگاہ کیا تھا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے اور دیگر برابر کے شہری نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا اشرف غنی سے رابطہ، افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ

ان کا کہنا تھا کہ گاندھی اور نہرو کے سیکولرزم کی جگہ ہندو راشٹریہ بنانے کے خواب نے لی ہے اور یہاں تک کہ 20 کروڑ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ختم کرکے ہندو ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا اور 2002 میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کا قتل عام وزیراعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں کیا گیا۔