پی ڈی ایم فارن فنڈنگ کیس میں 'فیصلے' کیلئے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کرے گی، مریم اورنگزیب

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2021

ای میل

ان کا کہنا تھا کہ ان کی عزت ایک کروڑ تک کی ہوجائے تو امید ہے کہ کل وہ مزید 50 کروڑ کا ہتک عزت کا نوٹس کریں —فوٹو: ڈان نیوز
ان کا کہنا تھا کہ ان کی عزت ایک کروڑ تک کی ہوجائے تو امید ہے کہ کل وہ مزید 50 کروڑ کا ہتک عزت کا نوٹس کریں —فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس میں تسلیم کرلیا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی مدد سے غیرقانونی طریقے سے پیسہ آیا اور الیکشن کمیشن میں 2014 سے زیر التو کیس کے فیصلے کے لیے عوام، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت میں 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پنڈی سٹی اور اسلام آباد کی سطح پر ریلی کے روٹس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، پنڈی میں ریلی نواز شریف پارک سے شروع ہوگی، پی ڈی ایم کی لیڈرشپ کشمیر چوک سے قیادت کرے گی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مریم نواز قیادت کریں گی۔

مزیدپڑھیں: ملک میں اداروں کی بالادستی تسلیم نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمٰن

مریم اورنگزیب نے سوال اٹھایا کہ غیرملکی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی کیا مجبوریاں ہیں؟ اس لیے عوام تحریری طور پر فیصلہ لینے کے لیے اسلام آباد آرہی ہے، آپ فیصلہ لکھنے کی تیاری کرلیں۔

انہوں نے نام لیے بغیر کہا کہ 'ایک موصوف ہیں جنہیں کل بہت تکلیف ہوئی ہتک عزت کی، ایسے لوگوں کو ہتک عزت سمجھ نہیں آتی جو لوگ صبح دوپہر اور شام کاغذ لہرا کر میڈیا ٹرائل کرتے اور جھوٹے الزامات لگاتے ہیں'۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ جنہوں نے اپنی عزت کی قیمت 50 کروڑ لگائی ہوئی ہے وہ بیرون ملک جا کر اس ڈیل میں سے کمیشن ضرور مانگیں گے جن کی عزت ہی 50 کروڑ کی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی عزت ایک کروڑ تک کی ہوجائے تو اُمید ہے کہ کل وہ مزید 50 کروڑ کا ہتک عزت کا نوٹس کریں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے پیچھے اسرائیلی اور بھارتی لابی کی فنڈنگ کے ثبوت ہیں، احسن اقبال

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ایک آمر نے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے ایک معاہدہ کیا اور پاکستانی خزانے سے 400 کروڑ روپے ادا کیے اور اب اس برطانوی کمپنی سے نیا معاہدہ کرنے جارہے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے براڈ شیٹ کمپنی کے حوالے سے کہا کہ 2018 سے وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر ، نیب بیورو، اور ایک جنرل مسلسل رابطے میں ہیں اس لیے ہتک عزت کا نوٹس بھیجنے کے بجائے ان سوالات کا جواب دیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے سے متعلق ڈرافٹ کا عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب اور شہزاد اکبر سمیت جتنے عہدیداروں نے براڈ شیٹ کمپنی کے ساتھ ملاقاتیں کیں اس کے نکات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے دعوی کیا کہ 'صدر ڈاکٹر عارف علوی، سندھ کے گورنر عمران اسمعیل اور عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے چیکس پر دستخط موجود ہیں'۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’تم جھوٹ بولتے ہو، میں تمہیں بے نقاب کردوں گی، تم دوسرے لوگوں کی بے عزتی کرتے ہو ، میں تمہاری بے عزتی کروں گی، تم دوسروں کو بدنام کرتے ہو، میں تمہیں بدنام کروں گی‘۔

گزشتہ روز لورالائی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر اور سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ حکمران اپنی چوریاں فارن فنڈنگ کیس، جو باہر سے تمہارا لیے پیسہ آیا، تمہاری انتخابی مہم کے لیے بھارت، یورپ اور اسرائیل سے پیسہ آیا اور آج تمہاری ہی پارٹی کا بانی رکن الیکشن کمیشن میں جا کر تھک گیا ہے کہ یہ فنڈ کہاں سے آیا اور کہاں خرچ ہوئے لیکن الیکشن کمیشن حساب کرنے کو تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج ہوگا، مسئلہ سنجیدہ ہے، یہ جنگ دو سیٹوں کی نہیں بلکہ نظریہ اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے اور قوم کو قید نہیں بلکہ آزاد ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی کی وضاحت

دوسری جانب پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ سے متعلق وضاحت میں امریکا سے غیر قانونی فنڈنگ سے انکار کے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان کی تحریری ہدایت کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی دو امریکی کمپنیوں نے کوئی فنڈز غیر قانونی طور پر اکٹھے کیے ہیں تو اس کی ذمہ داری ان کمپنیوں کا انتظام سنبھالنے والے ایجنٹس پر عائد ہوتی ہے۔

پارٹی نے یہ تازہ مؤقف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے سوال نامے کے تحریری جواب میں اپنایا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا کہ 'ایجنٹ کی اکٹھا کی گئی کوئی بھی کنٹری بیوشن جو قابل پوچھ گچھ ہوسکتی ہے وہ بنیادی (فریق) کی دی گئی ہدایات/ذمہ داری/ کام کے دائرہ کار سے ماورا ہے۔

ہتک عزت کا نوٹس

وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کو براڈ شیٹ کمپنی کے معاملے میں 'ہتک آمیز بیانات، غلط اور مضحکہ خیز الزامات' عائد کرنے پر قانونی نوٹس دیا تھا۔

ایک ٹوئٹ میں شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ مریم اورنگزیب سے 'معافی مانگنے کو کہا گیا ہے یا انہیں عدالت میں لے جایا جائے گا'۔

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، طارق فضل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے دھرنے میں شامل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جماعتوں کی قیادت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی لیکن پی ڈی ایم کو جہاں کہیں روکا گیا انہوں نے اپنا راستہ خود بنایا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے املاک کا خیال رکھا جائے گا، کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں ہوگی اور ریڈ زون کے تقدس کا بھی خیال رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلی کی اجازت دی ہے اس لیے اب ہم پوری توانائی کے ساتھ ریلی کا اہتمام کریں گے۔