سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت واپس لینے پر نمٹادی

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

حمزہ شہباز 11 جون 2019 سے زیر حراست ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز
حمزہ شہباز 11 جون 2019 سے زیر حراست ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز

سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے گرفتار اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت واپس لینے پر معاملہ خارج کردیا۔

یاد رہے کہ حمزہ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے لیے گزشتہ برس 24 اپریل کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے دائر درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کا درخواست ضمانت پر جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

جسٹس سردار طارق مسعود نے حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز سے استفسار کیا کہ مقدمہ میرٹ پر یا ہارڈ شپ کی بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں۔

وکیل نے ہارڈشپ پر ضمانت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے وقت ان کی گرفتاری کو ایک سال سے کم عرصہ ہوا تھا جس کے باعث ہارڈ شپ کا گراونڈ نہیں بنتا تھا لیکن اب موکل ایک سال 7 ماہ سے جیل میں ہیں۔

جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ جو نقطہ ہائی کورٹ میں نہیں اٹھایا گیا وہ یہ عدالت کس طرح سنے؟

جسٹس سردار طارق مسعود نے مزید ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ میں ہارڈ شپ کا ذکر نہیں کیا گیا تو سپریم کورٹ کس طرح ہارڈ شپ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت: 'یہ مناسب نہیں ملزم ٹرائل کی تکمیل تک جیل میں رہے'

بعدازاں حمزہ شہباز کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے پر سپریم کورٹ نے معاملہ نمٹا دیا۔

واضح رہے کہ حمزہ شہباز اس وقت منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں 11 جون 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک وہ قید میں ہیں۔

انہوں نے 24 اپریل 2020 کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

بعد ازاں 2 دسمبر 2020 کو حمزہ شہباز نے اپنی درخواست ضمانت پر جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست جمع کرائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: حمزہ شہباز کا ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

اس سے قبل حمزہ شہباز نے 28 مارچ کو عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں کے لیے پیدا ہونے والے 'ممکنہ جان لیوا خطرے' کو بنیاد بناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

تاہم 7 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ نے بھی مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کی جانب سے کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر دائر کی گئی درخواست ضمانت واپس لیے جانے پر نمٹادی تھی۔