’سینیٹ کا کھیل‘

18 فروری 2021

ای میل

لکھاری صحافی ہیں۔
لکھاری صحافی ہیں۔

سینیٹ انتخابات ہونے کو ہیں اور حزبِ اختلاف کی جانب سے سڑکوں سے ہٹ کر ایوان میں بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی تیاری ہورہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی ہمیشہ کی طرح بہت پُرجوش ہے اور اگر اپوزیشن انہیں ٹف ٹائم نہ دے سکی تو شاید اس جوش میں یہ خود کو ہی ٹف ٹائم دے دیں۔

سیاسی جماعتوں کی تیاریوں سے قطع نظر ایوانِ بالا کو صرف 3 سال میں ایک مرتبہ ہی اتنی توجہ حاصل ہوتی ہے۔ یہ پارلیمانی نظام کا وہ بچہ ہے جو دوسروں سے زیادہ لائق ہونے کے باوجود لوگوں کی توجہ سے محروم رہتا ہے اور ساری کی ساری توجہ قومی اسمبلی کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا فورم ہے جہاں تعمیری بحث ہوتی ہے اور یہاں پروفیشنلز اور نسبتاً کم دولت مند (کاغذی اعتبار سے) اراکین کے پاس اپنی بات رکھنے کا موقع ہوتا ہے۔

سینیٹ انتخابات کا مرحلہ کبھی بھی افواہوں اور تنازعات سے خالی نہیں ہوتا۔ ان میں سے کچھ کہانیاں تو صرف قیاس پر مبنی ہی ہوتی ہیں، جیسے سینیٹ انتخابات سے پہلے ایک طرح کی غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان انتخابات سے پہلے ہی موجودہ نظام لپٹ جائے گا اور حکمران جماعت کا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا خواب چکنا چُور ہوجائے گا۔ خوش قسمتی سے ان افواہوں میں زیادہ دم نہیں ہوتا۔

اس بار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے ماضی کی طرح غیر یقینی پھیلانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا لوگوں پر زیادہ اثر نہیں ہوا۔ ماضی کی طرح ایک کے بعد ایک ڈیڈ لائن گزرتی گئیں اور کچھ بھی نہ بنا۔

تاہم غیر متوقع نتائج اور اپ سیٹ ہونے کی باتیں حقیقت سے قریب تر ہوتی ہیں، پھر چاہے وہ نتائج خریدے ہی کیوں نہ گئے ہوں۔ ماضی میں (2008ء کے دوران) سینیٹ انتخابات کو انتخاب سے زیادہ بازار کی صورت میں دیکھا گیا اور اس بازار میں پیسہ چلانے کی خوب کوششیں ہوئیں۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ پیسہ ہی تھا جس کی وجہ سے باپ اور بیٹوں کے ایک ’مشہور‘ خاندان کو 2015ء میں سینیٹ سے مستعفی ہونے کے بعد دوبارہ جیتنے سے روکا گیا۔ 2015ء میں ان میں سے ایک کو قومی وطن پارٹی کا ٹکٹ مل گیا تھا جبکہ دوسرے نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا تھا، تاہم دونوں ہی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بلوچستان سے پی ٹی آئی کے حالیہ امیدواروں کے حوالے سے ہونے والی بحث سے لگتا ہے کہ سیاستدانوں نے ابھی تک ماضی سے سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب سیاسی جماعتیں بھی اس بات پر توجہ دینے لگی ہیں کس طرح اپنے نمائندوں کو قابو میں رکھا جائے۔

مثال کے طور پر 2015ء میں دھرنوں اور شدید دباؤ کے سبب پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والے شدید تناؤ کے باوجود دونوں جماعتوں نے خیبرپختونخوا میں مل کر اس بات کو یقینی بنایا کہ جماعت سے الگ رہنے والے یا لالچی امیدوار کسی صورت سینیٹ میں نہ پہنچ سکیں۔

اس معاہدے کے منصوبہ ساز خود اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک تھے جنہوں اس بات کو یقینی بنایا کہ بیلیٹ پیپر کو باہر لاکر چیک کیا جائے۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے رازداری کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے پر تنقید کی تھی۔ لیکن جب 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں اس قسم کا کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا تو پی پی پی خیبر پختونخوا سے 2 سینیٹر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی (جس کی قیمت پی ٹی آئی کو ادا کرنی پڑی)۔

عمران خان نے سخت الزامات لگانے میں دیر نہیں کی اور جماعت کے مشکوک اراکین کو جماعت سے نکال دیا۔ اب، جبکہ ہمارے سامنے ویڈیوز موجود ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے انتخابات کوئی قابلِ فخر تصویر پیش نہیں کرتے۔

لیکن ایک جانب تو عمران خان اس نظر نہ آنے والے ہاتھ کو کوس رہے تھے جس نے ان کی جماعت کے نمائندوں کو خرید لیا اور دوسری جانب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی کام کر رہے تھے۔ دونوں جماعتوں نے 2018ء میں ’بغضِ (ن)‘ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور سینیٹ کی چیئرمین شپ بلوچستان عوامی پارٹی کو تھمادی۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کا یہ رومانس بہت مختصر ہی رہا اور یہ خیبر پختونخوا تک نہیں آسکا۔

سچ تو یہ ہے کہ تمام ہی جماعتیں اپنے نمائندوں کو ذاتی رائے دینے سے محروم رکھنا چاہتی ہیں پھر چاہے اس کی وجہ ضمیر ہو یا پھر دنیاوی فائدے۔

2008ء کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اور پنجاب سے اتنے ہی امیدوار کھڑے کیے جتنے بلا مقابلہ منتخب ہوسکیں۔ اس طرح انہوں نے سینیٹ انتخابات میں ہونے والی رسہ کشی سے بچنے کی کوشش کی۔ ان انتخابات میں پنجاب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے صرف بابر اعوان ہی منتخب ہوئے اور ایک پرانے کارکن اسلم گِل ہار گئے۔ یہ جماعتیں باقی صوبوں کو بھی اس حکمتِ عملی پر قائل کرنے میں ناکام رہیں۔

2013ء کے بعد مسلم لیگ (ن) نے ہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کی کوشش میں ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جس میں فاٹا اراکین کے ووٹ ڈالنے کے طریقے کو تبدیل کردیا گیا۔ یہ آرڈیننس 2015ء کے سینیٹ انتخابات سے کچھ دیر قبل ہی جاری کیا گیا لیکن بعد میں حکومت نے اسے واپس لے لیا۔

تاہم نظر یہ آتا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہونے والے اپ سیٹ باقی جماعتوں کی نسبت پاکستان پیپلز پارٹی کو کم ہی اپ سیٹ کرتے ہیں۔ 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں خیبر پختونخوا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 2015ء کے سینیٹ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تعداد پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کی نسبت زیادہ تھی۔ خبریں یہ تھیں کہ اپوزیشن کے 5 ووٹ صوبے کی حکمران جماعت کی جھولی میں چلے گئے۔

حتیٰ کہ آنے والے انتخابات میں صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے طور پر اپنے اراکین کو کھڑا کیا ہے۔ باقی جماعتوں نے خود کو پاکستان پیپلز پارٹی کے اس عمل کی حمایت تک محدود رکھا ہوا ہے۔

لیکن کسی بھی چیز سے یہ حقیقت تو تبدیل نہیں ہوسکتی کہ ہر جماعت سینیٹ انتخابات کے ذریعے سینیٹ میں اپنی نشستوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور تمام جماعتیں اپنے اراکین کو آزادانہ رائے کے حق سے محروم رکھنا چاہتی ہیں۔

یہ جماعتیں انتخابات کو کنٹرول کرنے کے لیے صدارتی آرڈیننس، سیٹ ایڈجسٹمنٹ، ممبران کو بیلیٹ پیپر لے جانے پر مجبور کرنا اور پیسے کے استعمال جیسے غیر جمہوری طریقوں سے بھی باز نہیں آتیں۔ اگر ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ منظرنامہ دیکھیں تو آپ کو نیت اور طریقہ کار میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کے درمیان ختم ہوتا ہوا فرق بھی نظر آئے گا۔


یہ مضمون 16 فروری 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔