اقوام متحدہ کیلئے سنکیانگ کا دروازہ کھلا ہے، نسل کشی کا الزام مسترد کرتے ہیں، چین

اپ ڈیٹ 23 فروری 2021
— فوٹو: رائٹرز
— فوٹو: رائٹرز

چین نے سنکیانگ میں بسنے والے ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حالات کے بارے میں ’توہین آمیز بیانات‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مذہبی آزادی اور لیبر حقوق حاصل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سماجی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے حقوق کے ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم 10 لاکھ مسلمان دور دراز کے مغربی خطے کے کیمپوں میں نظر بند ہیں۔

مزید پڑھیں: چین: صوبہ سنکیانگ میں وسیع پیمانے پر اسکریننگ کا فیصلہ

دوسری جانب چین بدسلوکی سے متعلق بیان کی تردید کرتا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ کیمپ پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتے ہیں اور انتہا پسندی کے خلاف موثر ہیں۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ وہ قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں بغیر کسی ’دہشت گردی کے مقدمے‘ کے چار سال بعد ’معاشرتی استحکام اور ترقی‘ ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے ایغور مسلمانوں سے متعلق پوپ فرانسس کا بیان بے بنیاد قرار دے دیا

چینی وزیر کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں 24 ہزار مساجد ہیں جہاں تمام نسلی گروہوں کے افراد کو لیبر قوانین کے مطابق حقوق حاصل ہیں۔

وانگ نے کہا کہ سنکیانگ میں کبھی بھی نسل کشی، جبری مشقت یا مذہبی جبر نہیں ہوا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز الزامات لاعلمی اور تعصب کی بنا پر من گھڑت ہیں اور یہ محض بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین نے سنکیانگ میں نسل کشی کی ہے۔

اس سے قبل برطانوی سیکریٹری ڈومینک راب نے سنکیانگ میں ’صنعتی پیمانے‘ پر ایغوروں کے خلاف ہونے والے تشدد، زبردستی مزدوری اور تعصب کی مذمت کی تھی۔

مزید پڑھیں: ایغور مسلمانوں کا معاملہ، امریکا نے چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اقوام متحدہ کو خطے کے دورے کی دعوت دی لیکن کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ سنکیانگ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک کے لوگوں نے زمینی حقائق اور حقیقت کو جانا ہے، چین سنکیانگ کے دورے پر اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ مشیل بیچلیٹ کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چین کینگو سمیت متعدد چینی حکام کے ویزا پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اثاثے بھی منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چین نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا لیکن ایغور مسلمانوں کو ووکیشل ایجوکیشنل سینٹرز بھیجنے کا اعتراف کیا گیا تھا جس کا مقصد انہیں مینڈیرن زبان اور کوئی ہنر سکھانا ہے، تاکہ خطے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد جنم لینے والی علیحدگی پسندی کی لہر سے انہیں دور کیا جا سکے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا تھا کہ مجھے یہ بتانا ہوگا کہ سنکیانگ کا معاملہ خالصتاً چین کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں امریکا کا مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں