نیب نے سندھ پولیس کے افسران کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2021
نیب نے اسٹیٹ بینک کو 25 فروری کو مراسلہ ارسال کیا تھا—فائل فوٹو: شاہ زیب احمد
نیب نے اسٹیٹ بینک کو 25 فروری کو مراسلہ ارسال کیا تھا—فائل فوٹو: شاہ زیب احمد

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 150 پولیس افسران کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں جن میں زیادہ تر اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) شامل ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نیب نے اسٹیٹ بینک کو 25 فروری کو مراسلہ ارسال کیا تھا۔

مرکزی بینک کو ارسال کردہ خط کا عنوان 'سندھ پولیس افسران اور دیگر کے خلاف بینک اکاؤنٹس انکوائری کی عمومی تلاش کی درخواست' تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس کے 12 ہزار اہلکار مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث، رپورٹ

انسداد بدعنوانی کے ادارے نے مرکزی بینک سے درخواست کی کہ ان پولیس افسران کے بارے میں غیر ملکی بینکس کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں سے تفصیلات اکٹھی کی جائیں۔

مذکورہ پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ نیب نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی کہ ان پولیس افسران کی جانب سے حال ہی میں یا 1985 سے لے کر اب تک جمع کروائی گئی رقوم، ان کے اکاؤنٹس یا لاکرز کی تفصیلات حاصل کی جائیں۔

اس کے علاوہ مرکزی بینک سے کسی بھی پولیس افسر یا اس کے متعلقہ کاروبار یا تیسرے فریق/کمپنی کو دی گئی بینک سہولت، خرید و فروخت یا غیر ملکی ترسیلات زر کی بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ پولیس میں جعلی بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم

خیال رہے کہ سال 2016 میں سندھ پولیس کے سربراہ نے جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس خلجی عارف حسین سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پولیس میں ہونے والی 12 ہزار بھرتیوں میں سے 5 ہزار سے زائد بھرتیاں غیر قانونی یا جعلی ہیں۔

آئی جی سندھ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کا اعتراف کیے جانے کے بعد عدالت نے نیب کو سندھ پولیس میں بوگس بھرتیوں اور تحقیقاتی فنڈز کی نامناسب تقسیم کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں