تحریک اعتماد: ووٹنگ کے روز اراکین اسمبلی کے لاپتا ہونے پر شور مچا ہوا تھا، شیخ رشید

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2021
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وقافی وزیر داخلہ شیخ رشید نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک اعتماد کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 3 اراکین قومی اسمبلی کے لاپتا ہونے پر شور مچا ہوا تھا۔

نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ جس دن قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ لینا تھا، اُس صبح ہمارے 3 اراکین قومی اسمبلی سے لاپتا ہوگئے تھے جس پر شور شرابا مچا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان پر ایوان کا اعتماد برقرار، 178 ووٹ حاصل کرلیے

انہوں نے بتایا کہ میں قومی اسمبلی 11 بجے پہنچا تب تک ان تینوں اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا تھا۔

'ہم نے سینیٹ انتخاب کو ہلکا لیا، آصف علی زرداری بڑا گیم کھیل گئے'

سینیٹ انتخاب میں حکومتی امیدوار کی ناکامی پر شیخ رشید نے اعتراف کیا کہ ’ہم نے سینیٹ کے انتخاب کو ہلکا لے لیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری بڑا گیم کھیل گئے‘۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخاب میں ٹکٹ نہیں بلکہ نقد رقم چلی جو 10 کروڑ سے کہیں زیادہ تھی اور تقریباً 20 لوگوں کو ادائیگی کی گئی۔

شیخ رشید نے بتایا کہ چند لوگوں نے سینیٹ انتخاب میں حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دیا لیکن وہ بطور وزیر خزانہ اپنے فرائض جاری رکھیں گے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ سندھ سے الیکشن لڑنے کے خواہش مند تھے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اسلام آباد سے امیدوار کھڑا کیا۔

'اسد عمر کو وزارت خزانہ سے نکالنے میں فوج کا ہاتھ نہیں تھا'

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے بتایا کہ اسد عمر کو بطور وزیر خزانہ نکالنے میں فوج کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو میں اسد عمر کا مقدمہ 7 ماہ تک نہیں لڑتا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اسد عمر نے قدرے جذباتی رویہ اختیار کیا اور عہدے سے مستعفیٰ ہونے کی پریس کانفرنس بھی کردی۔

'16 لوٹوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے'

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’16 لوٹوں (اراکین اسمبلی) کے خلاف کارروائی کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے لیکن تاحال ایسا وقت نہیں آیا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جائے'۔

یہ بھی پڑھیں: 'پارلیمنٹ لاجز کو کل بنکر بنا دیا گیا'

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر 20 افراد کو بے دخل کرتے ہیں تو حکومت کھڑی نہیں رہے گی اور چور (اپوزیشن جماعتیں) اوپر آجاتی ہیں۔

'فوج یا ایجنسیوں نے سینیٹ انتخاب میں کوئی کردار ادا نہیں کیا'

شیخ رشید نے کہا کہ فوج یا ایجنسیوں نے سینیٹ انتخاب میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

انہوں چیف آف آرمی اسٹاف کا حوالہ دے کر بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپوزیشن کے رہنماؤں کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اگر آپ میں سے کوئی بھی منتخب ہوکر حکومت میں آئے گا تو فوج بھرپور ساتھ دے گی۔

'آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی مذہبی جماعت کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے'

وزیر داخلہ نے رائے دی کہ ’آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی مذہبی جماعت کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے، میں نے ٹی ایل پی کو کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم انہیں اسمبلی میں لے کر آئیں گے اور ختم نبوت سے متعلق جو مطالبات ہیں وہ پارلیمنٹ فورم پر دیکھے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں اسے فیصلے کا جائزہ لینا ہوگا۔

'نواز شریف کی لندن سے واپسی کا امکان کم ہے'

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کی لندن سے واپسی کا امکان کم ہے جبکہ اس پورے معاملے کو شہزاد اکبر دیکھ رہے ہیں اور میں اس معاملے میں مداخلت نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کے سارے معاملات شہزاد اکبر اور ان کی براہ راست نگرانی وزیر اعظم عمران خان کررہے ہیں۔

'الیکشن کمیشن کے اوپر زیادہ نزلہ نہیں گرانا چاہیے'

علاوہ ازیں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’میں سوچ رکھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کے اوپر زیادہ نزلہ نہیں گرانا چاہیے جبکہ الیکشن کمشنر کو سخت بیان دینے سے گریز کرنا چاہیے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری صفوں سے بھی سخت بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی اس لیے میں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ملاقات بھی کی‘۔

خیال رہے کہ اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر حکومت کو ناکامی کا سامنا ہوا تھا جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔

بعدازاں الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم اور دیگر وزرا کی جانب سے سینیٹ انتخاب کے نتائج میں شفافیت کے معاملے پر تمام الزامات اور اعتراض مسترد کردیے تھے۔

'سول نافرمانی جیسے فیصلوں پر قانون حرکت میں آئے گا'

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے 26 مارچ کو لانگ مارچ سے متعلق سوال کے جواب میں شیخ رشید نے بتایا کہ سول نافرمانی جیسے فیصلوں پر قانون حرکت میں آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی چوک پر لانگ مارچ کے شرکا کی آمد سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

شیخ رشید نے اقرار کیا کہ اب اپوزیشن کا رخ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی طرف ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی عثمان بزدار سے مطمئن ہیں یا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن وہ دونوں وزیراعلیٰ کے ساتھ چلیں گے۔

'سیاستدان کبھی بھی بند گلی میں داخل نہیں ہوتا'

نجی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک سوال کے جواب میں مذاکرات کے لیے راستہ کھلا رکھنے پر زور دیا۔

شیخ رشید نے وضاحت کی کہ سیاستدان کبھی بھی بند گلی میں داخل نہیں ہوتا اس لیے مذاکرات کا ایک راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 'دوبارہ انتخابات کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں'

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی دوبارہ اسی نشست پر کامیاب ہوں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا امیدوار بھی ریاست کا امیدوار ہے۔

یاد رہے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے اراکین قومی اسمبلی کے لاپتا ہونے کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز اسلام آباد میں اپوزیشن جماعت نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اراکین اسمبلی کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ساری رات دروازے کھٹکھٹاتے رہے‘۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو بنکر بنادیا گیا اور بندوق کی نوک پر 16 ووٹ حاصل کیے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’بچانے والوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ چاروں صوبوں کے عوام نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا اس کو بچانے کی کوشش میں آپ اپنی اور اپنے ادارے کی عزت پر حرف نہ آنے دیں‘۔

واضح رہے کہ حکومت کو اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں شکست کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا تاکہ وزیر اعظم عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکیں۔

ایوان بالا میں اسلام آباد کی نشست پر اپ سیٹ شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اور 178 اراکین نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ووٹ درکار تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں