2020 میں پی آئی اے کا آپریشنل خسارہ کم ہوکر 68 کروڑ روپے رہ گیا

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2021
پی آئی اے نے 94 ارب 98 کروڑ 90 لاکھ روپے کا ریونیو حاصل کیا جو 2019 میں حاصل ہونے والے 147 ارب روپے سے کم تھا، رپورٹ — فائل فوٹو:اے پی پی
پی آئی اے نے 94 ارب 98 کروڑ 90 لاکھ روپے کا ریونیو حاصل کیا جو 2019 میں حاصل ہونے والے 147 ارب روپے سے کم تھا، رپورٹ — فائل فوٹو:اے پی پی

راولپنڈی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع کراتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے مالی سال 2020 کے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا جس میں اس نے دعوٰی کیا ہے کہ اس نے 2019 میں اپنے آپریشنل نقصانات کو 6 ارب 13 کروڑ روپے سے کم کرکے 2020 میں 68 کروڑ روپے کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ائیرلائنز کے سال 2020 کے آڈٹ شدہ مالیاتی نتائج کے مطابق پی آئی اے نے اپنے آپریشنل خسارے کو 2019 میں 6 ارب 12 کروڑ روپے سے کم کرکے 2020 میں 68 کروڑ روپے کردیا، تاہم آمدنی کے سلسلے میں تقریبا 35.7 فیصد کی کمی واقع نہ ہوتی تو آسانی سے اس کا احاطہ کرلیا جاتا۔

پی آئی اے نے 94 ارب 98 کروڑ 90 لاکھ روپے کا ریونیو حاصل کیا جو 2019 میں حاصل ہونے والے 147 ارب روپے سے کم تھا جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیاں تھیں، جس نے پی آئی اے کی تمام پروازوں کو متاثر کیا جس سے مجموعی آپریشنز میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کا رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے والے ملازمین کو واجبات ادا کرنے کا اعلان

مارچ 2020 میں صنعت کو وبائی امراض کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا اور مقامی اور بین الاقوامی تمام آپریشنز کئی مہینوں تک بند رہے جو جولائی کے بعد سے جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوئے۔

تاہم جولائی میں پی آئی اے کو 'ای اے ایس اے' کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اس کے سب سے اہم راستے برطانیہ اور یورپ متاثر ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ پی آئی اے کے لیے فائدہ مند عمرہ اور حج پروازوں کے آپریشنز کا ریونیو بھی متاثر ہوا۔

قومی ایئرلائنز نے اس کے جواب میں خصوصی چارٹر پروازوں، وطن واپسی کے لیے خصوصی پروازوں اور امدادی پروازوں پر توجہ مرکوز کی جس کی وجہ سے اسے مارکیٹ میں قدم جمائے رکھنے اور ریونیو حاصل کرنے میں مدد ملی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے اور پاک فوج کے لیے خصوصی چارٹرز سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے میں مدد ملی۔

یہ بھی پڑھیں: ’معاشی قتل‘ پر پی آئی اے کے احتجاجی ملازمین کا چیف جسٹس سے مدد کا مطالبہ

سال 2020 کے دوران پی آئی اے نے بہت ساری اصلاحات کی نگرانی کی جیسے کہ سپیڈیکس جیسے نقصان اٹھانے والے یونٹس کا خاتمہ اور سروسز اور معیارات پر سمجھوتہ کیے بغیر نقصان اٹھانے والے راستوں سے ہٹنا اور اخراجات پر قابو پانا شامل ہے۔

پی آئی اے اس طرح بحالی کی راہ پر سختی سے عمل پیرا ہے جس نے سال 2019 میں انتظامی امور سے نمٹنے اور ریونیو اضافے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ 2020 کے مقابلے میں سال 2021 میں مزید استحکام حاصل کیا جا سکے۔

ایئر لائن انتظامیہ نے قرضوں کی بحالی کے لیے مالیاتی اداروں سے بھی دوبارہ بات چیت کی ہے اور ماضی میں بھاری لیز پر لیے گئے ہوائی جہازوں کی لیز کی ادائیگیوں پر بھی بات چیت کی ہے۔

پی آئی اے نے تقریباً 2 ہزار ملازمین کی جانب سے قبول کردہ ایک رضاکارانہ علیحدگی اسکیم بھی چلائی ہے جس کا 2021 میں اخراجات پر خاطر خواہ اثر پڑے گا۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک نے مالیاتی نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور پی آئی اے اور حکومت پاکستان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے کی جانے والی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے، کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی تمام تر کوششیں بروئے کار لارہی ہے، اگرچہ یہ صورتحال 2021 میں بھی چیلنجنگ رہے گی تاہم امید ہے کہ 'حکومت پاکستان، ہمارے پاکستانی صارفین کے تعاون اور پی آئی اے ملازمین کی بھرپور لگن کے ساتھ ہم پہلے سے مزید مضبوط ہوکر ابھریں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ آزمائش کا وقت جلد ختم ہوگا اور پی آئی اے کی اصلاحات، تنظیم نو اور مالی نظم و ضبط سے حاصل کردہ قوت مستقبل قریب میں نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں