سوات میں ریسٹورنٹ کھولنے والی پہلی خاتون

24 اپريل 2021
انہوں نے کہا کہ ہر خاتون کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی بھی کام کرنے کی طاقت ہے — فوٹو: ڈان
انہوں نے کہا کہ ہر خاتون کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی بھی کام کرنے کی طاقت ہے — فوٹو: ڈان

ایک وقت تھا جب خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں دہشت گردوں نے خواتین کو ان کے گھروں تک محدود کردیا تھا اور ان کے رسمی تعلیم حاصل کرنے پر پابندی تھی۔

تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے سے دہشت گردی ختم کیے جانے کے بعد کئی مقامی خواتین نے اپنے ہنر اور دلچسپی کے مطابق متعدد شعبوں کا انتخاب کیا۔

یہ خواتین قانونی شعبے اور خواتین کے حقوق کی رہنما بنیں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) میں شمولیت اختیار کی۔

تاہم اب ایک خاتون نے خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا ریسٹورنٹ کھولا ہے۔

نورا احساس، شاعرہ اور سوشل میڈیا شخصیت، نے دیگر دو ادبی لوگوں کے ساتھ پارٹنرشپ میں مینگورہ میں 'چائے ساز' قائم کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: پاکستانی خاتون کا بائیک پر سوات کا سفر

انہوں نے ڈان کو بتایا کہ انہیں قدامت پسند لوگوں کی جانب سے ان کے اقدام پر ردعمل کا علم تھا لیکن ریسٹورنٹ کھولنا ان کا شوق تھا اور وہ لوگوں کو یہ دکھانا چاہتی تھیں کہ خطے کی خواتین کوئی بھی کام سلیقے سے کر سکتی ہیں۔

نورا احساس نے بتایا کہ 'ہمیں دیگر خواتین کو یہ احسس دلانا چاہتی ہوں کہ وہ کاروبار کر سکتی ہیں اور قابل احترام طریقے سے روزگار کما سکتی ہیں، اگر خواتین کاروبار کرنے کی ہمت کریں تو انہیں کبھی بھی مردوں کے رحم و کرم پر نہیں رہنا پڑے گا اور وہ باعزت طریقے سے روزگار کما سکیں گی'۔

انہوں نے کہا کہ ہر خاتون کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی بھی کام کرنے کی طاقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں پدری معاشرے کی طرف سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کئی مرد کہتے تھے کہ وہ کبھی ریسٹورنٹ نہیں کھول پائیں گی کیونکہ یہ خواتین کا کام نہیں ہے۔

باہمت خاتون نے کہا کہ 'آج میں نے سب کو دکھا دیا ہے کہ اگر خواتین ہمت کا مظاہرہ کریں تو وہ کوئی بھی کام کرسکتے ہیں اور انہیں کاروبار یا ملازمت کرنے کا اختیار ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جب مجھ پر لوگ تنقید کرتے ہیں تو میں مایوس نہیں ہوتی بلکہ تنقید سے مجھے مزید حوصلہ ملتا ہے'۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون ڈی پی او سے ملیے

نورا احساس نے اگرچہ ریسٹورنٹ کے لیے باورچی ملازمت پر رکھے ہیں لیکن وہ خود بھی کچن میں کام کرتی ہیں، وہ مہمانوں کا استقبال بھی کرتی ہیں اور انہیں کھانا پیش کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوات کے ادبی افراد ریاض احمد حیران اور شاہاب شاہین سمیت کئی مرد ان کے اس اقدام کو سراہتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔

سول سوسائٹی کے کئی ارکان نے ریسٹورنٹ کے افتتاح میں شرکت کی اور نورا احساس کے اقدام کو سراہا۔

سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر حاجی زاہد خان نے کہا انہیں نوجوانوں کو آگے بڑھ کر کاروبار کرتا دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'آج یہ بھی بہت اچھی پیشرفت ہے کہ جواں سالہ خاتون نے ریسٹورنٹ کھولنے کا حوصلہ کیا ہے'۔

تبصرے (1) بند ہیں

امنہ Apr 24, 2021 07:59pm
ایسی بہادر خواتین کو سلام