سپریم جوڈیشل کونسل کا جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2021
—فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
—فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے حال ہی میں مقدمہ جیتنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی ریفرنس پر حکم کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں منظور کر لی تھی۔

مزید پڑھیں: جسٹس فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں منظور، ایف بی آر کی تمام کارروائی کالعدم

باخبر ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں ایس جے سی نے 10 رکنی سپریم کورٹ بینچ کے 26 اپریل کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے 19 جون 2020 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔

عدالت نے اپنے حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے آف شور اثاثوں کا معاملہ وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کو بھیجنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

سپریم کورٹ کے حالیہ اکثریتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی جائیدادوں سے متعلق ایف بی آر سمیت تمام فورمز کی قانونی کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: جو بدنیتی میرے کیس میں سامنے آئی کبھی نہیں دیکھی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 ‏رکنی فل بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظرثانی کیس پر سماعت کی تھی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کونسل کے پہلے سیشن میں شرکت نہیں کی تھی اور پہلے ہی عدم شرکت سے متعلق آگاہ کردیا تھا۔

تاہم جسٹس عمر عطا بندیال دوسرے سیشن میں موجود تھے جس میں صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے جج کے کے آغا کے خلاف ایک مختلف ریفرنس دائر کیا گیا، اسی دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

جسٹس کے کے آغا پر الزامات عائد ہیں کہ اگرچہ انہوں نے 2018 میں اپنی غیر ملکی جائیداد ظاہر کی لیکن وہ ان کی قیمت بتانے میں ناکام رہے اور انہوں نے ٹیکس سال 2015 سے قبل پاکستان میں اپنی غیر منقولہ جائیدادوں کو چھپا لیا، اس حقیقت کے باوجود کہ ان کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ سے زائد تھی۔

اس سے قبل ایس جے سی، جس کا اجلاس 14 اپریل کو ہونا تھا، نے اپنا اجلاس 28 اپریل تک ملتوی کردیا تھا تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ تین جائیدادوں پر ایف بی آر کی تحقیقات کی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آگے چلنا چاہیے یا نہیں۔

ایس جے سی کی جانب سے ایف بی آر کی اس رپورٹ کا معاملہ اٹھایا گیا جس میں تحقیقاتی ادارے نے سرینا عیسیٰ پر 14 ستمبر 2020 کو ٹیکس جرمانہ عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جسٹس فائز عیسیٰ کیس کو براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد

سرینا عیسیٰ اور ان کے بچوں کے نام بیرون ملک جائیداد تھی جسے ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم، ایس جے سی نے سپریم کورٹ کے اس مختصر حکم کے بعد مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس میں اس کے بعد کی تمام کارروائی، اقدامات، آرڈرز معلومات، 19 جون 2020 کو جاری ہونے والی ہدایات، فیصلے اور اس کی تفصیلی وجوہات کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔

اس آرڈر میں یہ بھی واضح کردیا گیا تھا کہ ایس جے سی سمیت کوئی بھی فورم کسی بھی رپورٹ پر غور و فکر نہیں کرے گا۔

تازہ ترین حکم کے نتیجے میں 19 جون کے مختصر آرڈر میں 4 سے 11 کے پیراگراف اور اس کے بعد 23 اکتوبر 2020 کے تفصیلی فیصلے کو واپس لیا گیا۔

تبصرے (0) بند ہیں