فہد مصطفیٰ کا تھیلیسیمیا کا شکار بچے کے علاج کیلئے 20 لاکھ روپے عطیہ دینے کا اعلان

اپ ڈیٹ 12 مئ 2021
تھیلیسیمیا کے مریضوں میں خون کے سرخ خلیے کم تعداد میں بنتے ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
تھیلیسیمیا کے مریضوں میں خون کے سرخ خلیے کم تعداد میں بنتے ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

پاکستانی اداکار، ٹی وی شو ہوسٹ و پروڈیوسر فہد مصطفیٰ نے تھیلیسیمیا کا شکار ہندو بچے کے لیے 20 لاکھ روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کی رمضان ٹرانسمیشن 'شان رمضان' میں متاثرہ بچہ اور ان کے والد ایک این جی او کے توسط سے شریک ہوئے تھے۔

رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کے دوران جے ڈی سی کے سربراہ سید ظفر عباس جعفری نے بتایا کہ 'بچے کی عمر 3 برس ہے اور اس کا نام دپیش ہے، ان کے والد پیشے کے اعتبار سے جانوروں کے ڈاکٹر ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'بچے کے والد نے کہا کہ وہ جس کے پاس بھی مدد کے لیے انہوں نے کہا کہ آپ مسلمان نہیں ہیں'۔

سید ظفر عباس جعفری نے کہا کہ 'بچے کے والد کے مطابق ان کے پاس جو لوگ اپنے جانوروں کا علاج کروانے آتے ہیں، کوئی گدھا گاڑی یا گھوڑا گاڑی والا ہوتا ہے تو میں تو مفت علاج کردیتا ہوں اور اگر میں کسی دن کمالیتا ہوں تو جتنا پیسہ میرے گھر کے لیے چاہیے ہوتا ہے اتنا رکھتا ہوں باقی محلے کے غریبوں میں بانٹ دیتا ہوں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیمار بچے کے والد کے مطابق اب جب ان پر یہ وقت آیا ہے کہ ان کے بیٹے کی زندگی اور موت سے جنگ لڑ رہا ہے تو یہ جواب مل رہا ہے۔

سید ظفر عباس جعفری نے بتایا کہ بچے کو تھیلیسیما ہے اور بچے کے پاس 15 مہینے کا وقت ہے، اگر ان 15 مہینوں میں بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوگیا تو اس کی زندگی بچ سکتی ہے اور اگر 15 مہینے بعد ٹرانسپلانٹ ہوا تو بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

بچے کے والد گنگا رام نے بتایا کہ 'اس کی حالت باہر لے جانے والی نہیں تھی اور اسے بلڈ ٹیسٹ کے لیے لے کر جانا تھا'۔

انہوں نے کہا کہ '5 سال کی عمر میں یہاں بون میرو ٹرانسپلانٹ کامیاب نہیں ہوتا، چھوٹے بچوں میں قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے 5 سال سے کم عمر میں ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے'۔

بچے کے والد نے بتایا کہ لوگ پیسے دیے بغیر اپنے جانوروں کا علاج کروا کر لے جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنی بھانجی کے علاج میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے لیے یہاں کوئی فنڈ نہیں ہے۔

بعدازاں اسی ٹرانسمیشن میں اداکار فہد مصطفیٰ نے فون کال کی اور کہا کہ 'میں ابھی ابھی سو کر اٹھا ہوں اور مجھے معلوم ہوا کہ ایک بچے کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے مدد کی ضرورت ہے'۔

فہد مصطفیٰ نے کہا کہ 'میں بچے کے علاج کے لیے 20 لاکھ روپے دوں گا'۔

بعدازاں سید ظفر عباس جعفری نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ بچے کے علاج کے لیے درکار 50 لاکھ روپے کی خطیر رقم پاکستان اور بیرون ملک سے امداد کے بعد جمع ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا اور آسٹریلیا سے کچھ لوگوں نے بقیہ رقم عطیہ کی۔

تھیلیسیما دراصل خون کی ایک جینیاتی بیماری ہے، جس میں خون کے خلیے جسمانی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی مناسب مقدار سپلائی کرنے کے قابل نہیں رہتے، جس کی وجہ سے خون کی مقدار جسمانی ضرورتوں کو پورا نہیں کرپاتی کیونکہ Bone Marrow نارمل طریقے سے خون کے سرخ خلیے تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، لہٰذا دل اور دیگر جسمانی اعضا خون کی کمی کے باعث کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

تھیلیسیمیا کے مریضوں میں خون کے سرخ خلیے کم تعداد میں بنتے ہیں اور ہیموگلوبین کی مقدار ضرورت سے کم ہوتی ہے۔

ہیموگلوبین خون کے سرخ خلیوں کا فولادی پروٹین ہے جو جسم کے تمام حصوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ فاضل گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے، جہاں سے وہ سانس کے ذریعے اسے جسم سے خارج کردیتا ہے۔

تھیلیسیمیا کا مریض پوری زندگی اس بیماری کا شکار رہتا ہے، یہ بیماری مرد و عورت دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

اس بیماری کی 2 اقسام ہیں، تھیلیسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا میجر، یہ دونوں اقسام ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔

اس مرض سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ تھیلیسیمیا مائنر سے متاثرہ افراد آپس میں شادی نہ کریں، یہ عمل معاشرے کو تھیلیسیمیا میجر سے پاک کرسکتا ہے۔

پاکستان کی 5 فیصد آبادی، یعنی ایک کروڑ پاکستانی اس مہلک بیماری کے جین رکھتے ہیں اور ہر سال تقریباً 5 ہزار بچے تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں