کھانسی کی آواز سن کر کووڈ 19 کی تشخیص کرنے والی اے آئی ٹیکنالوجی تیار

17 جون 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

اس وقت دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے کم قیمت اور فوری نتائج فراہم کرنے والے ٹیسٹوں کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے کیونکہ پی سی آر ٹیسٹ مہنگے ہوتے ہیں اور اکثر ممالک کو ان کی قلت کا سامنا ہے۔

مگر ایسا تو کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ کسی فرد کی کھانسی سے ہی کووڈ 19 کی تشخیص ممکن ہوسکے گی۔

جی ہاں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی اب کووڈ 19 کی تشخیص میں مدد فراہم کرے گی تاکہ اس وبا سے لڑنے میں مدد مل سکے۔

آسٹریلیا کی ریمٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا اے آئی ماڈل تیار کیا ہے جو کھانسی سے لوگوں میں کووڈ کی تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یونیورسٹی کی تحقیق میں اس اے آئی ماڈل کے بارے میں بتایا گیا جو کھانسی کی آواز سے کووڈ کے اثرات کو سن سکے گا چاہے وہ بغیر علامات والے مریض ہی کیوں نہ ہوں۔

محققین نے بتایا کہ ان کے الگورتھم کو مزید بہتر بناکر بیماری کی تشخیص کرنے والی موبائل فون ایپ کا حصہ بنایا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک قابل اعتبار، آسانی سے قابل رسائی اور کووڈ کے ابتدائی تشخیص کے ٹول کی تیاری میں حائل بڑی رکاوٹ پر قابو پالیا ہے، اس سے ان افراد سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کو سست کرنے میں مدد مل سکے گی جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک موبائل ایپ سے برادری کی سطح پر بیماری پھیلنے یا کووڈ ٹیسٹ کرانے کی فکر سے نجات مل جائے گی، ایسا ٹول وبا کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایسے خطوں کے لیے بہت اہم ٹول ہوگا جن کو طبی سامان، ٹیسٹنگ کے ماہرین اور ذاتی تحفظ کے سامان کی قلت کا سامنا ہوگا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقہ کار کو نظام تنفس کے دیگر امراض کے لیے بھی توسیع دی جاسکے گی۔

یہ پہلی بار نہیں جب کسی اے آئی الگورتھم کو کھانسی سے کووڈ کی تشخٰص کے لیے تیار کیا گیا مگر آسٹریلین ماڈل نے دیگر ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا جبکہ یہ مختلف خطوں میں زیادہ عملی بھی ثابت ہوگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کو تشکیل دینے کی سابقہ کوششیں جیسے ایم آئی ٹی اور کیمبرج یونیورسٹی کی کوششوں میں ڈیٹا کے ذریعے اے آئی ماڈل کو تربیت دینے پر انحصار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نظام تنفس کی آوازوں کو شناخت کے لیے ماہرین کی خاص تفصیلات کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسے مہنگا اور وقت طلب بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں ٹارگٹڈ ڈیٹا جیسے کسی ایک ہسپتال یا خطے کے کھانسی کے نمونوں کو استعمال کرکے الگورتھم کو تربیت دینا لیبارٹری سے باہر محدود کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک حد سے آگے نہ بڑھ پانا اس ٹیکنالوجی کے عملی اطلاق کے لیے اب تک ایک چیلنج تھا، ہمارا کام اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب رہا اور الگورتھم کی تربیت کے لیے ایسا طریقہ کار تشکیل دیا گیا جس میں ان لیبل ساؤنڈ ڈیٹا استعمال کیا گیا۔

تحقیقی ٹیم نے 2 پلیت فارمز کووڈ 19 ساؤنڈ ایپ اور کوس وارا کے ڈیٹا سیٹس کو استعمال کرکے الگورتھم کو تربیت دی تاکہ وہ خود کو تربیت دینا سیکھ سکے۔

اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو حتمی شکل دینے اور ایپس تک پہنچانے کے لیے ممکنہ شراکت داروں کو تلاش کیا جارہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں