افغان سفیر کی بیٹی کے معاملے پر بھارتی وزارت خارجہ کے ‘بلاجواز’ بیان کی مذمت

23 جولائ 2021
—فائل/فوٹو: ریڈیو پاکستان
—فائل/فوٹو: ریڈیو پاکستان

پاکستان نے افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے معاملے پر بھارتی خارجہ امور کی وزارت کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے غیر ضروری اور بلاجواز بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کر دی۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا کے سوالات پر کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم ایجنڈے سے سب آگاہ ہیں، بھارت کو اس معاملے پر کسی حوالے سے مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: افغان سفیر کی بیٹی اغوا نہیں ہوئی، یہ ‘انٹرنیشنل سازش’ ہے، شیخ رشید

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی بدنیتی پر مبنی مہم سب کو معلوم ہے اور یورپی یونین کی ڈس انفو لیب سمیت آزاد ادارے بھارت کو عالمی سطح پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا موجد قرار دے چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ یہاں تک کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے کے تناظر میں بھی بھارت کی پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف متحرک ہے اور بھارتی ٹوئٹر اور ویب سائٹس کے ذریعے سفیر کی بیٹی کی جعلی تصویریں پھیلائی گئیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت نے پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانیے کے لیے اس طرح کے واقعات کو بھی استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس صرف ریاستی دہشت گردی، غیرقانونی قبضے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بے توقیری، اپنے غیر قانونی زیر تسلط علاقوں میں قتل عام اور خواتین کی بے حرمتی، اقلیتوں کے خلاف سیاسی تشدد اور دنیا بھر میں منظم جعلی پروپیگنڈا نیٹ ورک چلانے کی مہارت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ نئی دہلی اس مقام پر نہیں ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے لیے ایسے معیارات پر سوچے۔

انہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ پاکستان مخالف اپنی پروپیگنڈہ مہم سے باز رہے، ہم بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پر عزم ہیں اور افغان امن عمل کو نقصان پہنچانے میں بھارت کے کردار کی طرف توجہ مبذول کرواتے رہیں گے۔

قبل ازیں انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی خارجہ امور کی وزارت کے ترجمان آریندام باگچی نے کہا تھا کہ ‘حیران کن’ واقعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان سفیر کی بیٹی کا معاملہ: 'کَڑیاں ملا رہے ہیں جلد صورتحال دنیا کے سامنے لائیں گے'

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہے تاہم پاکستان کے وزیر داخلہ نے بھارت کو اس میں گھسیٹا ہے لیکن میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کا متاثرین کے بیان کو مسترد کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد سے افغانستان کے سفیر کی بیٹی کے اغوا کے معاملے کو 'سازش' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کوئی اغوا نہیں تھا بلکہ یہ انٹرنیشنل ریکٹ اور سازش ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘کیا واقعہ ہوا ہے، آپ سارے لوگ ملک دشمنوں اور بھارت کے ایجنڈے کی پیروی کریں گے’۔

وزیرداخلہ نے کہا تھا کہ ‘اگر آپ پرانی ایک،ایک سال، 6،6 مہینے کی افغانستان اور پشاور کی پرانی تصاویر بھارت اور را کے ایجنٹ اور ان کے اشاروں پر ملک میں انتشار پھیلانے والے لوگ اس کی تصویریں چلاتے ہیں اور کہتے کہ افغانستان کے سفیر کی بیٹی ہے تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو’۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ‘میں آپ کو اور پوری قوم کو بتانا چاہتا ہوں یہ انٹرنیشنل ریکٹ ہے، یہ انٹرنیشنل سازش ہے، یہ را کا ایجنڈا ہے، را نے ساری دنیا میں یہ بات پھیلائی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں