کشمیر: فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت پر مقدمہ درج، 9 سیکیورٹی اہلکار گرفتار

27 جولائ 2021
مقامی افراد کے مشتعل ہونے اور پھتراؤ پر مسلح اہلکاروں نے ہوئی فائرنگ کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
مقامی افراد کے مشتعل ہونے اور پھتراؤ پر مسلح اہلکاروں نے ہوئی فائرنگ کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

مظفر آباد: حکام کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں وادیِ نیلم کے علاقے شردا میں سیکیورٹی اہلکاروں کی براہِ راست اور ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا، جس پر خیبر پختونخوا کی ایلیٹ پولیس اور فرنٹئیر ریزرو پولیس (ایف آر پی) کے 9 کانسٹیبلز کو حراست میں لے لیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایلیٹ فورس اور ایف آر پی کے تقریباً 500 اہلکاروں کو وادیِ نیلم میں تعینات کیا گیا تھا۔

ڈان کو ٹیلیفونک رابطے پر شردا کے ایس ایچ او ممتاز حسین نے بتایا کہ مقامی پولیس نے اہلکاروں کو واپس بھیجنے کے لیے 6 کوسٹرز کا انتظام کیا اور صبح ان میں سے تقریباََ 350 اہلکاروں کو صوبائی ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وادی نیلم میں نجی ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث پولیس نے باقی 105 اہلکاروں کو واپس بھیجنے کے لیے مزید 3 گاڑیوں کا انتظام کیا۔

یہ بھی دیکھیں: آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران فائرنگ اور ہنگامہ آرائی، 2 افراد جاں بحق

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ پولیس افسران نے مقامی افراد کے سامنے اپنے ماتحت اہلکاروں سے بدتمیزی اور بدسلوکی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران 'پتھراؤ ہوا اور مقامی افراد مجھے بچانے کے لیے میرے پاس آئے'، اور اس موقع پر مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں کے درمیاں بھی تصادم شروع ہوا۔

ایس ایچ او نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں میں سے کسی نے براہ راست فائرنگ کی اور گولی ایک مقامی نوجوان عطا الرحمٰن کو سر میں جا لگی، جسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ واقعے کے بعد مذکورہ مقام پر حالات کشیدہ ہوگئے اور مقامی افراد نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں مسلح اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی۔

سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ویڈیو کلپس میں شردا بازار کو میدانِ جنگ میں تبدیل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

بعد ازاں مقامی رہائشیوں نے مرکزی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے سڑک بند کردیا تھا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں پاک فوج کی گاڑی کو حادثہ، 4 اہلکار شہید

ایس ایچ او نے بتایا کہ واقعے کے بعد سینئر پولیس اور آرمی افسران نے علاقے کا دورہ کیا اور مقامی افراد سے بات چیت کے بعد ایلیٹ فورس کے افسر، جس نے براہ راست فائرنگ کی تھی، سمیت 9 اہلکاروں، جو ہوائی فائرنگ کرنے کے ذمہ دار تھے، کو گرفتار کرکے مقامی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

رات گئے جاری کردہ بیان میں آزاد جموں کشمیر پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ متاثر نوجوان کے اہل خانہ کی مدعیت میں ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، انہوں نے کہا کہ غمزدہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بعدازاں مقامی افراد نے سڑک کو آمد و رفت کے لیے کھول دیا اور منتشر ہوگئے۔

تبصرے (0) بند ہیں