46 افغان فوجیوں کو ’خوش اسلوبی‘ سے کابل حکام کے حوالے کردیا گیا، آئی ایس پی آر

27 جولائ 2021
اہلکاروں کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 35 منٹ پر واپس بھیجا گیا—فائل فوٹو: اسکرین شاٹ
اہلکاروں کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 35 منٹ پر واپس بھیجا گیا—فائل فوٹو: اسکرین شاٹ

اسلام آباد: پانچ افسران سمیت 46 افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر 'خوش اسلوبی' کے ساتھ افغان حکام کے حوالے کردیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان اہلکاروں کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 35 منٹ پر واپس بھیجا گیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ 25 جولائی کو پاک فوج نے پاک افغان سرحد کے اروندو سیکٹر میں افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کے فوجیوں اور بارڈر پولیس کے اہلکاروں کو ان کی درخواست پر محفوظ راستہ فراہم کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے 46 افغان فوجیوں کو پاکستان میں محفوظ راستہ فراہم کیا، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے مطابق ’ضروری کلیئرنس کے بعد افغان فوجی اپنے اسلحے، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے تھے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فوجیوں کو ان کے اسلحے اور آلات کے ساتھ ان ہی کی درخواست پر خوش اسلوبی سے افغان حکام کے حوالے کردیا گیا‘۔

ساتھ ہی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان ضرورت کے وقت اپنے افغان بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کی جانب سے افغان نیشنل آرمی (اے این اے) اور بارڈر پولیس کے 46 فوجیوں کو ’پناہ اور محفوظ راستہ‘ دے دیا گیا۔

مزید پڑھیں:افغان سیکیورٹی فورسز کی درخواست پر امریکی فضائیہ کا طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ

بیان میں بتایا گیا تھا کہ ارندو، چترال کے پار اے این اے کے ایک مقامی کمانڈر نے 46 فوجیوں کے لیے مدد کی درخواست کی تھی جن میں 5 افسران بھی شامل تھے کیونکہ ’وہ افغانستان کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کی وجہ سے پاک افغان سرحد کے ساتھ (اپنی) چیک پوسٹ کو سنبھال نہیں سکتے تھے‘۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’افغان فوجی جوانوں کو فوجی اصولوں کے مطابق کھانا، رہائش اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی ہے‘۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یکم جولائی کو پناہ مانگنے والے 35 افغان فوجیوں کو بھی پاکستان میں محفوظ راستہ دے دیا گیا تھا اور مناسب طریقہ کار کے بعد افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا تھا‘۔

تبصرے (0) بند ہیں