کراچی: ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 02 اگست 2021
عدالت نے کہاکہ ملزمان کے خلاف ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جو  قانون کی خلاف ورزی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
عدالت نے کہاکہ ملزمان کے خلاف ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جو قانون کی خلاف ورزی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی کی مقامی عدالت نے کووڈ-19 کے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ضلع مشرقی اور کورنگی کے کسی بھی تھانے میں دفعہ 188 کے تحت ایف آئی آر کا درج نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ (شرقی) جاوید علی کوریجو نے یہ حکم گلستان جوہر پولیس کی جانب سے صوبے میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں ایس او پیز کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیے گئے آٹھ شہریوں کی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیا۔

مزید پڑھیں: کراچی کے عوام کے لیے موبائل ویکسینیشن شروع کرنے کا اعلان

اتوار کو خصوصی ڈیوٹی پر موجود جج نے یہ حکم دیا۔

جج نے نوٹ کیا کہ تفتیشی افسر انسپکٹر علی محمد گوپانگ نے ملزمان قیصر عباس، ظفر، حفیظ، مبارک علی، طارق، عبدالرحمٰن، سمیر قریشی اور مجیب الرحمٰن کو کووڈ-19 کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہے جبکہ ملزمان کے خلاف دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

جج نے ملزمان کے وکیل، سرکاری پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے دلائل بھی سنے اور ان کے تیار کردہ مواد کی جانچ کی۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ متعدد عدالتوں کی جانب سے ہدایت کی جا چکی ہے کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج نہ کی جائے اور صرف تحریری شکایت کا اندراج کیا جائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر مختلف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اور خلاف قانون ایف آئی آر درج کی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں ہفتے میں دو دن چھٹی، کاروبار رات 8 بجے بند کرنے کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات واضح رہے کہ حکومت کا جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی ایف آئی آر کے بجائے تحریری شکایات درج کرنے کا عندیہ دیتا ہے لیکن متعلقہ ایس ایچ اوز نے حکومتی ہدایات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔

جج نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ضرورت ہے، یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ چیزوں کو ایک طریقے سے انجام دیا جانا چاہیے کیونکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور پولیس کو غیرضروری ایف آئی آر درج کرکے اپنا طریقہ کار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ مقدمے میں پولیس اسٹیشن کے ذمے دار کی حیثیت سے ایس ایچ او نے طے شدہ قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر بدتمیزی کی ہے جبکہ ایس ایچ او گلستان جوہر کو خبردار کیا کہ وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر کے اندراج کا راستہ اختیار نہ کرے۔

تاہم جج نے حکم دیا کہ آج یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ آج سے کووڈ-19 کے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ضلع شرقی اور کورنگی کے کسی بھی پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی تاہم ایس ایچ او تحریری شکایت کا اندراج کر سکتے ہیں، احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ایس ایچ او کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ کا کراچی میں مزید 11 ‘ماس کووڈ ویکسینیشن سینٹرز’ بنانے کا اعلان

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں حق بجانب نہیں ہے لہٰذا ملزمان کو کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 63 کے تحت 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض بری کیا جاتا ہے۔

تفتیشی افسر نے ہدایت کی کہ وہ مذکورہ مقدمے میں کسی تاخیر کے بغیر اپنی رپورٹ پیش کرے۔

جج نے اپنے دفتر کو بھی حکم دیا کہ وہ اس حکم کی ایک نقل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں کو بھی ارسال کرے۔

دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے ایک اعلامیے میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر پولیس انسپکٹر کو کارروائی کا اختیار دے دیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے ترمیمی حکم میں کہا گیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت پولیس انسپکٹر بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر سکیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں