ڈیلٹا کو کورونا کی سب سے زیادہ متعدی قسم بنانے والی جینیاتی تبدیلیاں

اپ ڈیٹ 02 اگست 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ابتدائی معائنے میں کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا میں موجود میوٹیشنز باعث تشویش محسوس نہیں ہوتیں۔

ڈیلٹا میں کورونا وائرس کی ابتدائی اقسام کے مقابلے میں بہت کم جینیاتی تبدیلیاں آئی ہیں۔

فریڈ ہیچسٹن کینسر ریسرچ سینٹر کے بائیولوجسٹ ٹریوور بیڈفورڈ کے مطابق جب لوگوں نے بھارت میں ڈیلٹا سے وبا کو پھیلتے دیکھا تو ان کو نہیں لگا تھا کہ یہ قسم دیگر اقسام کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

مگر وہ تصورات اب غلط ثابت ہوگئے ہیں۔

کورونا کی ابتدائی اقسام کے مقابلے میں ڈیلٹا میں چند ایسی میوٹیشنز اور جینیاتی تبدیلیاں ہوئی ہیں جو اسے دگنی رفتار سے پھیلنے کے قابل بناتی ہیں۔

اگرچہ ضروری نہیں کہ دیگر اقسام کے مقابلے میں ڈیلٹا زیادہ جان لیوا ثابت ہو مگر بہت زیادہ افراد کے بیمار ہونے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے ڈیلٹا کے اسپائیک پروٹین میں ہونے والی میوٹیشنز کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہیں۔

ساسکیٹچوان یونیورسٹی کی وائرلوجسٹ اینجلا راسموسین کے مطابق ڈیلٹا میں میوٹیشنز پر سائنسدانوں کی جانب سے بہت زیادہ کام کیا جارہا ہے تاکہ اس کے سنجیدہ اثرات کو سمجھا جاسکے۔

کورونا وائرس کی جانب سے اسپائیک پروٹین کو انسانی خلیات میں داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں ہونے والی تبدیلیاں وائرس کو جسم کا دفاع کرنے والی اینٹی باڈیز سے بچنے یا اس پر حملہ آور ہونے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

ڈیلٹا میں آنے والی خطرناک تبدیلیاں

ڈیلٹا کا تیزی سے پھیلاؤ اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ اس میں 2 ایسی میوٹیشنز موجود نہیں جن کی بدولت دیگر اقسام کو خطرناک سمجھا گیا۔

ڈیلٹا میں این 501 وائے میوٹیشن دریافت نہیں ہوسکی جو ایلفا، بیٹا اور گیما اقسام میں دیکھی گئی تھیں جن کی بدولت وہ اصل وائرس کے مقابلے میں زیادہ کامیابی سے خلیات پر حملہ آور ہوتی ہیں۔

ڈیلٹا میں ای 484 کے نامی میوٹیشن بھی موجود نہیں جو گیما قسم کو فکرمندی کا باعث بناتی ہے، جس کی بدولت وہ ویکسینیشن والے افراد میں بھی پھیل سکتی ہیں۔

ڈیلٹا میں ڈی سے مراد different اور detour ہے جس کی وجہ اس کا مختلف جینوم میوٹیشن راستہ ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ ویکسینز اس کے خلاف کافی حد تک مؤثر ہیں۔

ویکسینز لوگوں کو کووڈ سے اینٹی باڈیز کے ذریعے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

یہ اینٹی باڈیز اسپائیک پروٹین سے منسلک ہوجاتی ہیں اور وائرس کو خلیات میں داخلے سے روکتی ہیں۔

اگر ویکسینیشن کے بعد بھی کوئی فرد کووڈ کا شکار ہوجائے تو ویکسینز سے ملنے والا تحفظ لوگوں کو سنگین حد تک بیمار نہیں ہونے دیتا، جبکہ ویکسینیشن والے افراد کے بیمار ہونے پر ان سے وائرس کی دیگر افراد تک منتقلی کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

ڈیلٹا میں دیگر اقسام کی چند میوٹیشنز موجود ہیں، جس میں سے ایک ڈی 614 جی نامی میوٹیشن ہے جو وائرل ذرات کی سطح پر موجود اسپائیک پروٹین کی کثافت کو بڑھاتی ہے اور وائرس کے خلیات میں داخلے کو زیادہ آسان بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیلٹا کے اسپائیک پروٹین میں ایک میوٹیشن پی 681 آر بھی موجود ہے جو ایلفا میں موجود ایک میوٹیشن سے کافی مماثلت رکھتی ہے جو مریضوں میں وائرل لوڈ بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

چین میں ایک تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا تھا کہ ڈیلٹا قسم سے متاثر مریضوں میں وائرس کی اوریجنل قسم کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ وائرل لوڈ نظام تنفس کی نالی میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چھینک، کھانسی یا بات کرنے سے زیادہ آسانی سے پھیل جاتا ہے۔

پی 618 آر میوٹیشن جینوم کے ایک حصے furin cleavage میں ہوئی ہے، furin انسانی انزائم میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے جس کو کورونا وائرس ہائی جیک کرلیتا ہے، جس سے اسپائیک پروٹین کو خلیات میں داخلے میں مدد ملتی ہے۔

درحقیقت یہ نئی میوٹیشن اس وائرس کے لیے لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بنادیتی ہے۔

ڈیلٹا میں ایک اور میوٹیشن ایل 452 آر بھی موجود ہے اور تجربات سے عندیہ ملا ہے کہ یہ میوٹیشن وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز سے بچانے کا کام کرتی ہے، مگر کس حد تک اس پر ابھی تحقیقی کام جاری ہے۔

یہ میوٹیشنز الگ الگ کام کرنے کی بجائے بظاہر کسی ٹیم کی طرح مل کر کام کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

ڈیلٹا میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں بھی موجود ہیں جو دیگر اقسام میں نظر نہیں آئیں۔

ان میں سے ایک اسپائیک میوٹیشن ڈی 950 این ہے جو اس لیے منفرد ہے کیونکہ وہ کورونا کی کسی اور قسم میں نظر نہیں آئی۔

یہ میوٹیشن ریسیپٹر جکڑنے والے حصے کے باہر واقع ہے اور ماہرین کے مطابق اس میوٹیشن سے وائرس کو مختلف اعضا اور ٹشوز کو متاثر کرنے کی سہولت ملتی ہے جبکہ وائرل لوڈ بھی بڑھتا ہے۔

ڈیلٹا میں اسپائیک پروٹین کے ایک حصے این ٹرمینل ڈومین میں بھی میوٹیشنز ہوئی ہیں جو وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔

ان میوٹیشنز کے باعث ہی مونوکلونل اینٹی باڈیز دیلٹا کے شکار کووڈ مریضوں کے علاج میں ممکنہ طور پر کم مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور ڈیلٹا کے لیے ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز سے بچنے کی صلاحیت کچھ حد تک بڑھ جاتی ہے۔

یہی ممکنہ وجہ ہے جس کے باعث ڈیلٹا سے ویکسینیشن والے متعدد افراد بھی بیمار ہورہے ہیں، تاہم ویکسینز کی وجہ سے بیماری کی شدت عموماً معمولی یا معتدل ہوتی ہے۔

ڈیلٹا کا مستقبل کیا ہوگا؟

سائنسدانوں کے مطابق یہ پیشگوئی کرنا ممکن نہیں کہ مستقبل میں ڈیلٹا کا رویہ کیسا ہوگا، تاہم یہ بدترین ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا کی وبا 10 سے 12 ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے، جس کے دوران وائرس خطرے کی زد میں موجود آبادیوں میں پھیل سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ کووڈ ویکسینز سے لوگوں کو زبردست تحفظ ملتا ہے اور کورونا کی اقسام کے ارتقا کو سست کرنے کا بہترین ذریعہ دنیا کے ساتھ ویکسینز کو شیئر کرنا ہے، یعنی زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ویکسینیشن۔

کیونکہ وائرسز میں جینیاتی تبدیلیاں اس وقت ہوتی ہیں جب وہ ایک سے دوسرے فرد میں پھیلتے ہیں، ان کے پھیلاؤ کو روکنا میوٹیشن کی روک تھام بھی کرسکتا ہے۔

ماہرین ک مطابق کورونا وائرس کی جان لیوا اقسام کو ابھرنے سے روکنا ہمارے ہاتھ میں ہی ہے، اگر کیسز کی تعداد بہت زیادہ رہی تو وائرس میں ارتقا جاری رہے گا جس کا نتیجہ زیادہ خطرناک اقسام کی شکل میں نکلے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں