وفاق نے متبادل توانائی کے نام پر مہنگے منصوبوں کی منظوری دی، حکومت سندھ

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2021
امتیاز شیخ کے مطابق سندھ میں 650 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے اس پلان سے خارج کردیے گئے —فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
امتیاز شیخ کے مطابق سندھ میں 650 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے اس پلان سے خارج کردیے گئے —فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

حکومت سندھ نے انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2021 کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ حکومت نے سندھ کے کفایتی توانائی کے منصوبوں کو خارج کر دیا ہے، جو آئی جی سی ای پی ماڈل کے کم سے کم لاگت کے اصول کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے متبادل توانائی کے نام پر مہنگے ہائیڈل منصوبوں کی منظوری دی ہے جبکہ سندھ میں ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں کو چھوڑ دیا گیا جو 4 سے 5 پیسے فی یونٹ کی لاگت پر بجلی پیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:توانائی کے پیداواری اور ترسیلی نظام کی اصلاح کی جائے گی، وزیراعظم

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈِسپیچ کمپنی ہر سال آئی جی سی ای پی تیار کرتی ہے جو آئندہ 10 برسوں کے لیے بجلی کی طلب و رسد کا تخمینہ فراہم کرتا ہے۔

خیال رہے کہ 6 ستمبر کو وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں آئی جی سی ای پی کی منظوری دی گئی تھی۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے 26 اگست کو قابل تجدید اور ایٹمی توانائی کے منصوبوں پر عملدرآمد پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پلان کی منظوری دی تھی۔

امتیاز شیخ کے مطابق سندھ میں 650 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے اس پلان سے خارج کردیے گئے، اس اقدام کے لیے انہوں نے وفاقی حکومت کو سندھ مخالف نقطہ نظر کو الزام دیا۔

وزیر توانائی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بار بار سی سی آئی اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ وہ بجلی کے مہنگے منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا تھا۔

مزید پڑھیں:قومی توانائی پالیسی 2021 کی منظوری دی دے ہے، حماد اظہر

آئین کے تحت اگر وفاقی یا صوبائی حکومت سی سی آئی کے فیصلے سے مطمئن نہیں، تو یہ تنازع پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لے کر جاسکتی ہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ ہم سی سی آئی اجلاس کے نکات کا انتظار کر رہے ہیں، جیسے ہی ہمیں نکات موصول ہوتے ہیں ہم قومی اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے اور حتمی حربے کے طور پر عدالت بھی جا سکتے ہیں۔

انہوں نے ہائیڈل پاور کی متبادل توانائی کے طور پر درجہ بندی کو موجودہ توانائی پالیسی کے خلاف قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پلان سے ڈراپ کیے گئے منصوبوں میں جامشورو میں 400 میگا واٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ اور سندھ میں 250 میگاواٹ کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے 5 منصوبے شامل ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں