پاکستان سُپر لیگ کے سُپر ریکارڈز

25 جنوری 2022

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا ساتواں ایڈیشن شروع ہونے کو ہے اور اس سے منسلک ہر خاص و عام اپنے اپنے حصے کا کام بروقت نمٹانے کی دوڑ میں ہے۔ ایک طرف کھلاڑی اپنی فٹنس اور کارکردگی کی نوک پلک سنوارنے میں لگے ہیں تو دوسری طرف غیر ملکی لیگ کھیلنے والوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

کہیں کوئی اپنی ٹیم کے لیے فتح کی حکمتِ عملی وضع کرنے میں جُتا ہے تو کسی کو گراؤنڈ میں تماشائیوں کے لیے انتظامات مکمل کرنے کی فکر ہے۔ کھلاڑی اور آفیشلز بائیو سکیور ببل میں آچکے ہیں۔ تو ایسے ماحول میں پی ایس ایل کے چیدہ چیدہ ریکارڈز کا ذکر بے محل نہیں ہوگا۔

ٹیم ریکارڈز

اب تک کھیلے گئے 6 ایڈیشنز میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے سب سے زیادہ 2 ٹائٹل جیتے ہیں۔ پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز نے ایک ایک بار یہ اعزاز جیتا ہے۔

ہردلعزیز رانا فواد صاحب کی لاہور قلندرز اب تک صرف دل ہی جیت پائی ہے اور وہ بھی اپنی پرفارمنس سے زیادہ نیا ٹیلنٹ ڈھونڈنے کی وجہ سے۔ زلمی سب سے زیادہ میچ کھیلنے اور جیتنے والی ٹیم ہے۔ اس نے 70 میچ کھیلے اور 38 میں فتح حاصل کی لیکن یونائیٹڈ اپنے 56 فیصد سے زائد میچ جیت کر کامیابی کی بہترین اوسط رکھتی ہے۔

کم از کم اور زیادہ سے زیادہ رنز

اسلام آباد یونائیٹڈ ہی نے اب تک کا سب سے بڑا ٹوٹل اسکور کر رکھا ہے۔ 2021ء میں انہوں نے زلمی کے خلاف 247 رنز کا کوہِ گراں کھڑا کیا تھا۔ ویسے دوسرا سب سے بڑا ٹوٹل 238 بھی یونائیٹڈ ہی کا ہے۔ البتہ زلمی اور قلندرز نے سب سے زیادہ 4، 4 بار 200 یا زائد رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا ہے۔

سب سے کم ٹوٹل پر آؤٹ ہونے کا دھبّہ فی الحال قلندرز کے دامن پر ہے۔ 2017ء میں ان کی پوری ٹیم زلمی کے خلاف محض 59 کے اسکور پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ اب تک پی ایس ایل میں 100 سے کم ٹوٹل پر آؤٹ ہونے کے 6 واقعات رونما ہوئے ہیں اور قلندرز کو یہ خفّت 3 بار اٹھانا پڑی ہے۔

پی ایس ایل میں سب سے کم ٹوٹل پر آؤٹ ہونے کا دھبّہ قلندرز کے دامن پر ہے—تصویر: پی ایس ایل
پی ایس ایل میں سب سے کم ٹوٹل پر آؤٹ ہونے کا دھبّہ قلندرز کے دامن پر ہے—تصویر: پی ایس ایل

جیت یا ہار کا فرق

جیت ہار تو کھیل کا حصہ ہے مگر کبھی کبھی جیت کا فرق اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہار ایک بُری یاد بن جاتی ہے۔ رنز کے اعتبار سے پی ایس ایل تاریخ کی سب سے بڑی جیت ملتان سلطانز نے گلیڈی ایٹرز کے خلاف 2021ء میں 110 رنز سے حاصل کی۔ 100 یا زائد رنز کی یہ اب تک پی ایس ایل کی واحد فتح ہے۔

دوسری طرف اب تک 5 مقابلے ایسے ہیں جن کا فیصلہ صرف ایک رن کے فرق سے ہوا۔ گلیڈی ایٹرز ایسے 2 کانٹے دار مقابلوں میں فاتح رہی۔ وکٹوں کے اعتبار سے اب تک 3 ٹیمیں 10 وکٹوں سے ظفریاب رہی ہیں جبکہ 2 بار ٹیموں نے ایک، ایک وکٹ سے کامیابی اپنے نام کی۔

بیٹنگ ریکارڈز

مجموعی طور پر سب سے زیادہ رنز

ٹی20 کرکٹ فارمیٹ کی تو بنیادیں ہی بلے بازی کو محور بنا کر استوار کی گئی ہیں۔ لیکن پی ایس ایل میں گیند اور بیٹ کی جنگ عموماً یک طرفہ نہیں رہتی بلکہ بلے بازوں کو اپنے رنز بنانے کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

اب تک صرف 10 بلے باز ہی مجموعی طور پر 1000 یا زائد رنز بنا پائے ہیں۔ ان میں شین واٹسن، لیوک رونکی اور رائیلی روسو غیر ملکی بلے باز ہیں۔ پاکستانی کپتان بابر اعظم 2070 رنز بنا کر سب سے آگے ہیں۔ وہ نہ صرف 2 ہزار کا سنگ میل عبور کرنے والے اب تک واحد کھلاڑی ہیں بلکہ کم از کم 10 پی ایس ایل اننگز کھیلنے والوں میں بہترین اوسط 43.12 کے بھی حامل ہیں۔

ایک اننگ میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور

پی ایس ایل کی اب تک کی سب سے بڑی انفرادی اننگ ناقابلِ شکست 127 رنز کی ہے جو کراچی کنگز کے لیے جنوبی افریقی کولن انگرام نے 2019ء میں گلیڈی ایٹرز کے خلاف کھیلی۔ مجموعی طور پر اب تک پی ایس ایل میں 10 سنچریاں بنی ہیں۔ کامران اکمل نے سب سے زیادہ 3 جبکہ شرجیل خان نے 2 سنچریاں بنائی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی اور پاکستانی بلے باز نے سنچری اسکور نہیں کی۔

تیز ترین سنچری اور نصف سنچری

جنوبی افریقہ ہی کے رائیلی روسو نے 2020ء میں سلطانز کی طرف سے محض 43 گیندوں پر سنچری بنائی تھی جو پی ایس ایل میں اب تک کی تیز ترین سنچری ہے۔ ٹی20 کرکٹ میں بلے بازی تو تیز رفتاری ہی کا نام ہے شاید اسی لیے پی ایس ایل کی تمام 10 سنچریاں 60 یا اس سے کم گیندوں پر بنی ہیں۔

نصف سنچریوں کا باب دیکھا جائے تو بابر اعظم 21 بار 50 یا اس سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ یقیناً ان کی پہلی پی ایس ایل سنچری کا سبھی کو بے تابی سے انتظار ہے۔ دوسرے نمبر پر کافی فرق کے ساتھ کامران اکمل ہیں جنہوں نے 3 سنچریوں کے ساتھ 11 نصف سنچریاں بھی بنائی ہیں۔

تیز ترین نصف سنچری کا اعزاز بھی کامران اکمل اور آصف علی کے پاس ہے جنہوں نے 17، 17 گیندوں پر 50 رنز بنائے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 8 بار صفر پر آؤٹ ہونے کی خفّت اٹھانے والے بھی کامران اکمل ہی ہیں۔ انگریزی میں کہتے ہیں ناں کہ ’آل ان اے ڈیز ورک‘۔

سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ

اب تک پی ایس ایل کے کھیلے جانے والے سیزن میں سب سے زیادہ 69 میچ کھیلنے والے کامران اکمل کا تذکرہ ابھی جاری رہے گا کیونکہ سب سے زیادہ چھکے بھی انہوں نے ہی رسید کیے ہیں۔ وہ اب تک 84 بار ہوائی راستے سے گیند کو باؤنڈری لائن سے باہر پہنچا چکے ہیں۔

کامران اکمل کے بعد حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں جاندار اسٹروکس سے اپنی دھاک بٹھانے والے آصف علی 68 چھکوں کے ساتھ دیگر بلے بازوں میں آگے ہیں اور ان سے مزید کی بھی امید ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ وہ اس بار ایک اننگ میں سب سے زیادہ چھکے مارنے کا ریکارڈ اپنے نام کر پاتے ہیں یا نہیں جو اس وقت بین ڈنک کے پاس ہے۔ بین ڈنک نے 2020ء میں قلندرز کی جانب سے کنگز کے خلاف 99 رنز کی اننگ میں 12 چھکے لگائے تھے۔ اسی سال گلیڈی ایٹرز کے خلاف بھی ببل گم پھلاتے بین ڈنک نے 10 چھکے رسید کیے تھے۔

پی ایس ایل میں اب تک سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ کامران اکمل کے پاس ہے—تصویر: پی ایس ایل
پی ایس ایل میں اب تک سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ کامران اکمل کے پاس ہے—تصویر: پی ایس ایل

سب سے زیادہ اسٹرائیک ریٹ

بیٹنگ کی رفتار کو اسٹرائیک ریٹ سے ماپا جاتا ہے۔ پی ایس ایل میں کم از کم 25 یا زائد رنز کی اننگز میں بلند ترین اسٹرائیک ریٹ کا ریکارڈ 450 کا ہے جو گلیڈی ایٹرز کے آل راؤنڈر انور علی کے پاس ہے۔ انور علی نے 2019ء میں کنگز کے خلاف صرف 6 گیندوں پر 27 رنز بنائے تھے۔ یہ دنیا بھر میں کھیلی جانے والے تمام ٹی 20 کرکٹ میں 25 یا زائد رنز کی تیسری تیز ترین اننگ تھی۔

آصف علی نے 2018ء میں یونائیٹڈ کی طرف سے 6 گیندوں پر 26 رنز بنائے تھے۔ پی ایس ایل کی تاریخ میں 400 یا زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلی گئیں 25 یا زائد رنز کی یہ دو ہی اننگز ہیں۔

ایک سیزن میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا ریکارڈ

کسی ایک پی ایس ایل ایڈیشن میں مجموعی طور پر 400 یا زائد رنز جوڑنے کا کارنامہ اب تک 8 بار سر انجام دیا گیا ہے۔ بابر اعظم اب تک 3 بار ایک ایڈیشن میں 400 یا زائد مجموعی رنز بنا چکے ہیں۔ 2021ء میں بابر کی طرف سے بنائے گئے 554 رنز ایک پی ایس ایل ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ ہے۔

طویل ترین شراکت

پارٹنر شپ کے ریکارڈز میں بھی جابجا بابر اعظم کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ اب تک پی ایس ایل میں 150 یا زائد رنز کی صرف 6 شراکتیں ہی بن پائی ہیں اور بابر اعظم ان میں سے 3 میں ساجھے دار رہے ہیں۔ پی ایس ایل کی سب سے بڑی 176 رنز کی شراکت بھی بابر اعظم اور شرجیل خان کے مابین 2021ء میں کنگز کی طرف سے یونائیٹڈ کے خلاف بنی۔

باؤلنگ ریکارڈز

مجموعی طور پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ

پاکستان سپر لیگ باؤلنگ میں اپنے بلند معیار کے لیے جانی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے کئی کھلاڑی، کوچز اور ماہرین اس بات پہ مُہرِ تصدیق ثبت کرچکے ہیں۔ باؤلنگ میں وہاب ریاض اب تک 94 وکٹیں حاصل کرکے سب سے آگے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس ایڈیشن میں 100 پی ایس ایل وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے والے پہلے باؤلر ضرور بن جائیں گے۔

’جنریٹر‘ جشن منانے والے حسن علی 72 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ کسی ایک پی ایس ایل ایڈیشن میں سب سے زیادہ 25 وکٹیں لینے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ اسپنرز میں محمد نواز 55 وکٹوں کے ساتھ سب سے نمایاں ہیں۔ پی ایس ایل میں اب تک 12 باؤلرز مجموعی طور پر 40 یا زائد وکٹیں لے چکے ہیں اور ان میں کوئی بھی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔

بہترین انفرادی باؤلنگ

حیرت انگیز طور پر پی ایس ایل کی بہترین انفرادی باؤلنگ کارکردگی کا اعزاز روی بوپارا کے پاس ہے جو اپنی بیٹنگ کے لیے زیادہ مشہور سمجھے جاتے ہیں۔ بوپارا نے پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں کنگز کی طرف سے قلندرز کے خلاف صرف 16 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

فہیم اشرف اور عمر گل بھی میچ میں 6 وکٹیں لینے کا کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کے علاوہ 4 دیگر باؤلرز نے ایک اننگ میں 5، 5 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ لگے ہاتھوں یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ حسن علی اب تک سب سے زیادہ 3 بار میچ میں 4 یا زائد وکٹیں لے چکے ہیں۔

پی ایس ایل میں اب تک بہترین انفرادی باؤلنگ کا سہرا روی بوپارا کے سر ہے—تصویر : پی ایس ایل
پی ایس ایل میں اب تک بہترین انفرادی باؤلنگ کا سہرا روی بوپارا کے سر ہے—تصویر : پی ایس ایل

بہترین اکانومی ریٹ

پی ایس ایل میں کم از کم 250 گیندیں کروانے والے باؤلرز میں بہترین اکانومی ریٹ (یعنی فی اوور رنز دینے کی اوسط) ویسٹ انڈین اسپنر سنیل نارائن کا ہے۔ ان کا اکانومی ریٹ 6.22 ہے۔ محمد حفیظ، محمد سمیع، ذوالفقار بابر، محمد عرفان اور ’لالہ‘ شاہد آفریدی اس فہرست میں 7 سے کم اسٹرائیک ریٹ رکھنے والے دیگر کھلاڑی ہیں۔

اس ضمن میں محمد نواز کے اس اسپیل کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی جب انہوں نے 2018ء میں دبئی میں گلیڈی ایٹرز کی طرف سے قلندرز کے خلاف اپنے حصے کے 4 اوورز میں فقط 4 ہی رنز دے کر میچ میں 1 رنز فی اوور کا ناقابلِ یقین اکانومی ریٹ حاصل کیا تھا۔

ایک میچ میں زیادہ رنز دینے والوں میں یونائیٹڈ کے اسپنر ظفر گوہر سرِفہرست ہیں۔ 2021ء میں زلمی کے بلے بازوں نے ان کے 4 اوورز میں 65 رنز بٹورے تھے۔ ایک میچ میں 60 یا زائد رنز دینے والے دوسرے باؤلر شاہین شاہ آفریدی ہیں۔ 2019ء میں یونائیٹڈ کے بلے بازوں نے ان کے خلاف 62 رنز حاصل کیے تھے۔

فیلڈنگ ریکارڈز

بہترین وکٹ کیپر

کامران اکمل پی ایس ایل میں اپنی اچھی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپنگ میں بھی نمایاں ہیں۔ وہ اب تک 60 شکار کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ پچھلے برس دنیائے ٹی20 پر حکمرانی کرنے والے محمد رضوان 51 شکار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں اور کیا عجب کہ وہ اس بار کامران اکمل سے آگے نکل جائیں۔

وکٹ کیپنگ میں 50 یا زائد شکار کرنے والی فہرست انہی دو پر تمام ہوتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اب تک کے 6 پی ایس ایل ایڈیشنز میں 62 میچ کھیلنے والے سرفراز احمد صرف 39 شکار ہی کر پائے ہیں۔ ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ 20 شکار کا اعزاز محمد رضوان کے پاس ہے جبکہ ایک میچ میں سب سے زیادہ شکار 4 ہیں جو 5 بار کیے گئے جن میں سے کامران اکمل نے دو بار یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔

سب سے زیادہ کیچ پکڑنے کا ریکارڈ

فیلڈنگ میں گلیڈی ایٹرز کے محمد نواز 32 کیچوں ساتھ سرِفہرست ہیں۔ بابر اعظم بھی 30 کیچوں کے ساتھ بالکل قریب ہی ہیں۔ ان 2 کے علاوہ 5 مزید کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 20 یا زائد کیچ پکڑ رکھے ہیں۔

ایک میچ میں سب سے زیادہ 4 کیچ تھامنے کا ریکارڈ مشترکہ طور پر روی بوپارا، کیرن پولارڈ اور بابر اعظم کے پاس ہے۔ جبکہ ایک ایڈیشن میں سب سے کامیاب فیلڈر کا اعزاز 10، 10 کیچوں کے ساتھ فخر زمان اور کیرن پولارڈ کے پاس ہے۔

پی ایس ایل میں سب سے زیادہ کیچ پکڑنے کا ریکارڈ محمد نواز کے پاس ہے—تصویر: ٹوئٹر
پی ایس ایل میں سب سے زیادہ کیچ پکڑنے کا ریکارڈ محمد نواز کے پاس ہے—تصویر: ٹوئٹر

پی ایس ایل کا تازہ ترین ایڈیشن دو دن بعد شروع ہورہا ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس کی نت نئی اقسام کا پھیلاؤ ہماری زندگیوں کو معمول پر آنے نہیں دے رہا مگر ایسے تناؤ بھرے ماحول میں سب کے پسندیدہ کھیل کی قومی لیگ کا انعقاد یقیناً لوگوں کے لیے تفریح اور خوشی کا باعث ہوگا اور ساتھ ہی ریکارڈز کے ٹوٹنے، بننے کا عمل بھی جاری رہے گا۔ دیکھتے ہیں کون رنز کے ڈھیر لگاتا ہے، کس کی وکٹوں کی تعداد سب سے زیادہ رہتی ہے اور کس کس کا نام اپنی کارکردگی کے باعث زبان زدِعام ہوتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں