معاملہ شجاعت، زرداری اور پرویز الٰہی کا: کب اور کیا کچھ ہوا؟

23 جولائ 2022

چند روز قبل میں نے تحریر کیا تھا کہ ‘اگر میں سوچوں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب میں اکثریت حاصل کرکے پرویز الہٰی کو وزیرِ اعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوگئی تو میری طبیعت ٹھیک نہیں بلکہ مجھے کوئی وہم ہوگا اور وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا‘۔

پی ٹی آئی نے اپنے جن مقاصد کے حصول کے لیے پرویز الہٰی کو استعمال کیا اس سے غالباً پرویز الہٰی بھی پوری طرح واقف نہ ہوں مگر اس مقصد کی تہہ تک چوہدری شجاعت حسین کو پہنچنے میں کوئی دیر نہ لگی ہوگی۔

مجھے سیاسی طورپر ہر دو کے ساتھ کام کر نے کا اتفاق ہوا۔ چوہدری شجاعت حسین، نوابزادہ نصر اللہ خان کی طرح معاملہ فہم، ذہین اور سیاسی بصیرت سے مالا مال ایک شخصیت کے مالک ہیں اور اگر آصف زرداری بھی ان کے ساتھ شریک ہوں تو پورے پاکستان کے تمام سیاستدان ملکر بھی ان کا سیاسی میدان اور بصیرت کے حوالے سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔

2002ء کے انتخابات سے قبل اسلام آباد میں ہم خیال سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں چوہدری شجاعت حسین، فاروق لغاری، غلام مصطفی جتوئی، اجمل خٹک سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں کچھ معاملات طے ہونے تھے اور چوہدری شجاعت حسین اور میں مسلم لیگ کی نمائندگی کررہے تھے۔

طویل گفتگو کے بعد چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مجھے تمام معاملات پر اتفاق ہے اور اگر ایک مختصر کمیٹی اس سب پر عمل درآمد کرنے لیے بن جائے تو بہت بہتر ہوگا چنانچہ محمد علی درانی اور مجھ پر مشتمل ایک کمیٹی پر اتفاق ہوا۔ اجلاس خوشگوار ماحول میں ختم ہوا اور تمام افراد وہاں سے رخصت ہوئے۔

ابھی گاڑی ای سیون کے گھر سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکلی تھی کہ مجھے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میٹنگ ذرا طویل کرلیجیے گا۔ اگلے روز محمد علی درانی کا فون آیا تو میں نے عذر پیش کیا کہ کراچی جارہا ہوں اور پھر لاہور جانا ہے۔ اس کے بعد کبھی محمد علی درانی درانی موجود نہ ہوتے اور اکثر میں حاضر نہیں ہوتا، اور اب 20 سال گزر گئے ہیں مگر ہماری اس ایجنڈے پر کوئی ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔

چوہدری شجاعت حسین کبھی ضرورت سے زیادہ بولتے ہیں اور ہر کوئی ان کی بات سمجھ بھی نہیں سکتا۔ میرا خیال ہے کہ اب چوہدری پرویز الہٰی اور بالخصوص مونس الہٰی ان کی بات سمجھنے سے قاصر ہوچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وقت پر بات کرنا، ضرب لگانا، کام کرنا ابھی بھی چوہدری شجاعت حسین سب سے بہتر جانتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ڈپٹی اسپیکر نے غداری کی، ان پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، چوہدری پرویز الہٰی

ان کے گھریلو معاملات اگر سرِ بازار کوئی بھی لائے تو اس کو یہ جان لینا چاہیے کہ اب جوابی حملہ بہت کاری ہوگا۔ چند ہفتے قبل ان کے برادر عزیزم وجاہت حسین نے گجرات میں ایک تقریب میں سرِ عام چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادوں پر زرداری سے ڈالر لینے کا الزام لگایا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہمارے کچھ لوگوں کے آگے پولیس چلتی ہے اور کچھ کے پیچھے پولیس لگی ہے مزید برآں سالک حسین کا گجرات کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ گویا چوہدری شجاعت حسین نے مختصر بیان تو جاری کیا مگر خاموشی سادھ لی۔

جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں جب ریاستی ادارے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات کرنا اور کروانا چاہتے تھے اور پرویز مشرف بھی مجبور تھے تو چوہدری شجاعت حسین نے بند کمرے میں تو اپنے خیالات کا اظہار کیا مگر اپنے گھر کے پچھلے لان میں وہ گاڑی لاکر کھڑی کردی جو گولیوں سے چھلنی تھی اور ان کے والد اس میں مارے گئے تھے۔ چوہدری شجاعت ہر اہم پارٹی رہنما کو گاڑی دکھاتے کہ اسی گاڑی پر چوہدری ظہور الہٰی پر حملہ ہوا تھا۔ جس کو جو پیغام دینا مقصود تھا وہ پوری طرح مل گیا تھا۔

چوہدری پرویز الہٰی کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے قتل سے قبل ایک ای میل کے ذریعے اپنے قتل کے ذمہ داروں میں شامل کیا تھا۔ صدر زرداری کے ایک کارکن ڈاکٹر قیوم سومرو کے ذریعے آدھی رات کو شجاعت اور پرویز الہٰی کی ملاقات کا اہتمام کروایا۔ اس کے بعد پرویز الہٰی بظاہر ڈپٹی پرائم منسٹر (جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں) سینیئر وزیر بن کر حکومت میں شامل ہوئے اور زرداری نے قتل کے اس معاملے پر پھر کبھی ان کا نام نہیں لیا۔

دوسری طرف چوہدری شجاعت حسین نے حکومتی ہاسٹل کے ایک حصے کو سب جیل قرار دے کر آصف زرداری کو حوالاتی قیدی اور اسپیکر کے حکم پر اسمبلی حاضری کے لیے بلواکر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ رہنے کی اجازت دی۔ گویا مروت، تعلق، لحاظ الگ اور سیاست اپنی اپنی قائم رہی۔

چوہدری شجاعت نے اس بات کی شدت سے مخالفت کی کہ عمران خان کے ساتھ ملکر اپنی سیاست نہ کریں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مفاہمت کی راہ کو ہموار کریں اور آصف زرداری کے ساتھ اپنے وعدہ کو نبھائیں مگر پرویز الہٰی اپنے قابل ترین سپوت مونس الہٰی کے ہاتھوں شطرنج کے بادشاہ کی طرح سیاسی خاتمے کا منظر دیکھنے کو بے تاب تھے۔

ایک چار دیواری میں رہتے ہوئے جب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تو طبل جنگ ناصرف بج گیا بلکہ شکست اور فتح بھی ایک ہی دروازے سے اس چار دیواری میں ایک ہی لمحہ میں ہم قدم ہوکر داخل ہوئی۔ ماموں نے بھانجے کے بہت لاڈ اٹھائے مگر عزت داؤ پر لگانے کی اس کو اجازت نہ دی بلکہ اس کی ناپختہ سیاست اور ناتجربہ کاری کو زک بھی پہنچا دی۔

جائیداد تقسیم، معاملات الگ الگ، کاروبار جدا جدا، مفادات اپنے اپنے اور اب جماعت بھی اپنی اپنی۔ فرض کریں سپریم کورٹ حمزہ شہباز کو وزیرِ اعلیٰ برقرار رکھتی ہے تو کیا پرویز الہٰی پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے اور مونس اور حسین الہٰی بمعہ کامل علی آغا کے لیے مسلم لیگ میں کیا مقام اور عزت ہوگی؟ اور اگر حمزہ کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو حمزہ پھر بھی ایوان کے رکن ہوں گے اور وہ پھر وزیرِ اعلیٰ بن جائیں گے۔ سپریم کورٹ 163 اے پر اگر نظرثانی کرے گی تو پھر بھی حمزہ کا کچھ نہیں بگڑے گا اور میرے نزدیک دوست محمد مزاری اسپیکر پنجاب اسمبلی بن جائیں گے۔

مزید پڑھیے: گجرات کے چوہدری

عمران خان کی سیاست میں ایک موڑ ابھی آنا باقی ہے اور وہ ہے فنڈنگ کیس۔ فیصلہ خلاف ہی آئے گا کیونکہ حقائق تو عمران خان کے وکیل تسلیم کرچکے ہیں۔ پھر سازش، گالی، بدتمیزی، احتجاج، گھیراؤ، جلاؤ، کردار کشی کے بیانیے میں شدت آئے گی مگر اب ریاست ملک کی معاشی صورتحال کو مزید برباد نہیں ہونے دے گی۔

حکیم ثناءاللہ راجپوت نبض پر ہاتھ رکھتے ہی دوائی پلا کر شفاخانے سے رخصت کردیں گے۔ وہ جن کو گالی دی جارہی ہے انہوں نے زبان سے تو کچھ نہیں کہنا، ہاتھ بھی استعمال نہیں کریں گے مگر ہر چیز کو اپنے اصل کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جس قوت سے خان صاحب اپنے وسائل مالی یا روحانی استعمال کریں گے اسی قوت سے نیوٹن کے تیسرے کلیے کے مطابق قدرتی ردِعمل ہوگا۔

6 روز قبل لکھے فقرات کو دوبارہ استعمال نہیں کرنا چاہتا مگر یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ خون کا رنگ سرخ ہی ہوتا ہے اور سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ چوہدری شجاعت حسین کو جو میراثی گالی دینے کی کوشش کررہے ہیں ان کو چاہیے کہ علم حاصل کریں اور ذمہ دار بن کر ریاست کی تباہی کرنے والوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ یعنی اگر تو میرا نہیں بنتا، اپنا تو بن۔ نفاق ڈالنے کی ضرورت نہیں استحکام کی ضرورت ہے اور اس اندھی تقلید سے گریز کریں۔ پرویز الہٰی اپنے بڑے بھائی سے معاملات طے کریں اور سیاست کے ایک اچھے باب کو پراگندہ مت کریں۔

اپنی رائے دیجئے

4
تبصرے
1000 حروف
Awan Jul 23, 2022 06:08pm
1990 ki siyasat aor aap ka column. Pakistan aagay nikal chuka hai janab.
Farrukh Jul 23, 2022 09:07pm
Be neutral, dont biased..
Zain Ul Abideen Jul 24, 2022 12:34pm
bewakof insan lagty ho siraf imran khan ki mukhafat ki he achha hota haq bat krty
Adnan Jul 25, 2022 05:08pm
یہ وہی آصف رزداری ہیں جن کی ’سیاسی ذہانت‘ نے ان کی جماعت کو صرف جوڑ توڑ کی سیاست اور ایک صوبے تک محدود کردیا ہے اور وہاں بھی وہ سب سے بڑے شہر سے محروم ہیں