ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد امریکی مسافروں کو تشدد کے زیادہ خطرات ہیں، امریکی محکمہ خارجہ

اپ ڈیٹ 04 اگست 2022
<p>امریکی صدر نے کہا کہ اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے — فائل فوٹو: رائٹرز</p>

امریکی صدر نے کہا کہ اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے — فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی محکمہ خارجہ نے بیرون ملک سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد انہیں تشدد کے زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ایمن الظواہری اتوار کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے، ان کی موت 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ 'اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے'۔

محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ سطح کی جانچ اور صورتحال سے متعلق اچھی طرح آگہی کے بعد ہی بیرون ملک کا سفر کریں۔

یہ بھی پڑھیں: القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

محکمہ خارجہ سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ موجودہ معلومات کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی مفادات کے خلاف دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد خودکش حملے، قتل، اغوا، ہائی جیکنگ اور بم دھماکوں سمیت متعدد دیگر حربے استعمال کر سکتے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے سینئر حکام نے بتایا کہ مصر کے 71 سالہ جہادی کو اتوار کی صبح 2 ہیل فائر میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، وہ افغانستان کے دارالحکومت میں 3 منزلہ مکان کی بالکونی میں تھا۔

یہ حملہ اگست 2021 میں امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد پہلا امریکی ڈرون حملہ ہے، جب طالبان نے اقتدار حاصل کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایمن الظواہری کی ہلاکت: ’مستقبل میں پاک افغان تعلقات اچھے نہیں رہیں گے‘

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی، تاہم انہوں نے ایمن الظواہری یا کسی اور کی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں