القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

اپ ڈیٹ 02 اگست 2022
امریکی صدر نے کہا کہ اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے — فائل فوٹو: رائٹرز
امریکی صدر نے کہا کہ اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے — فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا نے ایک حملے میں القاعدہ کے سربراہ اور اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی ایمن الظواہری کو ہلاک کردیا، یہ حملہ 2011 میں القاعدہ کی بنیاد رکھنے والے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد عسکریت پسند تنظیم کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ایمن الظواہری اتوار کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔

ایمن الظواہری، ایک مصری سرجن تھے جن کے سر پر ڈھائی کروڑ ڈالر کا انعام تھا، انہوں نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو منظم کرنے میں مدد کی جس میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: داعش شدت پسند تنظیم ہے، القاعدہ سربراہ

وائٹ ہاؤس سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ 'اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے'۔

جو بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ 'چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگے، چاہے آپ کہیں بھی روپوش ہوں، اگر آپ ہمارے لوگوں کے لیے خطرہ ہیں تو امریکا آپ کو ڈھونڈے گا اور نکال باہر کرے گا'۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'امریکی انٹیلی جنس مختلف خفیہ اطلاعات کے ذریعے 'پورے اعتماد' کے ساتھ پرعزم ہے کہ جو شخص مارا گیا وہ ایمن الظواہری تھے۔'

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ انہیں کابل میں ایک 'سیف ہاؤس' کی بالکونی میں قتل کیا گیا جہاں وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہتے تھے، اس کے علاوہ کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا۔

عہدیدار نے ایک کانفرنس کال پر کہا کہ ایمن الظواہری امریکی افراد، مفادات اور قومی سلامتی کے لیے ایک فعال خطرہ تھے، ان کی موت القاعدہ کے لیے ایک اہم دھچکا ہے اور اس سے گروپ کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: القاعدہ افغانستان کے 15 صوبوں میں موجود ہے، اقوام متحدہ

حالیہ برسوں میں متعدد بار القاعدہ رہنما کی موت کی افواہیں سامنے آئیں اور طویل عرصے سے ان کی صحت کی خرابی کی اطلاعات تھیں۔

ان کی موت سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ایمن الظواہری کو طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد چھپننے کی جگہ فراہم کی۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ سینئر طالبان رہنما شہر میں ان کی موجودگی سے آگاہ تھے۔

یہ حملہ اگست 2021 میں امریکی فوجی دستوں اور سفارتکاروں کے افغانستان سے نکلنے کے بعد پہلا امریکی ڈرون حملہ ہے۔

ایک بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی تصدیق کی اور اسے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: نائن الیون کی 20 ویں برسی پر القاعدہ کے سربراہ کی نئی ویڈیو جاری

طالبان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آج صبح کابل پر کم از کم ایک ڈرون پرواز کرنے کی اطلاعات ملی تھیں۔

سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایمن الظواہری کی تلاش دہشت گردی کے خلاف مسلسل کام کا نتیجہ ہے۔

عہدیدار کے مطابق امریکا نے اس سال شناخت کیا کہ ایمن الظواہری کی اہلیہ، بیٹی اور ان کے بچے کابل میں ایک سیف ہاؤس میں منتقل ہوگئے تھے اور پھر دیکھا کہ وہ خود بھی وہاں موجود تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایمن الظواہری اس مقام پر پہنچے، تو ہمیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کبھی سیف ہاؤس سے باہر نکلے یا نہیں البتہ بالکونی میں ان کی کئی بار شناخت ہوئی، جہاں انہیں بالآخر مار دیا گیا۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ وہ سیف ہاؤس میں ویڈیوز بناتے رہے ہیں جو شاید ان کی موت کے بعد جاری کی جائیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں