روس، یوکرین کے ایک دوسرے پر ’نیوکلیئر پاور پلانٹ‘ پر گولہ باری کے الزامات

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2022
<p>روس کے زیر قبضہ علاقے میں واقع پلانٹ پر  گولہ باری کی گئی تھی —فائل فوٹو: رائٹرز</p>

روس کے زیر قبضہ علاقے میں واقع پلانٹ پر گولہ باری کی گئی تھی —فائل فوٹو: رائٹرز

ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے پر جنوبی یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول جوہری پاور پلانٹ کی حدود میں گولہ باری کے الزامات لگائے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایٹمی ٹیکنالوجی کے نگران ادارے جس کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم بھی پلانٹ میں موجود ہے نے کہا کہ پلانٹ کی حدود میں ہفتے اور اتوار کے روز طاقتور دھماکے ہوئے تھے۔

یہ یوکرین میں موجود روس کے زیر قبضہ یورپ کا سب سے بڑا جوہری پاور پلانٹ ہے۔

روسی فوج نے اپنے یک بیان میں کہا کہ کیف اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جن کا مقصد نیوکلیئر پاور پلانٹ میں بڑی تباہی کے سنگین خطرات اور خدشات پیدا کرنا ہے۔

روسی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گولہ باری کے باوجود تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔

روسی فوج نے کہا کہ فائر کیے گئے میزائل پلانٹ کی ان پاور لائنوں کے قریب پھٹے جو چوتھے اور پانچویں پاور یونٹ اور “خصوصی عمارت نمبر 2 کو سپلائی فراہم کرتی ہیں۔

روسی نیوکلیئر ایجنسی روساٹوم کے مشیر نے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کو بتایا کہ خصوصی عمارت میں جوہری ایندھن موجود ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ یوکرین نے پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے والی لائنوں پر شیلنگ کی۔

دوسری جانب، یوکرین کی جوہری توانائی کے ادارے انرگوٹوم نے روسی فوج پر یوکرین کی بجلی فراہمی کو مزید محدود کرنے کے لیے پلانٹ کے ضروری انفراسٹرکچر پر گولہ باری کا الزام لگایا۔

اپنے ایک جاری بیان میں ادارے نے کہا کہ آج صبح 20 نوبر بروز اتوار کی صبح متعدد روس کی جانب سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں جوہری پاور پلانٹ کی حدود میں کم از کم 12 گولے گرے۔

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ ہفتے کی شام اور اتوار کے روز ہونے والے ایک درجن سے زیادہ دھماکوں نے یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پاور پلانٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس طرح کے حملوں سے بڑی جوہری تباہی کا خطرہ ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں