برطانیہ: عدالت کا اسکاٹ لینڈ کوعلیحدگی کیلئے ریفرنڈم کی اجازت پارلیمنٹ سے لینے کا حکم

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2022
<p>انہوں نے کہا کہ کیا بنیادی جمہوری حق ملے گا کہ ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں— فوٹو: رائٹرز</p>

انہوں نے کہا کہ کیا بنیادی جمہوری حق ملے گا کہ ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں— فوٹو: رائٹرز

برطانیہ کی اعلیٰ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی حکومت برطانوی پارلیمان کی منظوری کے بغیر علیحدگی کے لیے دوسرے ریفرنڈم کا انعقاد نہیں کرسکتی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عدالتی حکم سے قوم پرستوں کو اگلے برس رائے شماری کرانے کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔

آزادی کی حامی اور اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کی رہنما اور اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نیکولا اسٹرجیون نے رواں برس کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے برس اکتوبر میں علیحدگی کے حوالے سے مشاورتی ووٹ کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن یہ قانونی اور عالمی طور پر تسلیم شدہ ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ کی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وہ برطانیہ کی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر یہ نہیں کر سکتیں، انہوں نے برطانیہ بھر میں انتخابات میں اپنی مہم کے عزم کا اعادہ کیا ہے جن کا انعقاد 2024 میں متوقع ہے، صرف اس پلیٹ فارم پر کہ آیا اسکاٹ لینڈ کو علیحدہ ہونا چاہیے یا نہیں،جس نے اسے ڈی فیکٹو ریفرنڈم بنا دیا ہے۔

نیکولا اسٹرجیون نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں لازمی دوسرا جمہوری قانونی اور آئینی راستہ تلاش کرنا ہوگا تاکہ اسکاٹ لینڈ کے لوگ اپنی خواہش کا اظہار کر سکیں، میری نظر میں یہ صرف ایک الیکشن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت خطرے میں ہے، یہ اس حوالے سے ہے کہ کیا ہمیں اپنا بنیادی جمہوری حق ملے گا یا نہیں کہ ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔

2014 کے ریفرنڈم میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں نے انگلینڈ کے ساتھ 300 سال پرانے اتحاد کوختم نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا اور اس کے لیے 45 کے مقابلے میں 55 فیصد ووٹ پڑے تھے لیکن قوم پرستوں کا اصرار تھا کہ اس کےبعد بریگزٹ نے صورت حال تبدیل کر دی ہے، حالانکہ اسکاٹ لینڈ کی اکثریت نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ کی حکومت نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ دوسری رائے شماری کی اجازت نہیں دے گی۔

برطانوی سپریم کورٹ کی جانب سے 5 ججوں کے متفقہ فیصلے میں اسکاٹش حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسی کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے جس کے تحت برطانیہ کی پارلیمان کی منظوری کے بغیر دوسرے مشاورتی ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو۔

برطانیہ کے وزیراعظم رشی سوناک نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے لوگ ہم سے چاہتے ہیں کہ جو اہم مسائل ہیں ان کا اجتماعی طور پر مقابلہ کریں، چاہے وہ معیشت ہو، نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کی حمایت کرنا ہو یا پھر یوکرین کی بھرپور سپورٹ کرنا ہو، یہ وقت ہے کہ سیاست دان مل کر کام کریں، قوم پرستوں کے لیے آگے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے ایکٹ 1998 کے تحت، جسے اسکاٹش پارلیمان اور ویسٹ منسٹر کے چند طاقت ور لوگوں نے بنایا تھا، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے اتحاد سے متعلق تمام معاملات برطانیہ کی پارلیمان کا استحقاق ہیں، عدالت نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کوئی ریفرنڈم حتیٰ کہ مشاورت بھی استحقاق کے معاملے میں آتا ہے۔

نیکولا اسٹرجیون نے کہا ہے کہ یہ جمہوریت کا مسئلہ ہے۔

نیکولا اسٹرجیون نے کہا کہ بالکل صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ ایسی نام نہاد شراکت داری جس میں ایک شراکت دار دوسرے کے مستقبل کا فیصلے کرنے کے حق کو مسترد کرتا ہے، یہاں تک کہ خود سے سوال نہ پوچھنا کسی بھی طرح رضاکارانہ یا حتیٰ کہ شراکت داری کے طور پر بھی بیان نہیں کیا جاسکتا۔

لندن نے دلائل دیے ہیں کہ زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافے اور انرجی بحران کے درمیان ایک اور تقسیم کرنے والی آزادی کے لیے رائے شماری کرانا غلط ہوگا جبکہ ملک یوکرین جنگ کے منفی اثرات اور کورونا کی عالمی وبا کے بعد بحال ہو رہا ہے۔

آزادی کے مہم جووں کا کہنا تھا کہ ان اہم مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ اسکاٹ لینڈ کا ہونا چاہیے، دائیں بازو کی برطانوی حکومت اسکاٹ لینڈ میں غیر مقبول ہے، جہاں پولز کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کو صرف 15 فیصد حمایت حاصل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک درجن سے زیادہ علیحدگی پسند ریلیاں پورے اسکاٹ لینڈ اور یورپ کے کئی حصوں میں نکالی جائیں گی، سب سے بڑی ریلی ایڈنبرگ میں اسکاٹش پارلیمان کے باہر نکالے جانے کی توقع ہے جہاں پر دعویٰ کیا جائے گا کہ جمہوریت کو مسترد کیا جارہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں