امریکا میں خام تیل کے اسٹاک میں کمی، خام تیل کی قیمت بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل ہوگئی

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2022
<p>اوپیک پلس کا اگلا اجلاس 4 دسمبر کو طے ہے— فائل فوٹو: رائٹرز</p>

اوپیک پلس کا اگلا اجلاس 4 دسمبر کو طے ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

چین میں کم طلب کے خدشات کے باوجود امریکا میں خام تیل کے اسٹاک میں توقع سے زیادہ کمی کے سبب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق برینٹ کے مستقبل کے سودوں کے لیے 1.03 ڈالر یا 1.17 فیصد اضافے کے بعد 89.39 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئیں جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے لیے قیمت 86 سینٹس یا 1.06 فیصد اضافے کے بعد 81.81 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 18 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا میں خام تیل کے اسٹاک میں 48 لاکھ بیرل کی کمی ہوئی۔

رائٹرز کوملنے والی تجزیہ کاروں کی رائے کی اوسط کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں 11 لاکھ بیرل کی کمی ہوئی۔

امریکا کے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کی جانب سے اعداد و شمار 1530 جی ایم ٹی پر جاری کیے جائیں گے۔

سعودی عرب سمیت تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی (اوپیک پلس) کی جانب سے تیل کی پیدوار بڑھانے پر غور نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے قیمتوں کو مسلسل سپورٹ مل رہی ہے، اوپیک پلس کا اگلا اجلاس 4 دسمبر کو طے ہے۔

جی-7 گروپ کی جانب سے روسی تیل پر کیپ عائد کرنے کے منصوبے اور اس پر روس کی جانب سے ردعمل پر غیریقینی نے بھی مارکیٹ کو کسی حد تک سپورٹ فراہم کی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سینئر حکام نے بتایا کہ قیمت کے کیپ کا اعلان جلد ہو جائے گا اور ممکنہ طور پر اس کو سال میں چند بار تبدیل کیا جائے گا۔

اونڈا کے سینئر تجزیہ کار کریگ ایرلام نے بتایا کہ اب مسئلہ صرف معیشت، چین اور جی-7 کے فیصلے کے بعد روس کی پیدوار کے حوالے سے ہے، میرا نہیں خیال کہ اتار چڑھاؤ میں کمی ہونے جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ عوامل دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک چین میں طلب کی کمی کے خدشات کو دور کر دیا ہے، جہاں پر کوویڈ کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

چین نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر بیجنگ میں پارک، شاپنگ مال اور عجائب گھر بند کردیے، جس کے بعد معیشت کی جلد بحالی کے امکانات پر ایک مرتبہ پھر خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

جس کی وجہ سے آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے معاشی منظر نامے پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی اگلے برس معاشی نمو میں کمی کی پیش گوئی کر رہی ہے۔

پی وی ایم آئل ایسوسی ایشن کے تجزیہ کار ٹماس ورگا نے بتایا کہ دوسری طرف، او ای سی ڈی عالمی کساد بازاری نہیں دیکھ رہی اور شاید اس سے قیمتیں اور ذخائر مزید مضبوط ہوں گے۔

ٹماس ورگا نے بتایا کہ مارکیٹ آخری لمحات تک امریکی فیڈرل ریزرو کی نومبر میں پالیسی اجلاس کا انتظار کرے گی تاکہ ممکنہ طور پر معاشی سست روی اور شرح سود میں مزید اضافے کا اندازہ لگا سکے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں