ان فارم انگلش کرکٹ ٹیم کا 17 سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان سے سامنا

اپ ڈیٹ 29 نومبر 2022
<p>انگلینڈ نے اپنے ہوم گراؤند پر کھیلے گئے  آخری 7 ٹیسٹ میچوں میں سے 6 میں کامیابی حاصل کی — فوٹو: اے ایف پی</p>

انگلینڈ نے اپنے ہوم گراؤند پر کھیلے گئے آخری 7 ٹیسٹ میچوں میں سے 6 میں کامیابی حاصل کی — فوٹو: اے ایف پی

کپتان بین اسٹوکس اور کوچ برینڈن میک کولم کی قیادت میں شاندار کرکٹ کھیلنے والے انگلینڈ کو 17 برس بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی کنڈیشنز میں کرکٹ میچ کا مزہ چکھنے کا موقع ملے گا جب دونوں ٹیمیں جمعرات کو راولپنڈی میں پہلے ٹیسٹ میں آمنے سامنے ہوں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق بین اسٹوکس اور نیوزی لینڈ کے سابق عظیم بلے باز برینڈن میک کولم کی قیادت میں انگلینڈ نے اپنے ہوم گراؤند پر کھیلے گئے اپنے آخری 7 ٹیسٹ میچوں میں سے 6 میں کامیابی حاصل کی۔

انگلش ٹیم کے کھیل میں یہ شاندار تبدیلی 17 ٹیسٹ میں سے صرف ایک میچ میں کامیابی کے مایوس کن سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے جب کہ اس بدترین کارکردگی میں آسٹریلیا میں ایشز سیریز میں 4 صفر کی ذلت آمیز شکست بھی شامل ہے، جس کے بعد ہیڈ کوچ کرس سلور ووڈ کو برطرف کردیا گیا اور کپتان جو روٹ کی جگہ بین اسٹوکس نے ٹیم کی کمان سنبھالی تھی۔

تاہم کوچ برینڈن میک کولم نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان میں ایسی پچز ہیں جہاں بال بہت نیچا اور اس کی رفتار بہت ہلکی رہتی ہے جب کہ یہاں انگلینڈ نے آخری بار 2005 میں ٹیسٹ کھیلا تھا، ان کنڈیشنز میں ان کی ٹیم کو ایک مختلف چیلنج کا سامنا ہوگا۔

سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے پاکستان کو گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران زیادہ تر ہوم ٹیسٹ سیریز نیوٹرل مقامات پر کھیلنی پڑی تھیں جو عام طور پر متحدہ عرب امارات ہوتا تھا۔

برینڈن میک کولم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ ہمارے سامنے کتنا بڑا چیلنج درپیش ہے لیکن یہ چیلنجگ صورتحال بہت اچھی ہے اور اسی وجہ سے آپ کھیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں جارحانہ اور اٹیکنگ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا تو ہم اسی طرح کی کرکٹ کھیلنے کوشش کریں گے اور اس آپشن کو اختیار کریں گے۔

خیال رہے کہ انگلینڈ کے اسی نئے جارحانہ انداز کے باعث رواں سال وہ 277، 299، 296 اور 378 کے ہدف کا باآسانی تعاقب کرنے میں کامیاب رہا۔

تاہم انگلش کرکٹ نے پاکستان میں کھیلے گئے 22 ٹیسٹوں میں سے صرف 2 جیتے ہیں، 4 میں اسے شکست ہوئی جب کہ باقی 16 میچ بے نتیجہ رہے۔

انگلش ٹیم می شامل فاسٹ باؤلر جیمز اینڈرسن نے 2005 میں انگلینڈ کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تھا لیکن کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا تھا، اب وہ اپنے 667 وکٹوں کے تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلو پچز پر وکٹیں لینے کی کوشش کریں جب کہ تیز گیند باز مارک ووڈ ہپ انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہوگئے ہیں۔

تجربہ کار جو روٹ اپنی ٹیم کی ناتجربہ کار بیٹنگ لائن کو سہارا دیں گے جب کہ پاکستان کے بائیں بازو کے نعمان علی کے علاوہ میزبان ٹیم میں نئے شامل ہونے والے زاہد محمود اور ابرار احمد مہمان ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کریں گے۔

شاہین شاہ آفریدی آؤٹ

ہوم ٹیم اسٹرائیک باؤلر شاہین شاہ آفریدی کی کمی محسوس کرے گی جو گھٹنے کی انجری کے باعث سیریز سے باہر ہیں جب کہ تجربہ کار لیگ اسپنر یاسر شاہ آؤٹ آف فارم ہونے کے باعث ڈراپ ہوگئے ہیں۔

قومی ٹیم کے ناتجربہ کار پیس اٹیک کی قیادت نسیم شاہ کریں گے جنہوں نے 13 ٹیسٹ کھیلے ہیں جب کہ حارث رؤف اور محمد وسیم جونیئر اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کریں گے۔

کپتان بابر اعظم نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف کھیلنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے اور میں اپنے باصلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ انگلش ٹیم کا سامنا کرنے کے لیے تیار اور منتظر ہوں۔

اگر پاکستان کرکٹ ٹیم یہ ہوم سیریز 2 صفر سے جیت جاتی ہے تو وہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پانچویں نمبر سے دوسرے نمبر پر آجائے گی جب کہ اس کی ابھی نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز بھی باقی ہے، 9 ٹیموں میں سے ٹاپ 2 ٹیمیں آئندہ سال فائنل میں مد مقابل ہوں گی۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اس وقت ساتویں نمبر پر ہے اور وہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ راولپنڈی اسٹیڈیم میں ایسی پجز کی تیاری کرسکتا ہے جہاں میچز کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات زیادہ ہوں جب کہ اس سے قبل رواں سال کے شروع میں آسٹریلیا کے خلاف ڈرا ہونے والے میچ میں صرف 14 وکٹوں کے نقصان پر ایک ہزار 187 رنز بنے تھے۔

اس میچ کی پچ کو میچ ریفری رنجن مدوگالے نے اوسط سے نیچے درجے کی پچ قرار دیا اور آسٹریلوی بلے باز اسٹیو اسمتھ نے اسے ’بے جان ’ قرار دیا تھا۔

اگر پچ نے اسپن باؤلنگ کو سپورٹ کیا تو انگلینڈ لیفٹ آرم اسپنر جیک لیچ کے تجربے پر اعتماد کرے گا اور 18 سالہ لیگ اسپنر ریحان احمد کو بھی شامل کرکے ان کا ڈیبیو کرا سکتا ہے، ریحان احمد کو ابتدائی طور پر ریزرو کھلاڑی کے طور پر نامزد کیے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔

جیک لیچ کو ایشیا کی پچوں پر کھیلنے کا تجربہ ہے، انہوں نے گزشتہ 4 برسوں کے دوران سری لنکا میں 28 اور بھارت میں 18 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں