پاکستان سے رواں ماہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کو تقریباً سوا لاکھ موبائل فون برآمد

15 دسمبر 2022
اس وقت 31 موبائل فون لائسنس ہولڈر کمپنیاں ہیں جن میں  سام سنگ، نوکیا، شیاؤمی  اور دیگر مشہور چینی کمپنیاں شامل ہیں—فوٹو: پی ٹی اے
اس وقت 31 موبائل فون لائسنس ہولڈر کمپنیاں ہیں جن میں سام سنگ، نوکیا، شیاؤمی اور دیگر مشہور چینی کمپنیاں شامل ہیں—فوٹو: پی ٹی اے

پاکستان نے رواں ماہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی مختلف مارکیٹوں میں ایک لاکھ 20 ہزار موبائل فون سیٹ برآمد کیے لیکن مقامی صنعت کار نے برآمدات کی اس صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ہیڈ کوارٹر میں اس کامیابی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر (فنانس) محمد نوید اور ممبر (کمپلائینس اینڈ انفورسمنٹ) ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر نے پاکستان میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

یہ ملک کی واحد موبائل فون برآمد کنندہ ’انووی ٹیلی کام پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کی جانب سے دوسری برآمدی کھیپ تھی، اس کمپنی کو اپریل 2021 میں موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ کا لائسنس دیا گیا تھا۔

یہ برآمدی آرڈر اکتوبر میں حاصل کیا گیا تھا اور اس کی فراہمی دسمبر میں مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ افریقی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لیے کی گئی۔

تاہم انووی ٹیلی کام پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او ذیشان میاں نور نے صنعت کو درپیش صورتحال پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی کم تعداد میں برآمدات سے موبائل مینوفیکچرنگ سیکٹر کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، انڈسٹری کی ترقی کے لیے باقاعدہ ایکسپورٹ آرڈرز حاصل کرنا ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خام مال کی درآمد کے لیے مختص کوٹے سے متعلق پابندیاں مینوفیکچررز کو درپیش دیگر اہم مسائل کے علاوہ صنعت کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

ذیشان میاں نور نے کہا کہ موبائل انڈسٹری کو موبائل فون سیٹ اسمبلنگ کے لیے بنیادی پارٹس درآمد کرنے کے لیے سالانہ 8 کروڑ 30 ڈالر کا کوٹہ دیا گیا ہے جب کہ صنعت کو مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کے لیے 18 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خام مال کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب مینوفیکچررز پاکستانی خریداروں کی طلب کو ہی پورا نہیں کر پا رہے تو وہ موبائل فون برآمد کیسے کر سکتے ہیں؟

موبائل فون بنانے والی ایک کمپنی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ حکومت نے موبائل مینوفیکچررز کو 3 فیصد آر اینڈ ڈی الاؤنس دینے کا اپنا وعدہ وفا نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی غیر مستحکم پالیسیاں عالمی برانڈز کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں کہ وہ پاکستان میں موبائل فونز بنا کر مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، چین سمیت دنیا کے ان تمام خطوں میں موبائل فون برآمد کر سکیں جہاں سستے فون نہیں بنائے جا رہے۔

اس وقت 31 موبائل فون لائسنس ہولڈر کمپنیاں ہیں جن میں سام سنگ، نوکیا، شیاؤمی اور دیگر مشہور چینی کمپنیاں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال اگست میں کمپنی کی جانب سے تیار کردہ 5 ہزار 500 اسمارٹ فونز یو اے ای برآمد کیے گئے تھے جس کے بعد پاکستان پہلی مرتبہ ’مینوفیکچرڈ ان پاکستان‘ کے ٹیگ کے ساتھ فور جی اسمارٹ فونز کا برآمد کنندہ بن گیا تھا، کمپنی کو موبائل فون مینوفیکچرنگ کی اجازت اپریل میں دی گئی تھی اور اس نے اپنا پہلا برآمدی آرڈر چار ماہ میں مکمل کیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں