syria-flag670

یونائیٹڈ اسٹیٹس، ایک بار پھر اپنے پسندیدہ میدان جنگ، مڈل ایسٹ  میں جنگ کی طرف مائل ہے- اس حقیقت سے قطع نظر کہ 2001 سے جاری  ایک طویل جنگ کے بعد  اسے افغانستان سے با عزت طریقے سے نکلنے میں کافی  مشکلات کا سامنا ہے- عراق میں جہاں  انہوں نے 2003 میں ایک اور جنگ کا آغاز کیا تھا وہاں بھی اسکی کارکردگی قابل فخر نہیں رہی۔

تو پھر ایک ایسا ملک جسے خود اپنی سرزمین پر معاشی بحران کا سامنا ہے، بیرون ملک مزید مشکلات کو دعوت دینے پر آخر کیوں آمادہ ہے ؟

بہت سی وضاحتیں ہیں جو سوشل میڈیا اور مقبول میڈیا  میں گردش کر رہی ہیں- میں نے یہاں ان سب کو مختصراً بیان کرکے ان میں سب سے زیادہ ممکنہ وجوہات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے-

انسان دوستی کا معاملہ:

امریکا، شامی عوام کو ظلم و جبر کی حکومت سے چھٹکارا دلانا چاہتا ہے-

ہنسنے کی ضرورت نہیں، مداخلت پسندوں کی ایک پوری جماعت ہے جو ایسا سمجھتی ہے اور اپنے خیالات میں حق بجانب ہے. ان کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے بڑی بےغرضی کے ساتھ   پہلے بھی انسانیت کے لئے انمول خدمات سرانجام دی ہیں- لیکن میرا خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کے لئے سکرپٹ لکھنے والوں کو کویی نیا پلاٹ سوجھ نہیں رہا جبکہ  آج کل کوئی بھی وہی پرانا گھسا پٹا ڈرامہ نہیں دیکھنا چاہتا -

اس کے اھم اشارے یہ ہیں :

نمبر ایک: یو کے نے اس نئی جنگ کے لئے اپنی حمایت سے انکار کر دیا ہے-

نمبر دو۔ صدر اوباما بھی سمجھتے ہیں کہ یہ قدم  خاصہ ناپسندیدہ ہے، چانچہ کانگریس کی پیشگی منظوری حاصل کر کے اسے قانونی حیثیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں-

 شامی حکومت کے خلاف احتجاج کا آغاز سنہ 2011 سے ہوا اور ابتدا میں اسے عرب انقلاب کی ایک منطقی توسیع کے طور پر دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بہت سے ممالک کی حکومتیں تبدیل ہوئیں-

لیکن دوسری جگہوں کے برعکس ،شام میں عرب انقلاب نے اپنا مستقل ڈیرا جما لیا اور ایک طویل، خونی خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا-  دنیا بھر سے خدمات خلق کے کارکن اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، اس تنازعہ میں شامل تمام پارٹیوں کی طرف سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر باقاعدگی سے رپورٹ کرتے رہے ہیں-

ہیومن رائٹس واچ رپورٹ 2013 ، کے باب شام میں، حزب اختلاف کا یہ دعویٰ بیان کیا گیا ہے کہ اس تنازعہ کے دوران 2011 کے اختتام سے لے کر نومبر، 2012 تک پینتیس ہزار شہری ہلاک ہوۓ ہیں-

زیادہ تر، میڈیا ارگنائزیشنز اب اس تنازعہ میں ہونے والا کل نقصان 100,000 بتاتے ہیں-

اور اگر آپ کا دل مضبوط ہے تو آپ ایک ہولناک ویڈیو کے بارے میں سی این این کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں جس میں ایک شامی باغی کو ایک سپاہی کا دل کھاتے ہویے دکھایا گیا ہے-

 کہتے ہیں جنگ میں سب کچھ جائز ہے- تاہم، جنیوا کنونشن اس بات  سے متفق نہیں اور اس نے کچھ حدود  وضع کی ہیں- ان میں سے ایک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہے اور امریکا کا یہ ماننا ہے کہ شام نے وہ حد پار کر لی ہے- اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ شام میں حال ہی میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گۓ ہیں جن سے سینکڑوں شہری ہلاک ہوگۓ- انٹرنیشنل میڈیکل ہیومینیٹیرین ارگنائزیشن،  میڈیسنس سانز فرنٹیئر (ایم ایس ایف) کا یہ بیان، 21 اگست، کو دمشق کے قریب بڑے  پیمانے پر کیمیائی ہتھیار سے ہلاکتوں کی پہلی رپورٹ ہے۔

لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ حکومتی فورسز نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے- حقیقت تو یہ ہے کہ بعض  ایسی رپورٹس بھی  ہیں جو دوسری جانب اشارہ کرتی ہیں، وہ اس بدترین ہتھیار کے استعمال کا الزام باغیوں کو ٹھہراتی ہیں-

بی بی سی کی یہ رپورٹ پڑھیں، جس میں  مئی 2013،  میں اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن کے ایک اھم رکن  کے سوئس ٹی وی کو دے گۓ بیان کا حوالہ دیا گیا ہے ، یہ بات قاتل گیس کے حالیہ استعمال سے کہیں پہلے کی ہے-

"ہمیں ملنے والی پہلی علامتوں کو دیکھ کر میں تھوڑا چکرا گیا تھا… وہ حزب اختلاف کی طرف سے  اعصابی گیس کے استعمال کر بارے میں تھیں"-

اور اگر آپ ایک بھرپور نظریہ سازش میں دلچسپی رکھتے ہیں، کہ کس طرح اعصابی گیس کا واقعہ تیار کیا گیا تو آپ کو یہ ضرور پسند آۓ گا-

یو کے کی پارلیمنٹ اس سوال پر ووٹ کر رہی ہے کہ آیا شام پر امریکی حملے کی حمایت کی جاۓ یا نہیں جبکہ اقوام متحدہ کی ٹیم کو ان حقائق کی تحقیق کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کہ آیا شام میں کیمیائی ہھتیاروں کا استعمال اب بھی موجود ہے-

پارلیمنٹیرینز  نے اس کے بجاۓ یو ٹیوب پر موجود شواہد اور ان ویڈیو سے حاصل ہونے والے  ماہرانہ تجزیہ پر انحصار  کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے- حقیقت تو یہ ہے کہ شام میں اقوام متحدہ کی ٹیم پہنچنے سے پہلے ہی امریکا نے شامی حکومت کو مجرم قرار دے دیا ہے-

امریکا جلد از جلد مداخلت کے لئے بے چین ہے-

اگر شامی حکومت نے اپنے شہریوں کے خلاف یہ تباہ کن گیس استعمال کر بھی لی ہے تو کیا اسے سزا دینے کے لئے اقدامات امریکا کو کرنے چاہییں؟

بہت سے ایسے ہیں جو یہ دلیل دیتے ہیں کہ امریکا کے پاس اس 'جنگ' کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے- ماضی قریب میں وہ خود بھی ایسے بہت سے واقعات میں ملوث رہا ہے، اور اس خطّے میں چند سو شہریوں کی ہلاکتوں پر کبھی اس طرح کا ردعمل سامنے نہیں آیا-

یکم ستمبر سنہ 2013 کو، شام کے بارے میں اپنے بیان میں انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے ان بنیادوں پر سوال اٹھاۓ ہیں اور یہ دلیل دی ہے کہ تجویز کردہ فوجی کارروائی سے کوئی حل نہیں نکلے گا-

فرقہ واریت کا معاملہ :

سعودی، شام میں علوی شیعہ حکومت کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں -

سنہ 1970 سےشام پر اسد خاندان کی حکومت ہے، انکا تعلق ایک شیعہ اسلامی فرقہ سے ہے جنہیں علوی کہتے ہیں-

مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ کے دیگر ممالک کیا طرح یہ ملک بھی پہلی جنگ عظیم کے بعد یورپین طاقتوں کے ہاتھوں میں جانے کے بعد سلطنت عثمانیہ سے الگ ہو گیا تھا-

مغربی طاقتوں کی طرف سے وضح کردہ نئی 'قومی' سرحدیں ، فرقہ وارانہ اور قبائلی حدود کے بیچ میں سے گزر گئی ہیں، جنہوں نے ان ممالک میں طاقت کی جدوجہد کو بڑی حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 یہ خطّے کا نقشہ ہے جس میں وہ علاقے دکھاۓ گۓ ہیں جہاں  مختلف اسلامی فرقے آباد ہیں-

شام کے صدر حافظ الاسد ( دائیں جانب بیٹھے ہوئے) اٹھارہ اپریل 1971 کو مصری صدر انورالسادات ( بائیں جانب بیٹھے ہوئے)، لیبیا کے معمر قذافی ( درمیان میں بیٹھے)  بن غازی لیبیا کے مقام پر فیڈریشن آف عرب ریپبلک کے معاہدوں پر دستخط کررہے۔ تاہم ان تین عرب ممالک کے درمیان یہ معاہدہ عمل پذیر نہ ہوسکا۔ تصویر بشکریہ آن لائن میوزیم آف سیرین ہسٹری
شام کے صدر حافظ الاسد ( دائیں جانب بیٹھے ہوئے) اٹھارہ اپریل 1971 کو مصری صدر انورالسادات ( بائیں جانب بیٹھے ہوئے)، لیبیا کے معمر قذافی ( درمیان میں بیٹھے) بن غازی لیبیا کے مقام پر فیڈریشن آف عرب ریپبلک کے معاہدوں پر دستخط کررہے۔ تاہم ان تین عرب ممالک کے درمیان یہ معاہدہ عمل پذیر نہ ہوسکا۔ تصویر بشکریہ آن لائن میوزیم آف سیرین ہسٹری

میگزین ٹائمز، سی این این اور واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ ممتاز صحافی فرید زکریا کا خیال ہے کہ یہ خطّہ طاقت کی تشکیل نو کے عمل سے گزر رہا ہے- وہ بتاتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام کے بعد مڈل ایسٹ کی تین ریاستیں عراق، شام اور لبنان پر  ان ممالک کی اقلیتوں یعنی بالترتیب سنی، شیعہ اور عیسائیوں کی حکومت قائم ہو گئی ہے اور یہ کہ اکثریت کی حامل کمیونٹیز نے پھر جوابی کاروائی تو کرنا ہوگی- انکا یہ ماننا ہے کہ امریکا کی مہربانی سے عراق اور لبنان میں طاقت کا توازن دوبارہ قائم ہو گیا ہے اور اب شام کی باری ہے-

آپ انہیں یہاں سن سکتے ہیں

">

جون 2013 میں ریکارڈ کی گئی اس ویڈیو میں فرید نے امریکا کو مشورہ دیا ہے کہ شامی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی حکمرانوں کو حکومت سے ہٹانے کے بعد عام طور پر  اکثریتی گروہ ان کے ساتھ انتقامی کارروائی کرتے ہیں، اور اس کے تیسرے مرحلے میں اکثریتی کمیونٹیز کے مختلف گروپوں کے درمیان آپس میں لڑائی پھوٹ پڑتی ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ جب تک یہ ملک ایک نیا توازن حاصل نہیں کر لیتا، شام میں خانہ جنگی اگر کئی دہائیوں تک نہ سہی تو سالوں تک ضرور جاری رہے گی،اور  امریکا کو ایسی کسی بھی تکلیف دہ اور ممکنہ بیکار سرگرمی میں ملوث ہونے کا متحمل نہیں ہونا چاہیے- لیکن یہ معقول مشورہ، بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔

آخر ایک اقلیتی حکمران کا تختہ الٹنے میں امریکا کو کیا دلچسپی ہوگی؟

ممکن ہے اسے شیعہ برادری  سے نفرت ہو، لیکن پڑوسی ملک عراق میں، جہاں کے حکمران سے امریکا کو نفرت ہوگئی تھی اور اسے ہٹانے کے لئے اس نے ملک پر حملہ کر کے قبضہ جمایا  پھر وہاں بالآخر ایک  اکثریتی شیعہ برادری کی حکومت قائم ہوگئی جس سےاب امریکا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا۔نہ ہی اس شیعہ حکومت نے اپنے پڑوسی ہم فرقہ ملک ایران کے ساتھ کوئی اتحاد کیا ہے، جسے پورا مغرب اپنی سلامتی کے لئے خطرے کی نظر سے دیکھتا ہے۔

اگر امریکا کو شیعہ برادری سے کوئی مسئلہ نہیں تو پھر ممکن ہے وہ اس خطّے میں اپنے سب سے بھروسہ مند اتحادی سعودی وہابیوں کو خوش کرنے کے لئے یہ سب کر رہا ہے، جن کی شیعہ برادری سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ بہرحال، شام کے اکثریتی سنی وہابی نہیں ہیں اور ملک کی شمالی سرحد پر ترکی واقع ہے جو خود بھی حکومتی فورسز کی مخالفت کر رہا ہے- چناچہ ،اگر اور جب بھی اسد حکومت الٹتی ہے، سعودی عرب اور ترکی دونوں علوی اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں اثر و رسوخ کے لئے تیزی دکھائیں گے-

 جمعرات 26 اکتوبر 2011 کی اس تصویر میں درمیان میں شامی صدر بشارالاسد کھڑے ہیں، ان کے برابر میں سیدھے ہاتھ پر شامی وزیرِ دفاع داؤد رجہا ہیں۔ جبکہ چیف آف سٹاف فہد الجسیم الفریج بائیں جانب ہیں۔ یہ عرب اسرائیل جنگ کی اڑتیسویں سالگرہ کے موقع پر دمشق میں ایک تقریب میں جمع  موجود ہیں۔ یہ جنگ اکتوبر 1973 میں لڑی گئی تھی۔ فائل تصویر اے پی ۔
جمعرات 26 اکتوبر 2011 کی اس تصویر میں درمیان میں شامی صدر بشارالاسد کھڑے ہیں، ان کے برابر میں سیدھے ہاتھ پر شامی وزیرِ دفاع داؤد رجہا ہیں۔ جبکہ چیف آف سٹاف فہد الجسیم الفریج بائیں جانب ہیں۔ یہ عرب اسرائیل جنگ کی اڑتیسویں سالگرہ کے موقع پر دمشق میں ایک تقریب میں جمع موجود ہیں۔ یہ جنگ اکتوبر 1973 میں لڑی گئی تھی۔ فائل تصویر اے پی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی، علوی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کریں گے اور خوشیاں منائیں گے، لیکن وہ اس جنگ کے اختتام پر کسی منافع بخش انعام کی توقع نہیں کر سکتے- سعودی عرب ، شام کو سنبھالنے کے لئے کسی اطاعت گزار ، ماتحت ریاست  کی توقع نہیں رکھ سکتا- اگر فرقہ وارانہ لحاظ سے غور کیا جاۓ تو انہیں بہت کم کچھ حاصل ہوگا، یا دوسرے لفظوں میں ان کے ممکنہ فوائد بنیادی طور پر نفسیاتی ہونگے، جو کسی ٹھوس فائدے میں تبدیل نہیں ہو سکتے-

تو اس صورت حال کی فرقہ وارانہ تشریح یہ واضح کرنے میں ناکام رہی ہے کہ آخرکیوں  امریکہ فقط اپنے اتحادی کو ایسے بیکار فوائد دلانے کے لئے جنگ جیسے غیر مقبول عمل کا مرتکب ہوگا؟ ،

 جنگی حکمت عملی  کا معاملہ :

اسرائیل اور  امریکہ، ایران-شام-حزب اللہ کے درمیان اتحاد  تباہ کر دینا چاہتے ہیں -

علوی شام کے، مشرق میں  شیعہ ایران (پورے عراق سے) اور شیعہ حزب اللہ کے ساتھ  (جس کا لبنان کے مغرب میں کچھ حصّوں پر غلبہ ہے)  اچھے برادرانہ تعلقات ہیں- اسرائیل مخالف حزب اللہ ایک عسکریت پسند اور سیاسی تنظیم ہے جسے زیادہ تر عالمی طاقتوں نے دہشتگرد قرار دیا ہے ، اس کی حمایت اور مدد  ایران کرتا ہے- یہ علاقائی سیاست میں اسلامی ایران کا سب سے اھم  داؤ ہے- اس کا دائرہ عمل کوئٹہ کے قریب شیعہ اثرورسوخ سے شروع ہوکر بحیرہ روم کے  لبنانی ساحلوں تک جاتا ہے-

اگر الاسد حکومت ختم ہوجاتی ہے تو یہ بری طرح متاثر  ہو جاۓ گی اور گمان ہے کہ اس سے  اسرائیل، امریکا اور سعودی عرب کو فائدہ  پنہچے گا- اگر حزب اللہ کمزور ہو جاتی ہے تو اسرائیل کو لاحق سلامتی کا خطرہ بھی کم ہو جاۓ گا- ایران اپنی سرحدوں سے باہر اور اس خطّے میں اپنا واحد اتحادی کھو دے گا، یہ مکمل طور پر تنہا ہو جاۓ گا اور کمزور بھی۔ وہ پہلے ہی مغربی طاقتوں کی طرف سے عائد سنگین پابندیوں کی لپیٹ میں ہے اور یہ سب ایران کے نیوکلیئر طاقت بننے میں تاخیر اور حیثیت کم کرنے کا سبب بنیں گے- امریکا سکھ کا سانس لے گا اور سعودی عرب اس خطّے میں طاقت کے لئے اپنے مرکزی رقیب کے زوال پر جشن مناۓ گا۔

اسی لئے رابرٹ فسک کا خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کا اصل ہدف شام نہیں، در حقیقت ایران ہے-

شامی صدر حافظ الاسد درمیان میں ہے جبکہ بائیں جانب اس وقت عراق کے نائب صدر صدام حسین موجود ہیں۔ سیدھے ہاتھ پر الجزائر کے وزیرِ خارجہ عبدالعزیز ہیں اور دور دائیں جانب شام کے نائب صدر عبدالاالحلیم خدام  بغداد میں عرب لیگ اجلاس میں موجود ہیں۔ تصویر بشکریہ آن لائن میوزیم آف سیرین ہسٹری
شامی صدر حافظ الاسد درمیان میں ہے جبکہ بائیں جانب اس وقت عراق کے نائب صدر صدام حسین موجود ہیں۔ سیدھے ہاتھ پر الجزائر کے وزیرِ خارجہ عبدالعزیز ہیں اور دور دائیں جانب شام کے نائب صدر عبدالاالحلیم خدام بغداد میں عرب لیگ اجلاس میں موجود ہیں۔ تصویر بشکریہ آن لائن میوزیم آف سیرین ہسٹری

لیکن کیا شامی حکومت کے خاتمے سے حزب اللہ کو ملنے والی امداد کے راستے مسدود ہو جائیں گے؟ شام اور ایران کے بیچ عراق موجود  ہے اور امریکا کا اتحادی ہونے کے باوجود،  اس نے نہ تو کبھی ایرانی ہتھیار، شام لے کر جانے والی پروازوں پر نظر رکھنے کی کوشش کی اور نا ہی ارادہ ظاہر کیا- رواں سال مارچ میں جب جان کیری عراقی دورے پر گۓ تو انہوں نے نوری المالکی کی حکومت کو ایرانی پروازوں کے حوالے سے  سرزنش کی-

الجزیرہ کی رپورٹ پڑھیے -

یہ شیعہ دائرہ کار توڑے یا نہ توڑے ، زیادہ تر تبصرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ علوی حکومت کا خاتمہ کئی سالوں تک بدنظمی  اور تباہی کی وجہ بنا رہے گا- تو پھر کیا ان ممکنہ اسٹریٹجک فائدوں کے لئے یہ خطرہ  مول لیا جانا چاہیے؟

کچھ اس بات پر مصر ہیں کہ امریکا اور اسرائیل بڑی حد تک اپنی محفوظ حدوں کی دوسری جانب 'محدود  بدنظمی' چاہتے ہیں- لیکن پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بدنظمی سے مزید شدّت پسندی اور تشدد کو فروغ ملے گا- مزید یہ کہ اسرائیل 1970 سے علوی حکومت کے پڑوس میں رہ رہا ہے، اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی تاریخ میں موجودہ دور وہ واحد وقت ہے جب اسرائیل کو اپنے تقریباً خوابیدہ  ہمساۓ سے کم سے کم خطرہ محسوس ہوا ہوگا- اسرائیل نے ہر طرح سے کامیابی کے ساتھ خود کو اپنے ہمسایوں سے محفوظ اور قلعہ بند رکھا ہوا ہے-

تو پھر اسرائیل شام میں تختہ کیوں الٹنا چاہے گا خصوصاً تب جب کہ اس کے نتائج غیر متوقع ہیں؟

میں، تاہم، اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد خطّے میں ہونے والے اقتدار کی نئی تشکیل سے کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا، لیکن مجھے کوئی ایسی بڑی تبدیلی بھی ہوتی نظر نہیں آتی،ایسی تو یقیناً کوئی بھی نہیں جسے ایک بڑے فوجی اقدام کا خطرہ مول لینے کا جواز بنایا جا سکے-

میرا سوال وہیں ہے کہ آخر شام پر امریکی حملے کا کیا محرک ہو سکتا ہے؟

جنگی صنعت کا معاملہ:

امریکی جنگی صنعت اپنے حریف روس کو منافع بخش مڈل ایسٹ مارکیٹ سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے-

جنگوں میں، ایک انڈسٹری کی طرف سے خدمات، ہھتیار اور گولہ بارود کی فراہمی کا انحصار دیگر انڈسٹریز کی طرح طلب اور فراہمی کے توازن پر ہے- دنیا بھر کی افواج اور سامان جنگ پر نظررکھنے والے ایک معروف ادارے ، اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی)  کے مطابق  سنہ  2011 میں،  دنیا بھر میں، 1,756 بلین  ڈالر افواج پر خرچ کیے گۓ، یہ ادارہ 1968 سے کام کر رہا ہے-

ہر ملک میں جنگی صنعت کا سائز عام طور پر اس کی فوج پرکئے جانے والے خرچ کے تناسب سے ہوتا ہے- چناچہ امریکا اس میں سرفہرست ہے-

سنہ 2011 کے لئے ( ایس آئی پی آر آئی کی جاری کردہ فہرست کے مطابق ) ہتھیار بنانے والی اور فوجی خدمات مہیا کرنے والی دنیا کی سو بڑی کمپنیوں میں سے 44 امریکا سے تعلق رکھتی ہیں- ان کمپنیوں کی  سب سے بڑی خریدار انکی اپنی فوج ہے-

2011 میں دنیا کی دس بڑی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کے بارے میں یہاں پڑھیں :

یہ کمپنیاں اپنی حکومت کی پالیسی کے مطابق، اپنی مصنوعات کی بین الاقوامی تجارت بھی کرتی ہیں-

ایس آئی پی آر آئی، سنہ 2013 کی سالانہ رپورٹ میں لکھتی ہے کہ 2011 میں 'ہتھیاروں کی عالمی تجارت' کا تخمینہ تقریباً 43 بلین ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں نصف سے زیادہ حصّہ صرف دو ممالک، امریکا اور روس کا ہے- امریکی کمپنیوں کا حصّہ تقریباً 30 فیصد ہے جبکہ روس 26 فیصد حصّے کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہے-

بہرحال اس انڈسٹری کا مستقبل روشن دکھائی نہیں دیتا- گزشتہ سال ایس آئی پی آر آئی نے فوجی اخراجات میں کمی نوٹ کی ہے- سنہ 2008 میں، خاص طور سے امریکا اور عمومی طور پر یورپ اور باقی دنیا نے ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کیا، جس کا موازنہ تجزیہ کار، دوسری جنگ عظیم کے بعد 1930 کی دہائی میں انتہایی اقتصادی زوال  سے کرتے ہیں- اس بحران نے حکومتوں کی مالیاتی گنجائش کو نمایاں طورپر کم کر دیا جس پر انہیں مجبوراً اپنے اخراجات کو کم کر کے کفایت شعاری کو اپنانا پڑا- اخراجات کم کرنے کے لئے حکومتی انتخابات پر سیاست حاوی ہوتی ہے- سماجی بہبود کے اخراجات میں کمی کو راۓ دہندگان پسند نہیں کرتے، جبکہ فوجی اخراجات میں کمی پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا-

چناچہ سنہ 2012 میں کل عالمی فوجی اخراجات، سنہ 2011 کے مقابلے میں صحیح معنوں میں کم ہوگۓ، یہ سنہ 1998 کے بعد سے پہلی کمی دیکھنے میں آئی ہے- تاہم، مزید اھم، چیز علاقائی تناسب ہے-

دنیا کے سب سے بڑے واحد امریکی فوجی بجٹ جو کہ تقریباً 700 بلین ڈالر بنتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ جو  کل دنیا کا 40 فیصد ہے، اس میں 5.5 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ وسطی اور مغربی یورپ کے اخراجات 1.6 فیصد تک گھٹ گۓ- ایس آئی پی آر آئی لکھتے ہیں کہ انہوں نے دیگر خطّوں جیسے جنوبی ایشیا کے اخراجات  درج کی ہے، " یہاں پیداواری شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے"- سواۓ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ کے جہاں بالترتیب 8.3 اور 7.8 فیصد کا متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

سنہ 2012 میں ان دونوں خطّوں نے  اپنی افواج پر مجموعی طور پر 154.4 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں- سنہ 2008 سے لے کر 2012 تک ان پانچ سالوں میں سعودی عرب اور یو اے ای ، اسلحہ درآمد کرنے والے ابتدائی دس ممالک میں سے ہیں-

ہتھیار بنانے والی بڑی کمپنیوں کا کاروبار اپنے ملک میں پابندی کا شکار ہے اور انکا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے- ان کی حکومتیں بھی فکرمند ہیں کیوں کہ یہ انڈسٹری لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے-

"انفرادی طور پر یہ کمپنیاں خود کو کفایت شعاری کے اقدامات سے محفوظ رکھنے کے لئے  فوجی مہارت ، ڈاؤن سائزنگ ، تبدیلی، برامدات اور بین الاقوامیت کی دیگر اقسام کا استعمال کر رہی ہیں- بعض صورتوں  میں، ان کمپنیوں کے ماتحت اداروں نے ان  ممالک سے باہر جہاں ان کمپنیوں کے ہیڈکوارٹر ہیں، فوجی خدمات اور ہتھیاروں کی فروخت یا تو برقرار رکھی ہیں  یا پھر اس میں اضافہ کر دیا ہے" ، ایس آئی پی آر آئی -

مڈل ایسٹ کی امید افزا مارکیٹ، مغربی جنگ انڈسٹری کے لئے امید کی کرن ہے- ان کے پاس پیسا ہے، خرچ کرنے کاعزم  ہے، اور اسے کس طرح خرچ کرنا ہے اس پر کوئی پابندی نہیں- بہرحال، یہاں روس بھی موجود ہے اسے چاہے آپ ایک مسئلہ کہیں یا کانٹا- امریکا کا پرانا دشمن جو پورا کھیل بگاڑ سکتا ہے-

عراق، شام اور لیبیا ان ممالک میں سے ہیں جنہوں نے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین  سے اتحاد کیا- ان ممالک کی حکومتوں کو سوویت یونین کی حمایت اور امداد حاصل رہی ہے، اور بعد میں یہ 'ذمہ داری' روس کو منتقل ہو گئی- ان کے یہ اچھے تعلقات سنہ 1990 میں سرد جنگ کے اختتام کے بعد بھی جاری رہے- سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران بھی اس کلب میں شامل ہوگیا-

بہرحال، خلیجی ممالک نے سرد جنگ میں پورے دل و جان کے ساتھ امریکا کی حمایت کی اور ان کی یہ دوستی آگے آنے والے سالوں میں بھی پروان چڑھتی رہی-

روس، عراق، ایران ، لیبیا اور شام کو خوراک، ادویات اور ہتھیار برآمد کرتا رہا ہے- ملک کا ایک بڑا فوجی کمپلیکس ہے جس میں ایک وسیع جنگی انڈسٹری بھی شامل ہے، اس انڈسٹری میں تقریباً  بیس لاکھ افراد ملازم ہیں- اس نے حال ہی میں اپنے فوجی عزائم کی تشکیل نو کی ہے- اس کے 2011-2020 کے اسٹیٹ آرمامنٹ پروگرام میں وسیع پیمانے پر فوجی اصلاحات کے بارے میں  غور کیا گیا ہے- ایس آئی پی آر آئی کے مطابق " سنہ 1999 سے شروع ہونے والے روس میں بڑھتے ہوے فوجی اخراجات کے  رجحان میں  ، سنہ 2012 میں 16 فیصد کی حقیقی شرح کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہوا ہے- فروری 2012 میں، روسی حکومت نے سنہ 2020 تک اپنے فوجی-انڈسٹریل کمپلیکس کو جدید بنانے کے لئے 100 بلین ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے-

سوویت یونین کے زوال کے بعد، روس کی جنگی انڈسٹری کے پاس باہر کی دنیا سے صرف چند خریدار بچے ہیں جس سے ناصرف اس کا کاروبار متاثر ہوا ہے بلکہ اس کے گھٹتے ہوۓ فوجی اثر و رسوخ پر بھی منفی اثرات مراتب ہوۓ ہیں-

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سنہ 2003-2006 کے درمیان، اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں کی بنا پر روسی ہتھیاروں کی ایران کو فروخت 2.1 بلین ڈالر سے کم ہوکر 300 ملین ڈالررہ گئی، لیکن اس کا ازالہ شام کو مزید ہتھیاروں کی فروخت سے ہو گیا ، جس کی طلب سنہ 2003-2006 میں 2.1 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2007-10 تک 4.7 بلین ڈالر ہو گئی-

روس نے حال ہی میں، لیبیا میں معمرالقذافی کی حکومت الٹنےکے بعد اپنا ایک اور بہترین خریدار کھو دیا- روسی ریاست کی ملکیت ہتھیار کی ٹریڈنگ کمپنی، روسو بورون ایکسپورٹ ، کے چیف ترجمان، یشیسلاؤ این. ڈیوڈنکو نے 2012 میں ایک انٹرویو کے دوران یہ انکشاف کیا کہ لیبیا کی نئی حکومت نے ماضی میں لیبیا کے ساتھ ہونے والے 4 بلین ڈالر کے معاہدے منسوخ کردیے ہیں-

 الاسد حکومت کی بے دخلی روسی جنگی انڈسٹری کے ایک اور قیمتی خریدار کو ختم کر دے گی- اس طرح روس دنیا کی سب سے منافع بخش ہتھیاروں کی مارکیٹ مڈل ایسٹ سے باہر نکل جاۓ گا-

اس سے ناصرف اس کی اسٹریٹجک پوزیشن متاثر ہوگی بلکہ عالمی اسلحہ بازار میں اس کی حیثیت کو بھی نقصان پنہچے گا-

ایک کمپنی کا نقصان دوسری کا فائدہ ہوتا ہے اور جب حالات ایسے نازک ہوں تو آپ اسے اگلے موقع کے لئے نہیں چھوڑ سکتے-

لوگوں کا معاملہ :

شام کی آبادی اندازاً 23 ملین ہے، خیبر پختون خواہ سے تھوڑی کم، جن میں سے ایک لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں، اس تنازعہ نے دو ملین سے اوپر افراد کو بے گھر کر دیا ہے، یعنی تقریباً ہر دسواں خاندان گھر سے محروم ہو گیا ہے-

اس تنازعہ کا اختتام سالوں یا  دہائیوں کی دوری پر ہے- اور اس سے بھی زیادہ وقت قبائلی اور فرقہ وارانہ خلیجوں کو پر ہونے میں لگے گا، جس میں ظاہر ہے ایک پوری نسل ضایع ہو جاۓ گی-

شامی اپوزیشن کے خبر رساں شام نیوز نیٹ ورک کی جانب 15 جولائی 2012 کو جاری کردہ اس تصویر میں شامی حمس شہر میں بابا امر کے مقام پر ایک لاش کو دفنایا جارہا  ہے۔ تصویر اے ایف پی
شامی اپوزیشن کے خبر رساں شام نیوز نیٹ ورک کی جانب 15 جولائی 2012 کو جاری کردہ اس تصویر میں شامی حمس شہر میں بابا امر کے مقام پر ایک لاش کو دفنایا جارہا ہے۔ تصویر اے ایف پی

چناچہ جو بھی یہ جنگ جیتے، چاہے وہ امریکی آرمز کارپوریشن ہوں یا روسی ملٹری کمپلیکس، وہ سعودی وہابی ہوں یا ایرانی شیعہ، اسرائیلی فوجی حکمت عملی کے ماہر ہوں یا اسلامی عسکریت پسند، شامی عوام تو پہلے ہی اپنا سب کچھ کھو چکی ہے-

سو اب اس کے کیا معنی رہ جاتے ہیں کہ یہ جنگ کون جیتے گا؟