'نہ جان نہ پہچان نام کیوں پوچھ رہے ہیں'

اپ ڈیٹ 22 مئ 2015

ای میل

ریحام خان — فوٹو بشکریہ بلال خان
ریحام خان — فوٹو بشکریہ بلال خان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی اہلیہ ریحام خان نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے انہیں دھرنے کے دوران کنٹینر کے اندر شادی کی پیشکش کی تھی۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'یہ ہے زندگی' میں میزبان سائرہ کبیر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا اور بتایا کہ وہ اپنے کام کے ساتھ اپنی شادی شدہ زندگی کیسے گزار رہی ہیں۔

عمران خان نے ریحام خان کو شادی کی پیشکش ایک انٹرویو کے دوران کی جس نے ان کی زندگی کو تبدیل کردیا اور اسی واقعے کے بارے میں لوگ سب سے زیادہ جاننا بھی چاہتے ہیں۔

شادی کی پیشکش

ریحام خان نے اس انٹرویو کو ایک 'ناخوشگوار' تجربہ قرار دیا اور کہا کہ انہیں اس انٹرویو سے قبل صرف ایک مرتبہ کسی کنٹینر میں جانے کا اتفاق اپنے ساتھی وسیم بادامی کے ساتھ ہوا اور وہ کنٹینر طاہر القادری کا تھا، جو کہ کافی بڑا اور ایئرکنڈیشنڈ تھا جب کہ عمران خان کا کنٹینر تنگ ہونے کے ساتھ بہت گرم بھی تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 'مجھے انٹرویو والے دن بخار بھی تھا اور عمران خان کو ایئر کنڈیشن سے الرجی ہونے کی وجہ سے وہ بھی نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ یہ کافی ناخوشگوار تجربہ تھا'۔

ریحام کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اب تک یقین نہیں آتا کہ وہ انٹرویو شادی کی پیشکش کی جانب چلا جائے گا حالانکہ وہ میرے بارے میں زیادہ جانتے بھی نہیں تھے۔

ریحام کے مطابق وہ نجی زندگی کو بہت زیادہ چھپاتی نہیں تاہم ان کے قریبی دوست زیادہ نہیں یہاں تک کہ صحافتی حلقوں میں بھی کوئی بھی ان کی پہلی شادی یا بچوں کے بارے میں صحیح معنوں میں کچھ نہیں جانتا تھا۔

ریحام کا کہنا تھا کہ عمران خان نے روایتی انداز میں یہ نہیں کہا کہ 'کیا وہ ان سے شادی کریں گی'؟ بلکہ اس کے برعکس پی ٹی آئی چیئرمین نے انٹرویو کے دوران ان سے ان کے والدین کے مکمل نام پوچھے۔ 'میں نے سوچا نہ کوئی جان نہ پہچان نام کیوں پوچھ رہے ہیں'۔

ریحام کے مطابق ان سوالات پر انہوں نے عمران خان سے وضاحت طلب کی کہ وہ کیوں یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔

جس پر عمران خان کا ان سے کہنا تھا کہ وہ ان کے والدین کا اس لئے پوچھ رہے ہیں تاکہ کوئی ان کے لیے استخارہ کر سکے کہ کیا وہ صحیح فیصلہ کرنے جا رہے ہیں یا نہیں۔

ریحام خان کے بقول عمران خان نے ان سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ کیا 'وہ اس رشتے میں دلچسپی رکھتی ہیں یا نہیں'۔

عمران خان نے ریحام خان سے ان کے خاندان کے حوالے سے بات کی جس پر ریحام خان نے ان کو غصے سے چپ کرا دیا کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

اور آخر میں اس بات چیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان نے ریحام سے پوچھ ہی لیا کہ کیا ان کو یہ رشتہ قبول ہے۔

ریحام کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان میں تبدیلی اس وقت نظر آئی جب انہوں نے اپنے بڑے بیٹے سلیمان کی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ویسے تو سخت آدمی نظر آتے ہیں لیکن ان کے اندر نرم انسان چھپا ہوا ہے اور تب ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ وہ ٹی وی پر جیسے نظر آتے ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہیں۔

ریحام خان کا برطانیہ میں گزرا دورا ان کے کیریئر کا نہایت کامیاب وقت تھا لیکن جب شو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کس وجہ سے انہوں نے پاکستان میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا تو ایک طویل جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے موٹر وے پر ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی اور ان کا آدھا جسم فریکچر کا شکار ہوگیا۔

ریحام خان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد ایسی خاتون جس سے تھوڑی دیر بھی بیٹھا نہیں جاتا اب چل بھی نہیں پارہی تھی، وہ ایسا مانتی ہیں کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے اور اس حادثہ کے بعد ان کی زندگی بھی نہایت کامیابی کی طرف چلی گئی۔

ایک مہینہ ہسپتال میں گزارنے کے بعد ریحام نے اپنا پہلا ٹی وی شو وہیل چیئر پر بیٹھ کر کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس موقع پر ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ ان کا اصل دوست کون ہے اور کون نہیں۔

ریحام کے بقول ان کی اس موقع پر ان لوگوں نے مدد کی جن کو وہ اپنا دوست بھی نہیں مانتی تھیں، ان کے عملے کے لوگ ان کی وہیل چئیر کو لے کر اوپر جاتے تھے اور اس موقع پر انہوں نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں ہی اپنی زندگی گزاریں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اگر وہ نہ رکتی تو کبھی خان صاحب سے نہیں مل پاتیں'۔

عمران خان کے حوالے سے ریحام خان کا کہنا تھا کہ عمران بہت جلد لوگوں کو معاف کردیتے ہیں چاہے کسی نے ان کا دل ہی کیوں نہ دکھایا ہو۔

لیکن ان کے ساتھ کوئی کرکٹ میچ دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کیوں کہ وہ میچ کے دوران نہایت جذباتی ہوجاتے ہیں جس کے باعث انہیں دوسرے کمرے میں جا کر میچ دیکھنا پڑتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نہایت صفائی پسند ہیں اور وہ کھانے کے معاملے میں نخرے بھی نہیں دکھاتے۔

ریحام کا تحریک انصاف کے حوالے سے کہنا تھا کہ ان کے لئے پی ٹی آئی کی ساکھ جیسے پہلے تھی اب بھی ویسے ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک نئی جماعت ہے جس کا ساتھ نوجوان دے رہے ہیں ،اسے باقی پارٹیوں سے کم تجربہ ہے اور میں اس پارٹی اور کے پی کے کو بہت عرصے سے جانتی ہوں۔

کیا ریخام سیاست میں اپنا کردار ادا کریں گی؟

اس سوال پر ریحام کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور کچھ تبدیل کرنے کے لئے ان کو وزیر اعظم یا ایم این اے بننے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا اج کل سیاست میں صرف وہ شامل ہوتا ہے جسے پیسے کمانے ہوں۔

سیاست دان نہایت جھوٹے ہوتے ہیں؟

ریحام خان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا سیاست دان جھوٹ بولتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ سیاست دان سو فیصد جھوٹے ہوتے ہیں البتہ ان کے شوہر سیاست دان نہیں لیکن ان سے جھوٹ بولا نہیں جاتا۔

ریحام خان کا مزید کہنا تھا کہ 'اگر مجھے اپنے بارے میں کسی کو سمجھانا ہو تو میں یہی کہوں گی کہ میں ایک بہتر ماں ہوں، کیوں کہ میں پوری زندگی میں بچوں کے قریب ہی رہی ہوں'۔

کسی اور نام سے پکارنے کے حوالے سے ریحام کا کہنا تھا کہ 'میں اپنا نک نیم نہیں بتاوں گی کیوں کہ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا کہ کوئی مجھے ریحام سے ہٹ کر کچھ اور بلائے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'عمران خان اکثر کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں البتہ میرے بچے بھی مجھے بہت چاہتے ہیں اور میرے کام کے حوالے سے میری غلطیاں بھی بتاتے ہیں'۔

ریحام خان ایک بار پھر ڈان نیوز پر شو کر رہی ہیں جو آئندہ اتوار کو 11 بج کر 5 منٹ پر دکھایا جائے گا۔ اور ان کا پہلا انٹرویو ان کے شوہر کے ساتھ ہی ہے۔

ریحام خان کے بقول عمران خان قوم کے ہی نہیں ان کے بھی ہیرو ہیں۔