لتا کو پسند آنے والی پاکستانی آواز اب کہاں ہے؟

26 جولائ 2016

ای میل

ماسٹر اسلم — وائٹ اسٹار فوٹو
ماسٹر اسلم — وائٹ اسٹار فوٹو

کراچی : ماسٹر اسلم کہاں غائب ہوگئے ہیں؟

ہاں یہ کراچی کے وہی رکشہ ڈرائیو اسلم ہیں جن کی فیس بک ویڈیو کو دیکھ کر مشہور انڈین گلوکارہ لتا منگیشکر بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں اور اس طرح ماسٹر اسلم راتوں رات شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اپریل کے دوسرے ہفتے میں ماسٹر اسلم کی اپنے رکشے میں بڑے غلام علی کی ٹھمری ' یاد پیا کی آئے' کی ویدیو فیس بک پر وائرل ہوئی اور لتا جی نے بھی اسے دیکھا۔ لیجنڈ گلوکارہ نے فوری طور پر اس کلپ پر کمنٹ کرتے ہوئے کہا " ابھی ابھی مجھے کسی نے یہ ویڈیو بھیجی، یہ کوئی رکشہ چلانے والا ہے، جسے سن کر میں حیران ہوگئی، آپ بھی سنیئے، میں دل سے چاہتی ہوں کہ یہ فنکار رکشہ نہ چلائے بلکہ مائیک کے سامنے کھڑا ہو"۔

لتا منگیشکر کی جانب سے ماسٹر اسلم کی صلاحیت کو سراہنے پر پاکستانی میڈیا کی جانب سے ہسٹریائی ردعمل سامنے آیا، پلک جھپکنے میں اسلم لگ بھگ ہر ٹیلی ویژن چینیل پر انٹرویوز دینے لگیں، لتا جی کی ستائش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وعدہ کرنے لگے کہ وہ ریاض کو جاری رکھیں گے، جو کہ ان کی مالی مشکلات کے باعث متاثر ہوا ہے۔

ایسا انہوں کیا بھی، اور وہ واقعی ایک خاص گلوکار ہیں، ایسے گلوکار جو موسیقی کے بارے میں جانتے ہیں اور آپ کو کسی غلط نوٹ پر ٹوک سکتے ہیں۔

ٹی وی چینیلز کو انٹرویوز کے دوران اسلم سے یہ وعدے کی گئے کہ ان کی زندگی میں اب بہتر تبدیلی آئے گی۔

ایک موقع پر انڈین گلوکار دلیر مہدی نے کہا کہ وہ ایک فلیٹ اسلم کے لیے عید کے تحفے کے طور پر خرید کر دیں گے، انہوں نے اسلم کو کہا کہ وہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں اپارٹمنٹ خرید سکتے ہیں۔

اسی طرح میڈیا میں یہ وعدے بھی کیے گئے کہ اسلم کا مشکل دور اب ختم ہوگیا اور اب وہ پرسکون زندگی گزار سکیں گے، جس کے بعد وہ صرف اپنی آواز پر ہی توجہ مرکوز کرسکیں گے۔ کیا یہ وعدے پورے ہوے؟ آخر ماسٹر اسلم اچانک شوبز کی دنیا سے کہاں غائب ہوگئے؟

پیر کی صبح ڈان سے بات کرتے ہوئے اسلم کافی دل شکستہ نظر آئے " ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا، میں اب بھی وہاں ہو جہاں پہلے کھڑا تھا، دلیر مہدی نے کہا تھا کہ وہ میرے فلیٹ کی چابی عید پر میرے حوالے سے کریں گے، مگر انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا"۔

تو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا کررہے ہیں ؟ " جو میرے قریب ہیں وہ میرے ساتھ تعاون کررہے ہیں، ایک ٹی وی چینیل میرے ساتھ رابطے میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ مجھے ملازمت دیں گے، اس کا کہنا ہے کہ وہ کچھ روز میں مجھ سے رابطہ کریں گے"۔

یہ سب ہمارے معاشرے کے بارے میں کیا بتاتا ہے ؟ یقیناً کچھ زیادہ نہیں، اگرہ لتا جی کراچی کے اس گلوکار کے بارے میں بات نہ کرتی تو انہیں ایسی توجہ نہ ملتی جو اپریل میں ملی، اس کے بعد بھی ان کی سریلی آواز تاحال لوگوں تک پہنچ نہیں سکی ہے۔

یہ خبر 26 جولائی کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔