تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی کرکٹ ٹیم نے حال ہی میں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں عالمی نمبر ایک کا منصب حاصل کر لیا۔ ہر کوئی کپتان مصباح الحق اس بات سے ضرور اتفاق کرے گا کہ اس مقام کو حاصل کرنے سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں۔

جہاں ایک طرف پاکستانی ٹیم آئی سی سی کی ایک روزہ رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود ہے تو دوسری جانب ٹیسٹ کرکٹ میں پہلے نمبر کی مستحق ہے۔

اس بات کو ایک تجزیہ نگار نے کیا خوب لکھا کہ کسی بھی ٹیم نے عالمی نمبر ایک بننے کیلئے اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کیا۔

تاہم ہم ایک ایسے وقت میں جی رہے ہیں جب بہت ساری اچھی ٹیسٹ ٹیمیں ہیں اور کوئی مخصوص ٹیم بقیہ ٹیموں سے آگے نہیں۔ گزشتہ چھ سال کے دوران عالمیج نمبر ایک رینکنگ چھ مرتبہ تبدیل ہوئی ہے۔

سری لنکا اس وقت عالمی نمبر چھ ٹیم ہے۔ رواں سال اگست میں انہوں نے اس وقت کی عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو تہس نہش کرتے ہوئے 3-0 سے کلین سوئپ کیا۔ اینجلو میتھیوز کی نوجوان ٹیم کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ابھی تعمیری مراحل سے گزشر رہی ہے اور وہ اس فتح کے بعد وہ کچھ عرصے کیلئے رینکنگ میں جنوبی افریقہ سے بہتر پوزیشن پر بھی آںے میں کامیاب رہی تھی۔

اس سال کے آغاز میں جنوبی افریقہ عالمی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم تھی۔ پاکستان نے 2003 سے جنوبی افریقہ کے خلاف کوئی سیریز نہیں جیتی اور آخری مرتبہ 2013 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا جہاں میزبان ٹیم نے گرین شرٹس کو 3-0 کی شکست سے دوچار کیا تھا۔ اب آج پاکستان عالمی نمبر ایک اور جنوبی افریقہ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔ اگست میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے قبل جنوبی افریقی ٹیم ساتویں نمبر پر موجود تھی لیکن ڈیل اسٹین کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت پروٹیز نیوزی لیںڈ کو شکست دے کر دو درجہ ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

گزشتہ ماہ صورتحال اس حد تک دلچسپ تھی کہ دنیا کی چار بڑی ٹیموں پاکستان، آسٹریلیا، ہندوستان اور انگلینڈ کے پاس عالمی نمبر ایک بننے کا موقع موجود تھا۔

لیکن صرف پاکستان اس اعزاز کے حصول میں کامیاب ہو سکا۔

گزشتہ ماہ کولمبو میں آسٹریلیا کی سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد ہندوستان چند دنوں کیلئے عالمی نمبر رہا۔ ہندوستان کو اپنے دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران اس منصب پر طویل عرصے تک رہنے کا موقع ملا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ ویسٹ انڈین ٹیم نے میزبانی کے تمام فرائض ادا کیے۔ وہ پہلے دو ٹیسٹ میچ محض چار دن میں ہار گئے اور تیسرے ٹیسٹ میچ میں ان کے باآسانی ہتھیار ڈال دینے کے امکانات بھی کافی روشن تھے لیکن بدقسمتی سے موسم ان کی فتح کے آڑے آ گیا جبکہ آخری ٹیسٹ میچ میں بارش کے سبب منسوخ کردیا گیا۔

پانچ دن بعد پاکستان نے اپنے روایتی حریف سے عالمی نمبر کا منصب چھین لیا۔

جب جیرڈ کمبر اور جیارج ڈوبل سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان انگلینڈ سے بہتر ٹیم ہے تو دونوں نے مناسب جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انحصار رینکنگ پر نہیں ہے بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے خلاف کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ان ٹیموں کے خلاف کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جو رینکنگ میں بہتر پوزیشن پر موجود ہوں۔ آپ کے حریف کا معیار دراصل آپ کی کامیابی ناپنے کا پیمانہ بھی ہوتی ہے۔ یہ چیز پہلے درجے پر رہنے کو مزید مسابقتی اور مشکل بنا دیتی ہے۔

تاہم آئی سی سی رینکنگ میں ہوم گراؤنڈ اور بیرون ملک کھیلے جانے والے میچز کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اپنے ہوم گراؤنڈ یا بیرون ملک شکست کو برابر تصور کیا جاتا ہے لہذٰا جو ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر زیادہ میچز کھیلے گی وہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہو گی۔

آئی سی سی کی منطق کے مطابق برابری کی سطح پر تقسیم دوطرفہ سیریز سے ہوم اور بیرون ملک سیریز سے حاصل ہونے والا فائدہ ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ بات محض کاغذی حد تک ہی اچھی نظر آتی ہے۔

آنے والے سیزن میں ہندوستانی ٹیم ہوم گراؤنڈ پر 13 ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں۔ ہوم گراؤنڈ پر ان کی بالادستی کو دیکھتے ہوئے آئندہ چھ میں میں کسی بھی موقع پر وہ عالمی نمبر ایک ٹیم بن جائیں گے۔ انڈیا کی برصغیر سے باہر اگلی سیریز 2018 میں شیڈول ہے۔

اس کے برعکس نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مشکل دوروں سے قبل پاکستان اپنی اگلی سیریز آٹھویں نمبر پر موجود ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلے گا اور بیرون ملک مشکل دوروں کے سبب پاکستان ممکنہ طور پر عالمی نمبر ایک کے منصب سے محروم ہو جائے گا۔

موجودہ فیوچر ٹور پروگرام کے مطابق پاکستان کو آئندہ سال سیریز کیلئے ہندوستانی ٹیم کا میزبان بننا ہے۔

رواں سال کے آغاز نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ ہندوستان کو پاکستان سے متحدہ عرب امارات، سری لنکا یا کسی اور مقام پر چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنی ہے اور وہ معاہدے کے تحت ایسا کرنے کے پابند ہیں۔

ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے متعدد بار سیریز کھیلنے کے وعدے کیے لیکن ہر بار پاکستان کے خلاف دوطرفہ سیریز کے وعدے سے مکر گئے۔ پاکستان اور ہندوستان نے آخری مرتبہ 2007 میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین ٹیسٹ کیلئے میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں میں سے صرف ایشانت شرما نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا ہے اور بقیہ تمام کھلاڑی اب تک کرکٹ کی اس بہترین مسابقت سے لطف اندوز نہیں ہو سکے۔

مصباح کی ٹیم نے متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کو کلین سوئپ شکست سے دوچار کرنے کے بع انگلینڈ کو شکست دی لیکن عالمی نمبر ایک ٹیم نے ابھی تک ہندوستان کا سامنا نہیں کیا جو نمبر دو پر موجود ہے۔ پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان نے اب تک ہندوستان کے خلاف اپنی ٹیم کی قیادت نہیں کی۔

یاسر شاہ اور روی چندہ ایشون دنیا کے دو بہترین اسپنرز ہیں اور ابھی تک ان دونوں کھلاڑیوں کا اسپن کو سب سے بہترین طریقے سے کھیلنے والے کھلاڑیوں سے نہیں ہوا۔

یاسر شاہ اور اجنکیا راہانے نے آج تک ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا سامنا نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کرکٹ کے میدان میں ہندوستان کے سب سے بڑے حریف کے خلاف فتح کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا ہے۔

بہترین کرکٹرز کی پوری نسل کرکٹ کے اس بہترین مقابلے سے مطف اندوز ہوئےبغیر اپنے کیریئر کے اختتام کو پہنچ گئے اور کرکٹ کا کھیل اس کے بغیر یتیم ہے۔

محض تصور کریں کہ اگر شین وارن نے اگر کبھی ایشز سیریز نہ کھیلی ہوتی۔

پاکستان نے ہندوستان کو عالمی نمبر ایک کے منصب سے ہٹا کر یہ عہدہ حاصل کیا اور ہندوستان ممکنہ طور پر پاکستان کو ہتا کر یہ منصب حاصل کر لے گا۔ دونوں ٹیموں نے یہ مقام ایک دیائی تک ایک دوسرے سے کھیلے بغیر حاصل کیا۔

لہٰذا یہ کہنا کہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کون بہتر ہے، اس سے قبل ان دونوں ٹیموں کو دوسرے کے خلاف میدان میں نبردآزما ہونا پڑے گا۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان نے پہلے اور دوسرے منصب پر فائز ہوئے ہیں اور دونوں کے درمیان مقابلے کی آج سے پہلے کبھی اتنی ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی۔

اس کے بغیر رینکنگ اور حتیٰ کہ ٹیسٹ کرکٹ بھی نامکمل ہے۔