’پاناما ہو یا بہاماس، شفافیت اور احتساب ہی بہتر راستہ ہے‘

25 اکتوبر 2016

ای میل

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لغراد نے ایمرجنگ مارکیٹس کانفرنس سے بھی خطاب کیا—فوٹو / رائٹرز
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لغراد نے ایمرجنگ مارکیٹس کانفرنس سے بھی خطاب کیا—فوٹو / رائٹرز

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لغراد کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرز اور بہاماس لیکس ایمانداری، شفافیت اور احتساب کا معاملہ ہے۔

اپنے دو روزہ دورہ پاکستان کے آخری روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ’احتساب اور شفافیت ہی بہتر راستہ ہے‘۔

پاکستانی رہنماؤں کے نام پاناما پیپرز میں سامنے آنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاناما ہو یا بہاماس پیپرز احتساب اور شفافیت ہی آگے بڑھنے کا بہتر راستہ ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان معاشی بحران سے باہر نکل چکا: آئی ایم ایف چیف

انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی کی وجہ سے اب چھپنا اور راہ فرار اختیار کرنا ناممکن ہوچکا ہے۔

پاناما پیپرز کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’اس معاملے کو بنیاد بناکر سیاسی تخریب کاری کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور اس حوالے سے سماعت یکم نومبر کو ہوگی ، پاکستان تحریک انصاف کے 2 نومبر کے اسلام آباد دھرنے کی وجہ سے عوام کو پریشانی ہوگی جبکہ کاروبار اور معیشت پر بھی برا اثر پڑے گا۔

پاکستان کے لیے بہترین مواقع

کرسٹین لغراد نے اپنے افتتاحی بیان میں آئی ایم ایف کے تعاون سے معاشی اصلاحات پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے پر پاکستان کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ پروگرام کے نتیجے میں کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم ہوئی جس سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا جس نے حکومتی سرمایہ کاری اور سماجی اخراجات کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تین ’سال پہلے کے مقابلے میں مزید 15 لاکھ خاندان سماجی بہبود کے پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ بتدریج کم ہورہی ہے اور پاور سیکٹر کی مالیاتی کارکردگی بہتر ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں: ’آئی ایم ایف سے پاکستان کو قرض کی آخری قسط جاری‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے دیگر معاشی مسائل کو بھی حل کرے اور نجی شعبے میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

کرسٹین لغراد نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی رہنماؤں سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں آنے والے ممکنہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جائے اور اس حوالے سے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں ساختیاتی اصلاحات اور ٹیکس پالیسی کے لیے زیادہ سے زیادہ اور قابل تسلسل شرح نمو کا حصول ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں خسارے کو کم، گورننس کو بہتر بنانے اور برآمدات میں اضافے کی صلاحیت رکھنے والے نجی شعبے کے فروغ کی بھی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا تھا کہ صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری،صنفی خلاء کو ختم اور سماجی تحفظ کا احساس پیدا کرکے اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ یکساں طور پر معیار زندگی بلند ہونے کے فوائد وسیع حلقے تک پہنچ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں صنعتی انقلاب نوجوان (جن کی تعداد کل آبادی کا 60 فیصد ہے)اور خواتین کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں‘۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سپورٹ پروگرام کی تکمیل کے بعد بھی پالیسی مذاکرات اور صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے شراکت داری جاری رہے گی۔

اس موقع پر کرسٹین لغراد نے مہمان نوازی اور تعمیری تبادلہ خیال پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف وتھرا اور دیگر سینئر عہدے داروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں‘۔