نشاط گروپ کا برقی، ہائبرڈ گاڑیاں متعارف کرانے کا منصوبہ

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2017

ای میل

لاہور: حال ہی میں ہونڈائی موٹر کمپنی کے ساتھ پاکستان میں گاڑیوں کے اسمبلنگ پلانٹ کے قیام کا معاہدہ کرنے والے نشاط گروپ نے ملک میں برقی اور ہائبرڈ مسافر گاڑیاں متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

نشاط گروپ کے چیئرمین میاں منشاء نے ڈان کو بتایا کہ 'جنوبی کورین کار ساز کمپنی چھوٹی گاڑیوں کی اسمبلی سے کام کا آغاز کرنا چاہتی ہے تاکہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود جاپانی کمپنیوں سے مقابلہ کیا جاسکے'۔

میاں منشاء کا مزید کہنا تھا کہ 'اس بارے میں بات چیت جاری ہے، ہم انہیں رضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی لے کر آئیں، کیونکہ مستقبل برقی گاڑیوں کا ہی ہوگا، ابتداء میں ان گاڑیوں کو درآمد کیا جاسکتا ہے جس کے بعد مقامی طور پر ان کی اسمبلنگ شروع کی جاسکتی ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین نشاط گروپ نے بتایا کہ وہ اس منصوبے میں 12 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کررہے ہیں جس کا قیام فیصل آباد کے نزدیک صنعتی زون میں عمل میں لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہونڈائی اب پاکستان میں گاڑیاں بنائے گی‘

میاں منشاء کے مطابق اس پلانٹ کے لیے زمین کا سودا مکمل ہوچکا ہے۔

اس منصوبے میں نشاط گروپ کا حصہ 42 فیصد، ایک نئی کمپنی ملت ٹریکٹرز کا حصہ 18 فیصد جبکہ جاپانی کمپنی کا حصہ 10 فیصد ہوگا، بقیہ شیئرز ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں آف لوڈ کیے جائیں گے۔

2016 کی آٹو انڈسٹری ڈیویلپمنٹ پالیسی کی مراعات سے متاثر ہو کر نئے، غیرجاپانی کار سازوں کو پاکستانی مارکیٹ کی جانب راغب کرنے کے لیے نشاط گروپ تیسرا بڑا کاروباری گروپ ہے جس نے غیر ملکی کار ساز کمپنی کے ساتھ پاکستان میں کار اسمبلی پلانٹ لگانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے بڑے کاروباری نیٹ ورک یونس گروپ کی کمپنی لکی سیمنٹ بھی کراچی میں عام گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کی اسمبلنگ کے لیے ایک کورین کار ساز کمپنی 'کیا' کے ساتھ شراکت کرچکی ہے۔

جبکہ فرانسیسی کار ساز کمپنی 'رینالٹ'، گندھارا نسان پلانٹ میں 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے اپنے برانڈ کو پاکستان میں متعارف کرانے کی خواہشمند ہے۔

مزید پڑھیں: 'رینالٹ کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا فیصلہ'

چند ہفتوں قبل صحافیوں سے گفتگو میں یونس گروپ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) محمد علی تبہ کا کہنا تھا کہ 'ہم ایک منصوبے پر کام کرنے میں مصروف ہیں، جس کی تفصیلات مکمل ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے'۔

پاکستان میں غیر جاپانی گاڑیوں کے برانڈز کی آمد کے ساتھ ہی پہلے سے مارکیٹ میں موجود جاپانی برانڈز مقابلے کی تیاری کرتے ہوئے نئے ڈیزائن اور ماڈلز میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جبکہ اپنی گاڑیوں کی کوالٹی اور مسافروں کے تحفظ کو بھی عالمی معیار کے برابر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گذشتہ سال جاری ہونے والی نئی آٹو پالیسی کے نتیجے میں پاکستانی مارکیٹ میں نئے برانڈز کو اپنی قسمت آزمانے کا موقع میسر آنے کے بعد دلچسپ خصوصیات سے لیس گاڑیوں کی خرید و فرخت میں ہونے والا اضافہ 2 لاکھ 75 ہزار یونٹس سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ اس میں نئی، پرانی، درآمد شدہ اور یوٹیلٹی گاڑیاں وغیرہ شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 2025 تک پاکستانی مارکیٹ 5 لاکھ ملین یونٹس تک تجاوز کرجائے گی۔

معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق 2000 کے اواخر میں عالمی کساد بازاری اور معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی کمی سے قبل بھی 'ہونڈائی' اور 'کیا' پاکستان کا رخ کرچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'مثبت بات یہ ہے کہ ان دونوں کمپنیوں کی واپسی کے منصوبے میں معروف مقامی کاروباری گروپ بھی شامل ہیں، جس سے ان کمپنیوں کے پاکستانی مارکیٹ میں دیرپا قیام کا اشارہ ملتا ہے'۔


یہ خبر 3 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔