حج پالیسی 2017 منظور، نئے گیس کنیکشنز پر پابندی ختم

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2017

ای میل

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2017 کی منظوری دے دی گئی۔

گذشتہ سال حجاج کو اطمینان بخش سہولیات کی فراہمی پر وزارت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ حجاج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حج کے کوٹے میں زیادہ سے زیادہ سرکاری حصہ رکھا گیا ہے جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو ہدایت دی گئی ہے کہ کرائے میں اضافہ نہ کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا وزیراعظم نے حج اخراجات میں کسی بھی اضافے کو مسترد کیا اور وزارت کو ہدایت دی کہ حجاج کو ٹرانسپورٹ کے لیے جدید بسوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

رواں برس پاکستان کے حج کوٹے میں اضافہ کرتے ہوئے درخواستوں کی تعداد کو بڑھا کر 1 لاکھ 79 ہزار 210 کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2013 میں مسجد الاحرام میں توسیع کی وجہ سے پاکستان کے حج کوٹے میں کمی کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: 4 سال بعد پاکستان کے حج کوٹے میں اضافہ

پاکستان کی موجودہ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی وزارتِ حج سے درخواست کی گئی ہے کہ کوٹے میں کم از کم 15 ہزار کا اضافہ کیا جائے۔

نئی گیس اسکیموں پر پابندی ختم

اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے نئی گیس اسکیموں پر پابندی اٹھانے کی منظوری بھی دی۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ملک میں ایل این جی ٹرمینل 2015 سے فعال ہے اور بہترین پیداوار کررہا ہے جبکہ ایل این جی اور آر ایل این جی تعداد میں خاصا ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کنکشنز پر پابندی کے خاتمے سے ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سابق حکومت نے 2011 میں قدرتی گیس کی سنگین قلت کے باعث نئے گیس کنیکشنز پر پابندی لگادی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بااثر سیاستدانوں کے حلقوں میں گیس کنیکشن کی منظوری

وزیر اعظم نواز شریف نے پابندی میں نرمی کرتے ہوئے گذشتہ برس مئی کے بعد سے بااثر سیاستدانوں اور وفاقی وزراء کے 55 حلقوں میں گیس کنیکشن فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔

کم آمدن والے طبقات کے لیے ہاؤسنگ اسکیم

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے منصوبے پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی، یہ کمیٹی 10 روز بعد ہونے والے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت غریب طبقے کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کے وزیر احسن اقبال نے بھی اجلاس کے دوران ہاؤسنگ کے شعبے کے بارے میں کابینہ کو بریف کیا۔

جعلی ادویات کا معاملہ

وزیر مملکت مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جعلی ادویات کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں زیرغور آیا۔

مریم اورنگزیب کے مطابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے اس حوالے سے پالیسی پیش کی جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت ادویات پر بار کوڈ لگایا جائے گا جس کے ذریعے صارفین، اسمارٹ فون سے بار کوڈ اسکین کرکے دوا کے اصل ہونے کی معلومات لے سکیں گے۔

وزیرمملکت نے کہا کہ ڈرگ ایکٹ 1997 میں ترمیم کے ذریعے جدید ترین ٹیکنالوجی لائی جائے گی اور زائد المیعاد اور جعلی ادویات کی فروخت روکنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرلیا گیا ہے۔