یونس خان پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ 34 سنچریا بھی چکے ہیں— فائل فوٹو: رائٹرز
یونس خان پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ 34 سنچریا بھی چکے ہیں— فائل فوٹو: رائٹرز

کراچی: پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے باز یونس خان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے لیکن اس سے قبل ایک ایسا سنگ میل اپنے نام کر لیں گے جو آج تک کوئی بھی پاکستانی بلے باز اپنے نام نہ کر سکا۔

یونس خان 9ہزار 977 رنز بنا کر پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بلے باز ہیں اور انہیں دس ہزار تکمیل کیلئے محض 23 رنز درکار ہیں جس کے ساتھ ہی وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے بلے باز بن جائیں گے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ جمعے سے جمیکا میں شروع ہو گا جس میں ممکنہ طور پر یونس یہ اعزاز اپنے نام کر لیں گے۔

2000 میں سری لنکا کے خلاف ڈیبیو کے بعد سے یونس خان نے ایک بہترین بلے باز کے طور پر اپنی اہلیت ثابت کرتے ہوئے دنیا بھر کی کنڈیشنز کے مطابق خود کو ڈھالا اور ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ہر ملک کے خلاف سنچری اسکور کی جس میں انگلینڈ اور ہندوستان میں ڈبل سنچریاں بھی شامل ہیں۔

ان کی 53.06 کی اوسط دس سے زائد ٹیسٹ میچ کھیلنے پاکستانی بلے بازوں میں سب سے زیادہ ہے اور وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

شعیب اختر نے یونس خان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ عظیم بلے باز کو ایک بے لوث شخصیت کے مالک انسان اور ٹیم کی اخلاقیات کاس رکھنے والے انسان کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

2011 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے شعیب نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ اور ٹیم کیلئے سچائی و دیانت اور بے لوث کھیل پر میرے نزدیک انہیں یونس کے بجائے ’یونیک خان‘ کا نام دینا چاہیے۔

ایک فائٹر کھلاڑی کی حیثیت رکھنے والے یونس خان نے کئی مواقعوں پر بہترین پیش کرتے ہوئے ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا اور ان کی 34 میں سے ریکارڈ پانچ سنچریاں ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں بنائی گئی ہیں۔

2005 میں مستقل خراب فارم کے بعد یونس کو ڈراپ کرنے کی باز گشت جاری تھی کہ بنگلور ٹیسٹ میں انہوں نے ہندوستان کے خلاف 267 اور ناقابل شکست 84 رنز کی اننگز کھیل کر ناقدین کئ منہ بند کر دیے۔

بحیثیت کپتان ان کا سب سے بڑا اعزاز 2009 کا ورلڈ ٹی20 جیتنا تھا اور یہ بھی انہوں نے ایک ایسے موقع پر جیتا تھا کہ جب چند ہفتوں قبل ہی لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تاھ اور وہ دورہ ادھورہ چھوڑ کر چلی گئی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے سروازے بند ہو گئے تھے۔

یونس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک ٹیم پلیئر کے طور پر یاد رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں ریٹائر ہو جاؤں اور ڈریسنگ روم کا حصہ نہ ہوں تو نوجوان کھلاڑی مجھے رول ماڈل کے طور پر یاد رکھیں۔ ’میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایک ایسے کھلاڑی اور بلے باز کے طور پر یاد رکھا جائے جو ہمیشہ ملک کیلئے کھیلا‘۔

خیبر پختونخوا کے علاقے مردان سے تعلق رکھنے والے یونس نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی سے کیا اور 2000 میں راولپنڈی میں کھیلے گئے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کے خلاف سنچری بنا کر شاندار کیریئر کی نوید سنائی۔

ا کے بعد انہوں نے مختلف اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا اور ایک ٹرپل سنچری اور تین ڈبل سنچریوں سمیت مزید 33 سنچریاں اسکور کیں۔

حال ہی میں انہوں نے سری لنکا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں سات گھنٹے سے زئاد بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابل شکست 175 رنز کی باری کھیلی جس کی بدولت پاکستانی ٹیم 315 رنز کا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔