یادِ ماضی کی پٹری پر دوڑتی ٹرین کا سفرنامہ

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2017

ای میل

دفتر اور اسکول کے اوقات سے لے کر منٹوں سیکنڈوں میں سمارٹ فونز ٹیبلٹس اور آی پیڈز پر بھاگتے دوڑتے انٹرنیٹ تک ہر طرف رفتار ہی رفتار ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بتایا جاتا تھا کہ انسانی دماغ کی اہلیت آپ کی رفتار اور سوچ سے کہیں زیادہ ہے اور ایک یہ وقت ہے کہ سمجھایا جانے لگا ہے کہ موبائل ایک جگہ رکھیے، انٹرنیٹ بند کیجیے اور یوگا کر کے اپنے دماغ کو سکوں لینے دیجیے۔

10 سے 12 سالوں میں زندگی کی رفتار کو جنگی طیاروں سی تیزی اور پھرتی لاحق ہو گئی ہے۔ بھاگتی دوڑتی موسیقی، اڑتی تیز رفتار سواری، جدید ترین موبائل، زندگیاں اس قدر پھرتیلی ہو چکی ہیں جتنی پہلے کبھی نہ تھیں۔

بے مقصد اور بیکار تیز رفتاری کے جنوں نے جیسے جکڑ لیا ہے۔ یہی بری عادت تھی کہ جو ہمیں مجبور کرتی تھی کہ ہم لاہور سے اپنے آبائی شہر رحیم یار خان تک کا سفر بزریعہ اے ٹی آر 45 منٹ میں طے کریں بجائے چھ گھنٹے کے ریل کے سفر کے۔

قطع نظر ایئرپورٹ کی دو تین گھنٹوں کی اس خواری کے جو 45 منٹ کے سفر کے لیے ہمیں سہنا پڑتی، اور ایک منٹھار ایکسپریس نما جہاز کے تجربے کے، جس کے اے سی اکثر کام کرنا پسند نہیں فرماتے اور کپتان صاحب کی مہارت کے باوجود جو اکثر ہوا میں اڑنے کی بجائے ٹوٹی پھوٹی سڑک پر چلتا محسوس ہوتا ہے۔ کئی ٹھوس دلایل کے باوجود ہمیں ناگزیر وجوہات کی بنا پر اے ٹی آر نہ مل سکا اور بزنس ٹرین کا سفر ہماری مجبوری بن گیا۔

ہزار دوست احباب نے تسلیاں دیں کہ بھئی کچھ نہیں ہوتا مگر ہمیں خدانخواستہ حادثے کا خوف، ڈاکوؤں کا ڈر، دہشتگردی کا خطرہ، گندے باتھ روم، ٹوٹی سیٹوں کا خوف ایسا مسلط تھا کہ سنبھالے نہ سنبھلتا تھا۔ خطرات تو اگرچہ ہوائی سفر کے ساتھ بھی جڑے تھے مگر ان خطرات سے کھیلنے کے ہم عادی تھے اور پاکستان ریلوے کی صورت دیکھے ایک طویل عرصہ ہو چکا تھا۔

بہرحال بڑے لوگوں کی محنت سے دل آمادہ ہوا۔ لاہور ریلوےاسٹیشن پر اترے تو اڑے ہوئے لال رنگ کی قمیضیں پہنے جی دار قلی نے لپک کر ہمارے چار پانچ وزنی بیگ اپنے دائیں، بائیں اور اوپر چڑھا لیے تو ہم نے جتاتی نگاہوں سے میاں صاحب کی طرف دیکھا جو ایک بیگ اٹھائے ہانپ رہے تھے۔

لاہور ریلوے اسٹیشن— تصویر صوفیہ کاشف
لاہور ریلوے اسٹیشن— تصویر صوفیہ کاشف

شور اور ہجوم میں کچھ دیر کھڑے ہو کر ٹکٹ کا انتظار خاصا دشوار مرحلہ گزرا کیونکہ اتنے رش میں ہم دونوں بچوں کا ہاتھ تھامے ہونقوں کی طرح کبھی ان کے آگے اور کبھی پیچھے دیکھتے رہے کہ کہیں کوئی خدانخواستہ ہمارے بچے نہ اٹھا کر لے جائے، کبھی سامان کے تھیلے گنتے کہ ہمارے جوتے کپڑے سے بھرے بستے کوئی خزانہ سمجھ کر نہ اڑا لیجائے۔

بڑی مشکل سے بچے سنبھالے سیڑھیاں چڑھتے اوپر پہنچے تو ہجوم بھی کم ہوا اور سکون اور اطمینان سے کھڑے کچھ مسافر دیکھ کر دل کو حوصلہ بھی ہو ا۔ پلیٹ فارم پر ریل گاڑی کے انتظار میں کھڑے ہوئے تو سالوں پہلے کے سفر یاد آنے لگے جب تعلیم کے سلسلے ميں ایسے سفر ہمارا ہفتہ وار معمول تھا۔

اردو رسائل سے لدا پھدا ایک کتاب فروش سامنے آیا تو کتاب کی محبت اوراردو کے لیے ترسے ہوئے ارمان شدت سے جاگ اٹھے۔ فیملی کے ساتھ رسائل پڑھنے کی نوبت کم ہی آتی ہے پھر بھی سفر کی رومانویت بحال کرنے کی خاطر کچھ رسائل خرید لیے۔

جن کو پہلے صفحہ سے آگے پلٹ تو نہ سکے مگر پورا رستہ یہ تسلی ضرور رہی کہ زاد راہ موجود ہے، اگر کبھی جو بور ہوئے اور سفر نہ ختم ہوا، سب خراٹے لینے لگیں اور ہم تارے گنننے پر آ جائیں تو ایسے رسالے تھیلے میں ہیں جو بوقت ضرورت دل بہلانے کا کام سر انجام دیں گے۔ یہ اور بات کہ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے وہ وقت ہم پر نہ آیا چونکہ ان چھ گھنٹوں میں کوئی سویا نہ ہم بور ہوئے۔

پلیٹ فارم پر انتظار میں کھڑے ریل سفر کا رومانس ذرا ذرا بیدار ہونے لگا۔ اب ذرا جوش میں آ کر آس پاس کیفے کی تلاش میں نظر دوڑائی تو پاس ہی ایک کھو کھا رنگ برنگی چپس کے پیکٹ اور کوک فانٹا کی بوتلوں سے لدا پھدا نظر آیا۔

اگرچہ یہ ڈرنکس بھی صحت بخش خوراک کی کوشش کی وجہ سے بہت پیچھے رہ چکے، پھر بھی زبان پر وہی رومانس جاگا جب پوری جی بھر کر عیاشی کے لیے صرف ایک کوک یا فانٹا کی بوتل کافی ہوتی تھی۔

چپس اور دوسرے اسنیکس کی طرف سے بھی خاصے تحفظات تھے مگر دل نے کہا کہ آج کی رات ضد نہ کر! اور ہم نے اپنی عقل و شعور کو ذرا پرے سرکا کر دل کی مانی اور ایک تھیلا رنگ برنگے آلو کے قتلوں، جوسز اور اسنیکس سے بھر لیا۔ ایک رومینٹک سفر کے لیے زاد راہ مکمل ہوا۔

صحت مند جواں ہمت قلی نے بڑی مہارت سے ہمارا سامان بزنس ٹرین کے ایک علیحدہ ڈبے میں پہنچا دیا۔ ایک دفعہ تو دل سے دعا نکلی کہ کاش ان ہمت والے انسانوں پر بھی روزگار کی نعمتیں کھل کر برسا کریں، جو وہ مشکل کام کرتے ہیں جو ہمارے نوابزادوں سے ہو نہیں پاتے۔ ڈبے کا تھوڑی سی تیکھی نگاہ سے جائزه لیا تو کوئی خاص بگاڑ نظر نہ آیا۔ کوالٹی میں اپنے اے ٹی آر والا ہی معیار نظر آیا۔

ہمارے محدود ذرائع سے پتہ چلا کہ ٹرین میں وائی فائی کی سہولت میسر ہے مگر استفادہ کیسے کرنا ہے کچھ خبر نہ تھی۔ موبائلوں میں ابھی تک ایتصلات کی سمیں تھیں اور ٹرین کے وائی فائی سسٹم کی سائنس سے ہم مکمل نابلد، یعنی صحیح معنوں میں ہم بغیر موبائل بغیر انٹرنیٹ کے، زمانے سے دس بارہ سال پیچھے جا پہنچے تھے۔ اسی مشکل نے اگلے چھ گھنٹے ہمیں خاصے خوشگوار انداز میں گزارنے کا موقع دیا۔

اگر جو ہمارے سمارٹ فونز آن ہوتے اور ٹیبلٹس پر انٹرنیٹ چل رہا ہوتا تو ہم میں سے کون ایسا تگڑا تھا جو ان سے نظر ہٹا کر باہر کے فصلی اندھیرے دیکھتا۔ اب چھ گھنٹے کا وقت تھا، ہم بیکار موبائلز، بے جان ٹیبلٹس اور دو بچوں سمیت چار لوگ ایک ذاتی ڈبے میں بند تھے اور فرصت سے ایک دوسرے کو سننے اور دیکھنے پر مجبور تھے۔

کھڑکی سے باہر پنجاب کے ایک جیسے چھوٹے بڑے شہر، ایک جیسی سڑکوں اور ایک جیسے کھیت کھلیان کا نظارہ پیش کرتے رہے۔ چمکتی روشنیوں اور اونچی عمارتوں کے بجائے دور تک پھیلے اندھیرے، سکوت اور آسمان پر چمکتا ایک آدھا سفید روشن چاند تھا، جو کبھی کھڑکی سے جھانکنے لگتا اور کبھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔

مگر ان چھ گھنٹوں کے گزرنے کی کوئی خاص تھکاوٹ ہوئی نہ وہ الجھن اور بیزاری ہوئی جس کی عادت ساماں کی ٹرالی گھسیٹتے اور دو دو گھنٹے ایئرپورٹ پر انتظار کرتے عادت پڑ چکی ہے۔

لاہور ریلوے اسٹیشن — صوفیہ کاشف
لاہور ریلوے اسٹیشن — صوفیہ کاشف

ایک بہتر احساس ہو کہ زندگی میں کبھی کبھی ایک نیا تجربہ کس قدر ضروری ہو جاتا ہے ورنہ انسان ایک سا کام کر کے آدم بیزار سا ہو جاتا ہے۔

کوک اور فانٹا کے چند گھونٹ اسی لگن سے بھرے جس شوق اور جنون سے اپنے لڑکپن کی غفلت بھری زندگی میں بھرے جاتے تھے۔ رنگ برنگی چپس اور دال کھائی، رسالوں کی صورت دیکھی اور خوب گپ شپ لگائی۔ بچوں کے ساتھ وہ چھوٹے چھوٹے کھیل کھیلے جن کے لیے ہماری آج کی مصروف زندگی میں اکثر وقت نہیں ہوتا۔

ان کی کہانیاں اور گانے سنے اور جتنی پہلیاں ان کو آتی تھیں ان پر خوب دماغ کھپایا، جو دو چار ہم کو آتی تھیں ان سے ہم نے بھی رنگ جمایا۔ جب ایک خاندان ساتھ ہو اور فارغ ہو تو رسالے کھولنے کی فرصت بھی کیسے مل سکتی تھی۔ حتیٰ کے اندھیری رات کے مسافر چاند سے سرگوشیوں کے مواقع بھی کم تھے۔

مگر یہ چھ گھنٹے ایک خوبصورت یاد کی طرح بیت گئے۔ اگر کبھی آپ کو بھی بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارے ہنستے مسکراتے عرصہ بیت چکا ہے تو آپ بھی کسی دور کی منزل کے لیے ٹرین کے ٹکٹ خریدیں اور وائی فائی موبائل سب چھوڑ کر ایک ڈبے میں بند ہو کر روانہ ہو جائیں۔

کوئی بے جا مداخلت کرنے والا، نہ زمہ داری، بزنس اور نہ کوئی مصروفیت! جو سکوں آپکو اس فراغت میں ملے گا شاید مہینے بھر کی گزاری چھٹیوں میں بھی نہ ملے۔ ساری احتیاط، وسوسے، اندیشے، زمہ داریاں، میل ملاقات غرضیکہ ہر مصروفیت ہم نے ڈبے سے باہر چھوڑ کر خود کو اندر بند کر لیا تھا۔

پی آئی اے کے کھانے سے کنی کترا جانے والے ہم، ریلوے کی چائے کے آگے سب بھول گئے، کیسا دودھ، کیسے برتن، جیسے سب وسوسے نہ جانے کہاں چلے گئے! چھ گھنٹے کے سفر میں کم سے کم اسنیکس کے ساتھ دو دو کپ چائے کے انڈیلے۔

استقبال کو آئے میزبانوں نے ہمارے کھلے خوشگوار چہرے حیرت سے دیکھے اور جب ہم نے ہزار واویلا کرنے کے بجائے سب اچھا کی رپورٹ دی اور ان کو ہمیشہ کے لیے اندرون ملک سفر ٹرین پر کرنے کا فیصلہ سنایا تو انہیں کافی حیرت ہوئی۔

دعا ہے کہ کچھ مزید ٹرینیں میدانوں کے ساتھ پاکستانی صحراؤں، دریاؤں، پہاڑوں اور وادیوں میں بھی گھما کریں تاکہ ہمیں خوبصورت نظارے دکھانے اور پھرانے کے قابل ہو جائیں تو یقیناً ریلوے کا سفر آج کے اس تھکے دور میں ایک خاصا پرافزا اور مقبول سفر بن سکتا ہے۔