کراچی: زیر حراست صحافی 20 گھنٹے بعد رہا

10 جولائ 2017

ای میل

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے نجی اخبار کے صحافی کو 20 گھنٹے طویل حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔

انگریزی اخبار روز نامہ ’دی نیشن‘ سے تعلق رکھنے والے صحافی عبداللہ ظفر کو گذشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سادہ لباس اہلکاروں نے لائیر سوسائٹی میں قائم ان کے مکان سے حراست میں لیا تھابعد ازاں انہیں 20 گھنٹے کے بعد گذشتہ رات کراچی ایئرپورٹ کے قریب چھوڑا دیا گیا۔

عبداللہ نے اپنے ایک قریبی دوست کو بھیجے گئے پیغام میں لکھا ہے کہ ’میری حراست کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں، اور نہ ہی مجھے اغوا کرنے والوں کی شناخت ہی ہوسکی ہے‘۔

مزید پڑھیں: کراچی:صحافی کوسادہ لباس افراد نے 'حراست' میں لے لیا

عبداللہ ظفر کے والد نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات ساڑھے 3 بجے، 10 سے 15 افراد ان کے گھر آئے اور ان کے بیٹے کو ہمراہ لے گئے، ان افراد کی شناخت کے حوالے سے عبداللہ ظفر کے والد نے بتایا کہ ان میں سے دو افراد نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی جبکہ دیگر افراد سادہ لباس میں ملبوس تھے۔

عبداللہ ظفر کے والد نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد شاہ فیصل کالونی میں مقیم ان کے بھائی کو بھی ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔

صحافی کے والد کا کہنا تھا کہ سادہ لباس افراد نے ان کے بیٹے پر 5 کروڑ روپے کا جعلی چیک دینے کا الزام لگایا تھا، جو ان کے مطابق باؤنس ہوگیا تھا۔

تاہم عبداللہ ظفر کے والد کا دعویٰ تھا کہ ان کا بیٹا معصول ہے اور اس پر لگائے جانے والے الزامات کا بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے بیٹے کا کسی مذہبی اور سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سچل تھانے کے افسران نے ان سے درخواست وصول کی لیکن ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2016: ’پاکستان میں کوئی صحافی قتل نہیں ہوا‘

سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے ڈان کو بتایا کہ پولیس نے عبداللہ ظفر کو حراست میں نہیں لیا تھا، اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) نے انہیں صحافی کے لاپتہ ہونے کے معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی تھی۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ انہوں نے سچل تھانے کے ایس ایچ او کو لاپتہ صحافی کے اہل خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر مقدمے کے اندراج کی ہدایت کی تھی۔

علاوہ ازیں دی نیشن کے مقامی ایڈیٹر، ضمیر شیخ نے ڈان کو بتایا کہ عبداللہ ظفر ان کے اخبار میں گذشتہ 3 سال سے پولیٹیکل بیٹ پر کام کررہا ہے۔