سیکیورٹی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نمازیوں نے مسجد سے باہر نماز ادا کی—فوٹو: اے پی
سیکیورٹی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نمازیوں نے مسجد سے باہر نماز ادا کی—فوٹو: اے پی

یروشلم: مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے عائد کردہ نئے سیکیورٹی اقدامات کو فلسطینی مسلمانوں نے مسترد کرتے ہوئے مسجد میں داخلے سے انکار کردیا۔

یاد رہے کہ 14 جولائی کو مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز جمعہ سے قبل فائرنگ کرکے 3 فلسطینیوں کو قتل کردیا تھا۔

واقعے کے حوالے سے اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ تینوں فلسطینیوں نے باب الاسباط سے نکل کر اسرائیلی پولیس اہلکاروں پر مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی، جس سے 3 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اس حملے کے فوراً بعد قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کرتے ہوئے تاریخی شہر القدس کی مکمل ناکہ بندی کردی تھی۔

مزید پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ، 3 فلسطینی جاں بحق

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اتوار (16 جولائی) کو اسرائیلی حکام نے کیمرے اور واک تھرو گیٹس نصب کرنے کے بعد مسجد کو نمازیوں کے لیے کھول دیا تاہم فلسطینی مسلمانوں نے نئے سیکیورٹی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مسجد میں داخلے سے انکار کردیا۔

گذشتہ روز یروشلم میں حرم الشریف کمپاؤنڈ میں مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور 'اللہ اکبر' کے نعرے لگائے۔

مسجد اقصیٰ سے ظہر کی اذان کے بعد نمازیوں کی بڑی تعداد نے سیکیورٹی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسجد سے باہر نماز ادا کی۔

مسجد کے ڈائریکٹر شیخ عمر قصوانی نے رپورٹرز کو بتایا کہ 'ہم اسرائیلی حکومت کی عائد کردہ تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہیں، ہم اس دھاتی جانچ کے عمل (واک تھرو گیٹس) سے گزر کر مسجد میں داخل نہیں ہوں گے'۔

52 سالہ فلسطینی شہری وحیب لفطاوی کا کہنا تھا کہ 'عبادت گاہ اور مسجد کے سامنے ایسی چیزوں کو نصب نہیں کیا جانا چاہیے، ہم اسے مسترد کرتے ہیں ورنہ یہ اسٹیٹس کو بن جائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے دو فلسطینی جاں بحق

واضح رہے کہ جمعے کو پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد اسرائیلی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کو بند کرنا سیکیورٹی چیکنگ کے لیے ضروری ہے۔

بعد ازاں پولیس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ مسجد کے مرکزی کمپاؤنڈ تک جانے والے دو دروازے واک تھرو گیٹس نصب کیے جانے کے بعد کھولے جارہے ہیں۔

پیرس کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ان سیکیورٹی اقدمات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اعلیٰ سیکیورٹی قیادت سے بات چیت کے دوران میں نے انہیں واک تھرو گیٹس نصب کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور جلد ہی مسجد کے باہر موجود کھمبوں پر کیمروں کی تنصیب کا آغاز کردیا جائے گا'۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی مسجد کے احاطے کی سیکیورٹی میں تبدیلی کی پیشکش تنازعات کا سبب بن چکی ہے۔

مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے لیے تیسری مقدس ترین جگہ ہے، تاہم یہودی بھی اس سے عقیدت رکھتے ہیں، یہ مقدس جگہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی کا باعث رہی ہے اور یہاں پرتشدد واقعات ہوتے رہتے ہیں.

اگرچہ یہودی یہاں آسکتے ہیں تاہم انھیں مسجد کے احاطے میں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے.