—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

کہا جاتا ہے کہ زیادہ پیدل چلنا، چہل قدمی کرنا اور ایکسرسائیز کرنا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں۔

لیکن جدید دور میں گاڑیوں اور دیگر سہولیات کی وجہ سے لوگوں نے پیدل چلنا کم کردیا ہے۔

امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ایک رپورٹ کے مطابق جسمانی ایکسرسائیز نہ کرنے کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں سے دنیا بھر میں سالانہ 50 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یومیہ ایک ہزار قدم چلنے والے افراد زیادہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں، تاہم یہ لازمی نہیں کہ ایک ہزار قدم ہی چلا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے چہل قدمی زیادہ مفید
—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اچھی صحت کے لیے چہل قدمی لازمی ہے، اور عمر کے لحاظ سے ہرکسی کو اپنے اپنے حساب سے چہل قدمی کرنی چاہئیے۔

ایک حالیہ عالمی تحقیق کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ چہل قدمی کرنے یا پیدل چلنے والے افراد کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے، جہاں کے لوگ یومیہ کم سے کم 6 ہزار 880 قدم چلتے ہیں۔

ایکٹوٹی انکئالٹی کی جانب سے دنیا کے 45 ممالک میں کیے جانے والے سروے سے پتہ چلا کہ سب سے کم چہل قدمی یا پیدل سفر سعودی عرب کے لوگ کرتے ہیں، جب کہ کم چہل قدمی کرنے والے آخری 3 ممالک میں آسٹریلیا، دوسرے اور کینیڈا تیسرے نمبر ہے۔

مزید پڑھیں: چہل قدمی موٹاپے سمیت کئی بیماریوں کا علاج
—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکا کا چہل قدمی یا پیدل سفر کرنے والے 45 ممالک میں 30 واں نمبر ہے، جب کہ زیادہ پیدل چلنے والے یا چہل قدمی کرنے والے پہلے 5 ممالک میں ہانگ کانگ پہلے، چین دوسرے، سویڈن، تیسرے، جنوبی کوریا چوتھے اور جمہوریہ چیک پانچویں نمبر پر ہے۔

پیدل چلنے یا چہل قدمی کرنے والی قوموں میں جاپانیوں کا چھٹا نمبر، ترکیوں کا 17 واں، اسرائیلیوں کا 23 واں، جب کہ بھارتیوں کا 38 واں نمبر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روزانہ کچھ دیر چہل قدمی ہارٹ اٹیک سے بچائے

اس سروے میں دنیا کے کل 45 ممالک کا جائزہ لیا گیا، سروے میں پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا اور بھوٹان جیسے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو