پاکستان ترقی کے موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے: آئی ایم ایف

22 جولائ 2017

ای میل

کراچی: پاکستان میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مقامی نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر اقتصادی استحکام گذشتہ 3 برس کی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں حاصل ہوا، لیکن ان فوائد کو مستقل کرنے کے لیے اسی معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے توخیر مرزو نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مستقبل میں بہتری سخت محنت کے ذریعے مستحکم منصوبوں کی وجہ سے ممکن ہوئی اور اگر موجودہ معاشی اصلاحات جاری نہیں رہتیں تو وسیع پیمانے پر اقتصادی استحکام بھی کمزور ہوجائے گا۔

انہوں نے کرنٹ اکاؤنٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے اور کمزور مالیاتی نظام کو بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ کا بڑھتا ہوا خسارہ باعث تشویش ہیں جبکہ بجٹ آمدنی کو بڑھانے کے لیے معنی خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان معاشی بحران سے باہر نکل چکا: آئی ایم ایف چیف

آئی ایم ایف نمائندے نے کہا کہ پاکستان کی معیشت صرف ایک انجن پر چل رہی جو درآمدات ہیں جبکہ دوسرا انجن یعنی برآمدات ابھی مشکلات کا شکار ہے، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کی شرح میں نرمی اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو برآمدات کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کاروباری برادری سے پہلے سے زیادہ عملی طریقے سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ان کے ساتھ برآمدات کو بڑھانے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جاسکے۔

پاکستان میں بجلی کے بحران کے حوالے سے توخیر مرزو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نظام میں بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے لیکن بجلی کی فراہمی کے کمزور نظام میں اصلاحات کیے بغیر مزید بجلی پیدا کرنے سے ملکی جاری قرضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ ملک کو توانائی کے منصوبوں میں طویل المدتی استحکام پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں توانائی کے شعبے کے مستقل حل کے لیے اقدامات اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معاشی صورت حال'سازگار':آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کی جانب سے رواں ہفتہ آرٹیکل 4 رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد توخیر مرزو اس وقت ملک کی تجارتی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔

رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کو دوبارہ توازن میں لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گذشتہ نیشنل فائننشل کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں وسائل اور ذمہ داریوں کی منتقلی میں فرق تھا، جس کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مراعات میں بھی واضح فرق ہے، انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں کو بھی مستحکم کیا جانا چاہیے۔

آئی ایم ایف نمائندے نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے اس فرق کا نتیجہ مالیاتی نظام کی لچک میں کمی، بڑے دھچکے سنبھالنے کی طاقت میں کمی اور غیر متوازن نظام کی صورت میں نکلتا ہے۔


یہ خبر 22 جولائی 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی