سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں سے برتر کون؟

اپ ڈیٹ جولائ 27 2017

ای میل

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں ایک منفرد سوال موضوع بحث بنا رہا کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں سے کون سا ادارہ برتر ہے؟

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بحث کا آغاز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے کمیٹی کو جمع کرائی جانے والی قرارداد کے بعد ہوا۔

پی ٹی آئی سینیٹر کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ان تمام سیاستدانوں کے بارے میں بریفنگ دیں جنہوں نے گفٹ اسکیم کے تحت اپنے لیے ٹیکسوں میں رعایت حاصل کی۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی ارکان کو آگاہ کیا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے موصول ہونے والے جواب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارلیمان اس نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کی مجاز نہیں۔

سینیٹر مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ 'یہ بات عجیب ہے کہ ایف بی آر یہ معلومات سپریم کورٹ اور مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کو بھیج سکتی ہے تاہم ہم اس کے اہل نہیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'معاملہ یہ ہے کہ اس کمیٹی کے دائرے میں آنے والے محکمے پر ڈیٹا ٹیمپرنگ کا الزام ہے لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سے وضاحت طلب کریں'۔

کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ یہ ناانصافی ہے کہ ایف بی آر ایسے معاملے پر کمیٹی کو بریف کرنے کے لیے تیار نہیں جو پہلے ہی عوامی کیا جاچکا ہے۔

تاہم چیئرمین کے اس معاملے پر دیگر ارکان کی رائے لینے سے قبل ہی پاکستان مسلم لیگ-نواز کے سینیٹر مشاہداللہ نے مداخلت کرتے ہوئے قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر کو سیاسی بحث کو آغاز دینے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

لیگی سینیٹر کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق خزانہ یا معیشت سے نہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آپ اس معاملے کو کمیٹی میں کیوں اٹھارہے ہیں جبکہ اعلیٰ عدالت میں یہ معاملہ زیرِ غور ہے'۔

تاہم جب مشاہداللہ نے محسوس کیا کہ کمیٹی چیئرمین ان کی بات سے قائل نہیں ہورہے تو حکمراں جماعت کے سینیٹر نے برہمی کا اظہار کیا۔

چیئرمین مانڈوی والا نے انہیں وضاحت دینے کی کوشش کی کہ دراصل معاملہ محکموں (مثلاً ایف بی آر) کے رویے کا ہے لیکن مشاہداللہ نے اس معاملے کو 'پوائنٹ آف نو رٹرن سے آگے' لے جانے کی دھمکی دی۔

سینیٹر مشاہداللہ کا کہنا تھا کہ 'اگر ہم عدالتی مقدمات کا سامنا کرنے والےافراد کے خلاف ایسے معاملات پر بحث کریں گے تو آپ سب کو علم ہے کہ اس کے لیے پھر کسے تیار رہنا چاہیے'۔

انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ 'دیگر پارلیمنٹیرینز اور شخصیات بھی ہیں جنہیں اس کمیٹی میں پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑے گا، میں آپ کے کاغذات بھی کمیٹی کے سامنے پیش کروں گا، کوئی نہیں بچے گا اور کسی کو چھوڑا نہیں جانا چاہیے'۔

اس موقع پر سینیٹر الیاس بلور اور محسن لغاری نے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہوئے چیئرمین کو تجویز دی کہ وہ اس معاملے کو نظرانداز کریں اور اسے عدالت عظمیٰ پر چھوڑدیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا نے ایف بی آر کے جواب پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

تاہم سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے لیگی سینیٹر کو تحمل کا مشورہ دیتے ہوئے درخواست کی کہ وہ اپنے دعوؤں کو پورا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ آپ کی ذمہ داری اور میری ڈیوٹی ہے کہ مجھ سے جڑی معلومات یہاں پیش کی جائے، اس سے پہلے کہ ہم مزید آگے بڑھیں، کیوں نہ میری دستاویزات کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے؟ یا کم از کم میری غلطیوں کی تفصیلات مجھے بتائیں؟'۔

جس پر سینیٹر مشاہداللہ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ 'نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ پھر مجھ سمیت سب کو تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا، اس وقت میرے پاس آپ سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں، مگر جب وقت آئے گا تو میں حاصل کرلوں گا'۔

بعد ازاں یہ معاملہ چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا کے حوالے کردیا گیا، طارق پاشا نے آگاہ کیا کہ قانون کے تحت پارلیمنٹ ایف بی آر سے ٹیکس کی تفصیلات طلب کرنے کی مجاز نہیں۔

کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سعود مجید کا کہنا تھا ہمیں سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے اقدامات سے محتاط رہنا چاہیے۔

جس کے بعد سینیٹر اعظم خان سواتی نے تجویز دی کہ معاملہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے حوالے کردیا جانا چاہیے۔