نیب تحقیقات میں شامل ہونے کیلئے شریف خاندان کے پاس ’آخری موقع‘

اپ ڈیٹ 25 اگست 2017

ای میل

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) 8 ستمبر کو شریف خاندان کے خلاف 4 ریفرنس دائر کرنے سے قبل تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے انہیں ایک آخری موقع دے سکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر نیب افسر نے ڈان کو بتایا کہ ’نیب سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز، صاحبزادی مریم صفدر اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) صفدر اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے آخری اور تیسرا نوٹس جاری کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 ریفرنس ممکنہ طور پر سابق وزیراعظم، ان کے بچوں اور داماد جبکہ ایک ریفرنس ان کے سمدھی اسحٰق ڈار کے خلاف دائر کیا جائے گا، اس کے علاوہ نیب کی جانب سے تیسرے نوٹس کے باوجود پیش نہ ہونے کی صورت میں شریف خاندان کے افراد کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کرنے کے حوالے سے بھی بیورو میں جمعرات (24 اگست) کے روز تبادلہ خیال ہوا، تاہم اس حوالے سے فیصلے کا اسحقاق صرف نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کے پاس ہے۔

نیب کے سینئر افسر کا کہنا تھا کہ بیورو نے گذشتہ روز شریف خاندان سے متعلق تعطل کا شکار کیسز کی تحقیقات کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی۔

بیورو کے ایک اور افسر کا کہنا تھا کہ نیب مذکورہ رپورٹ کو سپریم کورٹ کے نگران جج کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد شریف خاندان کی جانب سے تعاون نہ کرنے سے متعلق ان کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت عظمیٰ کی ہدایات کا انتظار کرے گی۔

مزید پڑھیں: ایک مرتبہ پھر شریف خاندان کا کوئی فرد نیب میں پیش نہیں ہوا

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی جانب سے تحقیقات میں شامل نہ ہونے پر ان کے گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے حوالے سے نیب عدالت عظمیٰ کی رائے معلوم کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے شریف خاندان کی جانب سے تحقیقات میں تعاون نہ کرنے اور اس حوالے سے مزید کارروائی کیلئے سپریم کورٹ کو اپنی رپورٹ میں رہنمائی کرنے کی استدعا کی ہے‘۔

دوسری جانب شریف خاندان نے نیب میں پیش نہ ہونے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، شریف خاندان کے وکیل امجد پرویز نے نیب کو لکھی جانے والی تحریر میں بتایا تھا کہ ان کی تحقیقات ’سراسر فضول‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی کارروائی، نیب آرڈیننس 1999 اور بیورو کے مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔

قانون اور نیب کے عمل کے حوالے سے ان کا موقف تھا کہ کیس کو مختلف مراحل سے گزرنا چاہیے جیسا کہ شکایت کی تصدیق، انکوائری کی اجازت اور متعلقہ ثبوتوں کے حصول کے بعد انکوائری کو تحقیقات میں منتقل کرنا، جو نیب کے قوانین میں درج ہیں۔

شریف خاندان کے خلاف کارروائی میں تیزی

شریف خاندان کے وکیل کے اس موقف پر نیب کے حکام نے ڈان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بیورو کو مذکورہ تحقیقات کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور نیب کی کارروائی قانون کے مطابق ہے، ’ہم نے کارروائی کو مزید تیز کردیا ہے‘۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد مہدی کے مطابق نواز شریف اور ان کے بچے اُس وقت تک نیب میں پیش نہیں ہوں گے جب تک سپریم کورٹ نا اہلی کیس پر نظرثانی پٹیشن کا فیصلہ نہیں کرلیتی، اسحٰق ڈار نے بھی نیب کے سامنے مذکورہ پٹیشن کا معاملہ اٹھایا ہے۔

نیب حکام کے مطابق شریف خاندان کے ارکان کے خلاف پہلے ریفرنس میں آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے نتائج شامل کیے جائیں گے۔

گذشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نا اہل قرار دے دیا تھا جبکہ نیب کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات کی روشنی میں 6 ہفتوں کے اندر راولپنڈی احتساب عدالت میں 4 ریفرنسز دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب لاہور نے شریف خاندان کو 22 اگست کو طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق بھی ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ان کمپنیوں میں فلیگ شپ انویسٹمنٹس، ہارٹ اسٹون پراپرٹیز، قیو ہولڈنگز، کوئنٹ ایٹون پلیس 2، کوئنٹ سیلونی، کوئنٹ، فلیگ شپ سیکیورٹیز، کوئنٹ گلوکیسٹر پلیس، کوئنٹ پیڈنگٹن، فلیگ شپ ڈویلپمنٹس، الانہ سروسز، لنکن ایس اے، شیڈرن، انبیشر، کومبر اینڈ کیپیٹل ایف زیڈ ای (دبئی) شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسحٰق ڈار کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ، ہارٹ سٹون پراپرٹیز، قیو ہولڈنگز، کیونٹ ایٹن پلیس، کیونٹ سولین لمیٹڈ، کیونٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سکیورٹیز لمیٹڈ، کومبر انکارپوریشن اور کیپیٹل ایف زیڈ ای سمیت 16 اثاثہ جات کی تفتیش کی جائے گی۔


یہ رپورٹ 25 اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی